(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے نماز میں لقمہ دینے کے متعلق فرمایا ہے، کہ نماز میں اگر امام کی غلطی پر مقتدی کو شک ہے تو لقمہ کی اجازت نہیں جب تک کہ یقین نہ ہو، جیسا کہ امام اہلسنت نے لکھا ہے: "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تو محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں بلکہ صبر واجب بعد سلام کے تحقیق کر لیا جائے اگر قاری کی یاد صحیح نکلے تو فبہا اور ان کی یاد ٹھیک ثابت ہوئی تو تکمیل ختم کے لئے حافظ اتنے الفاظ کا اور کسی رکعت میں اعادہ کر لے گا حرمت کی وجہ ظاہر ہے کہ فتح حقیقت میں کلام ہے اور نماز میں کلام حرام ومفسد نماز مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پر خود یقین نہیں تو مبیح میں شک واقع ہوا اور محرم موجود ہے لہذا حرام ہوا جب اسے شبہ ہے ممکن ہے کہ اسی کی غلطی ہوا اور غلط بتانے سے اس کی نماز جاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہو جائے گی تو ایسے امر پر اقدام جائز نہیں ہو سکا" (فتاوی رضویہ، جلد ٧، باب مفسدات الصلاۃ، مسئلہ ٩٦٩، ص ٢٨٨، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)، لیکن تراویح میں تو قرآن سننے والا کسی آیت یا لفظ کے ترک پر شک واقع ہو جانے پر خوب لقمہ دیتا ہے اور امام اس کے لقمہ کو قبول کرتا ہے، تو کیا تراویح کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی؟ تراویح میں تو کوئی بھی ایسا نہیں کرتا کہ سلام کے بعد مقتدی امام سے پوچھے کہ آپ نے یہاں کیسے پڑھا تھا، یہاں یہ لفظ پڑھا یا ایسا تو نہیں پڑھا، اس طرح سے کوئی نہیں پوچھتا، تراویح میں مقصود قرآنِ عظیم کا سننا اور مکمل کرنا ہوتا ہے، کیا اس صورت میں تراویح اور فرض کا حکم جدا ہے؟ کتبِ فقہِ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
(جواب) محض شک کی بنا پر لقمہ دینا جائز نہیں اگرچہ ایسی غلطی میں شک ہو جو اس کے خیال میں مفسد نماز ہو۔ اور بعد نماز معلوم ہو کہ غلطی مفسد نماز تھی تو مقتدیوں پر گناہ نہ ہوگا۔ اور غلطی پر یقین کی صورت میں قراءت کی ایسی غلطی میں بھی لقمہ دینا جائز ہے جس کے مفسد نماز ہونے میں شک ہو یا مفسد نماز نہ ہو بشرطیکہ اسے قراءت کی غلطی سمجھا جاتا ہو، جیسے لفظ یا آیت کے ترک پر لقمہ، اعراب کی غلطی پر لقمہ، دوسری سورۃ میں منتقل ہونے پر لقمہ۔ عبارت رضویہ: "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تو محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں" اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب غلطی مفسد نماز ہو تو شبہ پر بتانا بھی جائز ہے لیکن یہ عبارت صحیح نہیں بنتی کیونکہ شبہ اور فساد ایک جگہ نہیں آ سکتے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ صورت نہیں ہے جس میں امام قراءت کی غلطی کرے اور مقتدی کو امام کی غلطی پر یقین ہو لیکن اس کے مؤجب فساد ہونے میں شبہ ہو کیونکہ اس صورت میں تو وہ لقمہ دے سکتا ہے اس وجہ سے کہ اصلاح کی گنجائش باقی رہتی ہے اگرچہ غلطی غیر مفسد ہو۔ بلکہ امام اہل سنت رضى الله عنه کا فرمانا اس صورت کے متعلق ہوگا جہاں مقتدی کو غلطی ہونے ہی میں شک ہو تو اس کا لقمہ دینا کسی صورت میں جائز نہیں کیونکہ جب غلطی میں ہی شک ہو تو اس کا مفسد ہونے فساد کو لازم نہیں کرتا اور جب مفسد ہونے میں بھی شک ہو تو یہ شک پر شک کرنا ہوا اور یہ باطل ہے۔ لیکن اس صورت میں بھی اگر غلطی واقعی ہوئی تھی اور اس نے شک کی بناء پر لقمہ دیا اور بعد نماز معلوم ہوا کہ لقمہ اپنے محل میں واقع ہوا تب بھی نماز فاسد نہ ہوگی البتہ وہ شک پر لقمہ دینے کے سبب گنہگار ہوگا۔ اس کی تائید اسی جلد کے مسئلہ ٩٧٥ میں ہے: اور اگر اس غلطی میں نہ فساد نماز ہے نہ ترک واجب، جب بھی ہر مقتدی کو مطلقا بتانے کی اجازت ہے، هو الصحيح كما نص عليه في الدر وغيره من الأسفار الغر، مگر یہاں وجوب کسی پر نہیں لعدمِ الموجب." لہذا آپ رحمه الله سے چند برس بعد صادر ہونے والے کسی فتویٰ میں اس صحیح قول کے برخلاف بات کو ان کی طرف منسوب کرنا قابلِ قبول نہیں، الا یہ کہ اس کی وہی تاویل کی جائے جو ہم نے بیان کی ہے، اور یہ تاویل بھی اسی وقت معتبر ہو سکتی ہے جب یہ مان لیا جائے کہ طباعت کے دوران الفاظ کی تقدیم وتاخیر واقع ہو گئی ہو۔ اور بہتر ہے کہ کہا جائے "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو" یہ تیسرے نقطہ کا حصہ ہے اور صحیح عبارت اس طرح ہے: (۳) اپنا حفظ جتانے کے لئے ذرا ذرا شبہ پر روکنا ریاء ہے اور ریاء حرام ہے خصوصاً نماز میں جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو۔ (۴) محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں بلکہ صبر واجب، بعد سلام تحقیق... الخ" هذا ما ظهر لي، وما كان ذلك إلا من فضل الله، والله أعلم بالغيب.
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor
اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺








