🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 Telegram channel photo

🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

💥شرعی عدالت💥 گروپ میں پوچھے گئے سینکڑوں اسلامی سوالوں کے حنفی جوابات کا حسین ذخیرہ ــــــ خود شامل ہوں، اور اپنے احباب تک اس کی لنک شیر فرماکر صدقہ جاریہ کا ثواب بھی پائیں.

Viral Videosاردوپاکستان

693

Last views

2.5k (2,481 subscribers)
اراکین
—
Rating
15
Total Posts
Oct 22, 2026, 11:32 PM
اپ ڈیٹ کیا گیا
Apr 9, 2026
Created
Stats

آپ اردو میں مواد دیکھ رہے ہیں۔ دوسری زبانوں میں مواد دیکھنے کے لیے سائٹ کی زبان تبدیل کریں۔

Channel Information

Channel Information
Channel Name🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
Username@sharayiadalatchannelfmfoundation
CategoryViral Videos
Languageاردو
Countryپاکستان
اراکین2,481
Channel TypePublic Channel
Created9 اپریل، 2026
Last Updated22 اکتوبر، 2026 • 2 گھنٹے پہلے
StatusActive

درجہ بندی

عالمی درجہ بندی
#163131+126
زبان کی درجہ بندی
#289+4
زمرہ کی درجہ بندی
#10920+5

سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ

کل: 2.5K30 Days growth: +70.3%
09/2309/2810/0310/0810/1310/1810/22
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - 30 Days
DateSubscribers
23:09:20262,474
24:09:20262,474
25:09:20262,474
26:09:20262,474
27:09:20262,474
28:09:20262,474
29:09:20262,474
30:09:20262,474
01:10:20262,474
02:10:20262,474
03:10:20262,474
04:10:20262,474
05:10:20262,474
06:10:20262,474
07:10:20262,474
08:10:20262,474
09:10:20262,474
10:10:20262,474
11:10:20262,474
12:10:20262,474
13:10:20262,474
14:10:20262,474
15:10:20262,480
16:10:20262,480
17:10:20262,480
18:10:20262,480
19:10:20262,480
20:10:20262,480
21:10:20262,480
22:10:20262,481
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Weekly
DateSubscribers
Week of 06:04:20262,498
Week of 13:04:20262,498
Week of 20:04:20262,498
Week of 27:04:20262,498
Week of 04:05:20262,498
Week of 11:05:20262,481
Week of 18:05:20262,481
Week of 25:05:20262,481
Week of 01:06:20262,481
Week of 08:06:20262,473
Week of 15:06:20262,473
Week of 22:06:20262,473
Week of 29:06:20262,468
Week of 06:07:20262,468
Week of 13:07:20262,468
Week of 20:07:20262,468
Week of 27:07:20262,468
Week of 03:08:20262,478
Week of 10:08:20262,478
Week of 17:08:20262,475
Week of 24:08:20262,467
Week of 31:08:20262,467
Week of 07:09:20262,473
Week of 14:09:20262,474
Week of 21:09:20262,474
Week of 28:09:20262,474
Week of 05:10:20262,474
Week of 12:10:20262,480
Week of 19:10:20262,481
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Monthly
DateSubscribers
April 20262,498
May 20262,481
June 20262,473
July 20262,468
August 20262,467
September 20262,474
October 20262,481
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Yearly
DateSubscribers
20262,481

تازہ ترین پوسٹس

🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ شبہ کی بناء پر لقمہ لینا⚡


(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے نماز میں لقمہ دینے کے متعلق فرمایا ہے، کہ نماز میں اگر امام کی غلطی پر مقتدی کو شک ہے تو لقمہ کی اجازت نہیں جب تک کہ یقین نہ ہو، جیسا کہ امام اہلسنت نے لکھا ہے: "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تو محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں بلکہ صبر واجب بعد سلام کے تحقیق کر لیا جائے اگر قاری کی یاد صحیح نکلے تو فبہا اور ان کی یاد ٹھیک ثابت ہوئی تو تکمیل ختم کے لئے حافظ اتنے الفاظ کا اور کسی رکعت میں اعادہ کر لے گا حرمت کی وجہ ظاہر ہے کہ فتح حقیقت میں کلام ہے اور نماز میں کلام حرام ومفسد نماز مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پر خود یقین نہیں تو مبیح میں شک واقع ہوا اور محرم موجود ہے لہذا حرام ہوا جب اسے شبہ ہے ممکن ہے کہ اسی کی غلطی ہوا اور غلط بتانے سے اس کی نماز جاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہو جائے گی تو ایسے امر پر اقدام جائز نہیں ہو سکا" (فتاوی رضویہ، جلد ٧، باب مفسدات الصلاۃ، مسئلہ ٩٦٩، ص ٢٨٨، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)، لیکن تراویح میں تو قرآن سننے والا کسی آیت یا لفظ کے ترک پر شک واقع ہو جانے پر خوب لقمہ دیتا ہے اور امام اس کے لقمہ کو قبول کرتا ہے، تو کیا تراویح کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی؟ تراویح میں تو کوئی بھی ایسا نہیں کرتا کہ سلام کے بعد مقتدی امام سے پوچھے کہ آپ نے یہاں کیسے پڑھا تھا، یہاں یہ لفظ پڑھا یا ایسا تو نہیں پڑھا، اس طرح سے کوئی نہیں پوچھتا، تراویح میں مقصود قرآنِ عظیم کا سننا اور مکمل کرنا ہوتا ہے، کیا اس صورت میں تراویح اور فرض کا حکم جدا ہے؟ کتبِ فقہِ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
(جواب) محض شک کی بنا پر لقمہ دینا جائز نہیں اگرچہ ایسی غلطی میں شک ہو جو اس کے خیال میں مفسد نماز ہو۔ اور بعد نماز معلوم ہو کہ غلطی مفسد نماز تھی تو مقتدیوں پر گناہ نہ ہوگا۔ اور غلطی پر یقین کی صورت میں قراءت کی ایسی غلطی میں بھی لقمہ دینا جائز ہے جس کے مفسد نماز ہونے میں شک ہو یا مفسد نماز نہ ہو بشرطیکہ اسے قراءت کی غلطی سمجھا جاتا ہو، جیسے لفظ یا آیت کے ترک پر لقمہ، اعراب کی غلطی پر لقمہ، دوسری سورۃ میں منتقل ہونے پر لقمہ۔ عبارت رضویہ: "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تو محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں" اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب غلطی مفسد نماز ہو تو شبہ پر بتانا بھی جائز ہے لیکن یہ عبارت صحیح نہیں بنتی کیونکہ شبہ اور فساد ایک جگہ نہیں آ سکتے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ صورت نہیں ہے جس میں امام قراءت کی غلطی کرے اور مقتدی کو امام کی غلطی پر یقین ہو لیکن اس کے مؤجب فساد ہونے میں شبہ ہو کیونکہ اس صورت میں تو وہ لقمہ دے سکتا ہے اس وجہ سے کہ  اصلاح کی گنجائش باقی رہتی ہے اگرچہ غلطی غیر مفسد ہو۔ بلکہ امام اہل سنت رضى الله عنه کا فرمانا اس صورت کے متعلق ہوگا جہاں مقتدی کو غلطی ہونے ہی میں شک ہو تو اس کا لقمہ دینا کسی صورت میں جائز نہیں کیونکہ جب غلطی میں ہی شک ہو تو اس کا مفسد ہونے فساد کو لازم نہیں کرتا اور جب مفسد ہونے میں بھی شک ہو تو یہ شک پر شک کرنا ہوا اور یہ باطل ہے۔  لیکن اس صورت میں بھی اگر غلطی واقعی ہوئی تھی اور اس نے شک کی بناء پر لقمہ دیا اور بعد نماز معلوم ہوا کہ لقمہ اپنے محل میں واقع ہوا تب بھی نماز فاسد نہ ہوگی البتہ وہ شک پر لقمہ دینے کے سبب گنہگار ہوگا۔ اس کی تائید اسی جلد کے مسئلہ ٩٧٥ میں ہے: اور اگر اس غلطی میں نہ فساد نماز ہے نہ ترک واجب، جب بھی ہر مقتدی کو مطلقا بتانے کی اجازت ہے، هو الصحيح كما نص عليه في الدر وغيره من الأسفار الغر، مگر یہاں وجوب کسی پر نہیں لعدمِ الموجب." لہذا آپ رحمه الله سے چند برس بعد صادر ہونے والے کسی فتویٰ میں اس صحیح قول کے برخلاف بات کو ان کی طرف منسوب کرنا قابلِ قبول نہیں، الا یہ کہ اس کی وہی تاویل کی جائے جو ہم نے بیان کی ہے، اور یہ تاویل بھی اسی وقت معتبر ہو سکتی ہے جب یہ مان لیا جائے کہ طباعت کے دوران الفاظ کی تقدیم وتاخیر واقع ہو گئی ہو۔ اور بہتر ہے کہ کہا جائے "جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو" یہ تیسرے نقطہ کا حصہ ہے  اور صحیح عبارت اس طرح ہے: (۳) اپنا حفظ جتانے کے لئے ذرا ذرا شبہ پر روکنا ریاء ہے اور ریاء حرام ہے خصوصاً نماز میں جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو۔ (۴) محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں بلکہ صبر واجب، بعد سلام تحقیق... الخ" هذا ما ظهر لي، وما كان ذلك إلا من فضل الله، والله أعلم بالغيب.

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
693004
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡


(سوال) ویکس کرانا یعنی ہاتھ، پیر کے بال نکالنا کیسا ہے؟
(جواب) عورتوں کے لیے ہاتھ، پیر اور بدن کے دیگر حصوں کے بال نکالنا اصولاً جائز ہے، کیونکہ اس کی ممانعت پر کوئی عقلی یا شرعی دلیل نہیں ہے۔ البتہ مردوں کے لیے عادتا ہاتھ پیر کے بال ویکس کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ اور ستر ہوشی بہرحال سب پر لازم ہے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) زید نے اپنے وطن سے تقریباً ٨٠ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک دکان قائم کی ہے اور اس کا روزانہ آنا جانا ہے، نیز اس نے وہاں ایک کمرہ (روم) بھی خریدا ہوا ہے، تو کیا زید کاروبار کی جگہ پر مسافر رہے گا یا مقیم؟
(جواب) مسافت سفر جس سے آدمی شرعا مسافر قرار پاتا ہے ساڑھے ستاون انگریزی میل یعنی ساڑھے بانوے کلومیڑ ہے اور صورتِ مسئولہ میں مذکورہ فاصلہ اس مقدار سے کم ہے، اس لیے زید شرعاً مسافر نہیں ہوگا، اور قصر نماز کا حکم نہیں آئے گا؛ البتہ اگر دکان ساڑھے بانوے کلومیٹر یا اس سے زائد فاصلے پر ہوتی تو نماز قصر کرنا لازم ہوتا، خواہ اس نے وہاں جائیداد یا زمین خرید رکھی ہو۔ والله تعالى أعلم

(سوال) فیضانِ فرض علوم میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ اگر تراویح میں سامع یا کسی اور نے غلط لقمہ دیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟ وہاں لکھا ہے کہ اگر جان بوجھ کر غلط لقمہ دیا تو لقمہ دینے والے کی نماز ٹوٹ جائے گی، اور اگر امام نے اسے لے لیا تو امام اور تمام مقتدیوں کی نماز بھی ٹوٹ جائے گی، اور اگر بھول کر غلط لقمہ دیا تو حرج کی وجہ سے تراویح میں اس کی معافی ہے۔ یہی حکم کتاب احکامِ لقمہ میں بھی درج ہے۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمه الله نے فتاویٰ رضویہ میں فرمایا ہے کہ ختمِ قرآن فی التراویح میں اس باب میں تیسیر فرمائی جائے، کیونکہ سامع سے خود غلطی ہونا نادر نہیں اور عموماً قاری اسے لے لیتا ہے یا امتثال کے لیے اوپر سے اعادہ کر لیتا ہے، اور اگر ہر بار سہواً فسادِ نماز کا حکم دیا جائے اور قرآن کا اعادہ کرایا جائے تو حرج لازم آئے گا۔ ان عبارات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سہواً غلط لقمہ دینا مفسدِ نماز نہیں اور تراویح میں اسے معاف رکھا گیا ہے، حالانکہ عام اصول یہ بتایا جاتا ہے کہ محض شک کی بنا پر لقمہ دینا جائز نہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ: کیا شک کی بنا پر دیا گیا غلط لقمہ نماز کو فاسد کرے گا یا نہیں؟ اور فیضانِ فرض علوم و فتاویٰ رضویہ کی تصریحات کے ساتھ اس اصول کی تطبیق کیسے کی جائے؟
(جواب) امام کی غلطی میں شک ہونا اور اس پر لقمہ دینا اور غلطی کے یقین کے ساتھ (مگر حقیقت میں) غلط لقمہ دینا دو الگ امور ہیں۔ پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ امام قراءت کر رہا ہو اور سامع کو یہ تردد ہو کہ آیا امام سے واقعی لفظ یا آیت ساقط ہوئی ہے یا نہیں، اس حال میں محض شک کی بنا پر لقمہ دینا جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سامع کو یقین ہو کہ امام نے فلاں جگہ یہ لفظ یا آیت چھوڑ دی ہے، مگر اس کا دیا ہوا لقمہ حقیقت میں غلط نکل آئے؛ ایسی صورت میں اگر یہ سہواً ہو، خصوصاً تراویح میں، تو حرج اور عمومِ بلویٰ کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی، جیسا کہ فیضانِ فرض علوم اور فتاویٰ رضویہ سے ثابت ہے۔ البتہ اگر جان بوجھ کر غلط لقمہ دیا جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی، اور اگر امام نے اسے لے لیا تو امام اور مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہوگی۔ والله تعالى أعلم

(سوال) ایک شخص کا وطنِ اصلی اس کا آبائی گاؤں ہے جہاں اب بھی اس کا گھر اور زمین جائیداد موجود ہے، لیکن اس نے ممبئی میں بھی اپنا مکان بنا لیا ہے اور فی الحال وہ ممبئی ہی میں مقیم ہے، اور سال میں ایک مرتبہ اپنے گاؤں آٹھ دس دن کے لیے آتا ہے، تو ایسی صورت میں اس کا وطنِ اصلی کون سا شمار ہوگا؟ اور گاؤں آنے پر وہ نماز قصر کرے گا یا پوری پڑھے گا؟
(جواب) وطنِ اصلی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں انسان مستقل رہائش اختیار کرنے کا ارادہ کر لے اور وہیں بس جائے، خواہ وہ آبائی نہ ہو، اور اگر کوئی شخص اپنے آبائی گاؤں سے مستقل نقل مکانی کر کے کسی دوسرے شہر (جیسے ممبئی) میں گھر بنا کر وہاں رہائش اختیار کر لے اور وہیں اس کا قیام، روزگار اور سکونت ہو، تو اب وہ نیا شہر ہی اس کا وطنِ اصلی شمار ہوگا، اور آبائی گاؤں اگرچہ وہاں اس کا گھر اور جائیداد باقی ہو، لیکن جب وہ وہاں صرف سال میں ایک بار چند دن (آٹھ دس دن) کے لیے آتا ہو اور مستقل رہائش کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ گاؤں اس کے لیے وطنِ اصلی نہیں بلکہ وطنِ زیارت/سفر کے حکم میں ہوگا، لہٰذا گاؤں آنے پر اگر وہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کرے تو وہ مسافر ہوگا اور نماز قصر پڑھے گا، اور اگر کبھی گاؤں میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کی نیت کر لے تو اس مدت کے لیے وہ وہاں مقیم ہو جائے گا اور پوری نماز پڑھے گا، جبکہ ممبئی میں چونکہ اس نے مستقل سکونت اختیار کر لی ہے اس لیے وہاں وہ ہر حال میں مقیم شمار ہوگا۔ والله تعالى أعلم


⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
599002
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا واٹس ایپ پر معافی مانگنا شرعاً جائز ہے؟ مثلاً شبِ براءت وغیرہ کے موقع پر۔
(جواب) واٹس ایپ یا کسی بھی جائز ذریعۂ ابلاغ کے ذریعے معافی مانگنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں معافی طلب کرنے کے لیے کسی خاص طریقے یا ذریعہ کو لازم نہیں کیا گیا، بلکہ اصل مقصود دل کی سچائی، عاجزی اور حق دار سے معذرت ہے، خواہ یہ براہِ راست ہو، تحریر کے ذریعے ہو یا جدید ذرائع مثلاً واٹس ایپ کے ذریعے، خصوصاً جب براہِ راست ملاقات ممکن نہ ہو یا کال پر بات نہ ہو پاتی ہو تو یہی بہتر ہے؛ شبِ براءت جیسے مواقع پر بھول چوک کی معافی مانگنا نیکی اور اصلاحِ باطن کی نیت سے ہوتا ہے  لہذا مستحسن بلکہ باعثِ اجر ہے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آندھرا پردیش میں شبِ براءت کے دن مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے کھانا کھلایا جاتا ہے اور صدقہ بھی کیا جاتا ہے، بعض لوگ امام صاحب کو مرحوم کے نام سے کپڑا دینا چاہتے ہیں، تو کیا امام صاحب کے لیے ایسا کپڑا لینا جائز ہے؟
(جواب) یہ سب اعمال جائز اور مستحسن ہیں۔ محض اس خیال کے سبب اس سے منع کرنا کہ عوام اسے ضروری سمجھتے ہیں یا سمجھ لیں گے، جائز نہیں ہے اور یہ خیال محض ایک وہم ہے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) جس کپڑے کے کسی حصے پر خون یا پیپ کا دھبہ لگ جائے تو کیا صرف اسی حصے کو دھونا کافی ہے یا پورا کپڑا دھونا ضروری ہے؟
(جواب) اگر کپڑے پر خون یا پیپ (جو نجاستِ غلیظہ ہے) صرف ایک محدود جگہ پر لگی ہو اور وہ نجاست دوسرے حصوں تک نہ پھیلی ہو تو شرعاً صرف اسی جگہ کو اس طرح دھونا کافی ہے، پورا کپڑا دھونا لازم نہیں؛ البتہ اگر نجاست پھیل گئی ہو یا یہ شک ہو کہ کہاں تک پہنچی ہے تو احتیاطاً زیادہ حصہ یا پورا کپڑا دھونا چاہیے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) اگر عصر کی نماز کے بعد پیشاب کا ایک قطرہ آ جائے تو کیا وضو باقی رہتا ہے، اور کیا اس وضو سے مغرب کی نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
(جواب) اگر عصر کی نماز کے بعد پیشاب کا ایک قطرہ بھی نکل آئے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ پیشاب نواقضِ وضو میں سے ہے، لہٰذا اس صورت میں پہلے ناپاکی کو پاک کرنا اور نیا وضو کرنا لازم ہے، بغیر نئے وضو کے مغرب کی نماز پڑھنا جائز نہیں۔ والله تعالى أعلم.

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
613001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ زائد رکعت سے لوٹ کر دوبارہ تشہد پڑھنا ⚡

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ کوئی شخص قعدہ اخیرہ میں بیٹھا اور التحیات پڑھ لی، پھر بھول کر زائد رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا، اس کے بعد لقمہ سے یا خود یاد آنے پر وہ قعدہ اخیرہ میں واپس آ گیا، تو اس صورت میں شرحِ حکم یہ ہے کہ واپسی کے بعد فوراً بغیر التحیات پڑھے سجدہ سہو کرے اور نماز مکمل کرے، لیکن ہم نے اس صورت میں اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ قعدہ اخیرہ میں واپس آنے کے بعد پہلے التحیات پڑھتے ہیں، پھر اس کے بعد سجدہ سہو کرتے ہیں، پھر دوبارہ التحیات پڑھ کر نماز کو مکمل کرتے ہیں، حالانکہ شرح کے مطابق حکم یہ تھا کہ واپس آنے کے بعد بلا تکرارِ التحیات سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کرے، اب اگر اس نے دوبارہ التحیات پڑھ لی، پھر اس کے بعد سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کی، تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟ زید کہتا ہے کہ اس صورت میں سجدہ سہو میں تاخیر لازم آئی، اور چونکہ سجدہ سہو واجب ہے اور واجب میں تاخیر موجبِ سجدہ سہو ہے، اس لیے دوبارہ سجدہ سہو لازم ہوگا، جبکہ بکر کہتا ہے کہ سجدہ سہو میں تاخیر لازم نہیں آئی بلکہ سجدہ سہو کے واسطے سے درود و دعا میں تاخیر لازم آئی جو کہ سنت ہے، اور سنت میں تاخیر موجبِ کراہت ہے، کیونکہ آخری قعدہ میں التحیات کی تکرار جائز ہے جیسا کہ فقہاء کی کتب سے ثابت ہے، اس لیے کہ قعدہ اخیرہ محلِ حمد وثنا ہے اور تشہد یعنی التحیات بھی حمد وثنا پر مشتمل ہے، لہذا اس کی تکرار سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا؛ اقوالِ فقہاء اور عباراتِ علماء کی تصریحات کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، نیز زید اور بکر میں سے کس کا قول درست ہے؟
(جواب) بکر کا قول کہ سجدہ سہو میں تاخیر لازم نہ آئی درست ہے کہ لوٹنے کے بعد بھی ثناء کا محل باقی ہے۔ اور زید کا قول کے دوبارہ سجدہ سہو لازم ہوگا درست نہیں ہے کہ ایک نماز میں سہو کے چار سجدے نہیں ہوتے۔ في شرح مختصر الكرخي: ومن سها مرارا في صلاته، فإنما عليه سجدتان فحسب، كثر السهو أو قل؛ وذلك لما روي: أن النبي ﷺ قام إلى الثالثة فسبح به، فلم يرجع وسجد سجدتين، ومعلوم أنه ترك القعدة، وترك قراءة التشهد، وكل واحد منهما لو انفرد لوجب سجود السهو، ولم يسجد إلا سجدتين؛ ولأن سجدة السهو أخرت عن سبب وجوبها؛ لجواز أن يسهو ثانيا، فلو لم يقع لكل سهو في الصلاة، لجعلت عقيب سببها. یعنی اور جو شخص اپنی نماز میں بار بار سہو کا شکار ہو جائے تو اس پر صرف دو ہی سجدے لازم ہوں گے، خواہ سہو زیادہ ہو یا کم؛ اس کی دلیل وہ روایت ہے کہ نبی ﷺ تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے تو آپ کو سبحان الله کہہ کر متنبہ کیا گیا، مگر آپ واپس نہ لوٹے اور آپ نے (آخر میں) دو سجدے کیے؛ حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ آپ ﷺ نے قعدہ بھی ترک فرمایا اور تشہد کی قراءت بھی، اور ان دونوں میں سے ہر ایک اگر الگ الگ واقع ہوتا تو سجدہ سہو واجب ہوتا، لیکن آپ ﷺ نے صرف دو ہی سجدے کیے؛ اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سجدہ سہو کو اس کے سببِ وجوب کے بعد مؤخر کیا گیا ہے، اس احتمال کی بنا پر کہ ممکن ہے نمازی دوبارہ سہو کر بیٹھے، کیونکہ اگر نماز میں ہر سہو پر الگ الگ سجدہ سہو کیا جاتا تو لازم آتا کہ ہر سبب کے فوراً بعد سجدہ سہو کیا جاتا۔ اھـ وفي المجمع الزوائد (١٥١/٢) : وعن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: سجدتا السهو تجزيان من كل زيادة ونقص. رواه أبو يعلى والبزار والطبراني في الأوسط وفيه حكيم بن نافع، ضعفه أبو زرعة ووثقه ابن معين. حضرت عائشہ رضى الله عنها سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: سجدۂ سہو کے دو سجدے ہر زیادتی اور ہر کمی کی طرف سے کافی ہو جاتے ہیں۔ اسے ابو یعلیٰ، بزار اور طبرانی نے المعجم الأوسط میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند میں حکیم بن نافع ہیں، جنہیں ابو زرعہ نے ضعیف کہا ہے جبکہ ابن معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ والله تعالى أعلم.

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
627001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ مسبوق کا سجدہ سہو میں امام کی متابعت کے لیے پلٹنا ⚡

(سوال) کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسئلہ میں کہ اگر امام نے ایک طرف سلام پھیرا تو مسبوق تکبیر کہتا ہوا سیدھا کھڑا ہو گیا، بعد میں امام کو سجدۂ سہو کرنا تھا اور اس نے سجدۂ سہو کیا، تو کیا مسبوق واپس پلٹے گا یا نہیں؟ اور اگر امام نے دونوں طرف سلام پھیر دیا، اس کے بعد اسے یاد آیا کہ سجدۂ سہو کرنا ہے اور اس نے سجدۂ سہو کیا، جبکہ ادھر مسبوق سیدھا کھڑا ہو چکا تھا، تو کیا وہ واپس پلٹ کر امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں شریک ہوگا یا نہیں؟
(جواب) ان صورتوں میں مسبوق پر لازم ہے کہ وہ فوراً بیٹھ جائے اور امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں شریک ہو کہ امام کی متابعت واجب ہے۔ اور اگر وہ سجدہ سے قبل نہ لوٹا تو آخر نماز میں اس پر سجدہ سہو کرنا واجب ہے جیسا کہ بہار شریعت میں ہے۔ اور محیط (٢٠٩/٢) میں ہے: ومن فروعات هذه المسألة إذا قام بعدما تشهد الإمام، وعلى الإمام سجود السهو، فقرأ وركع ولم يسجد حتى عاد الإمام إلى سجود السهو، فعلى هذا الرجل أن يتابع الإمام في سجود السهو؛ لأنه لم يستحكم انفراده بأداء ما دون الركعة؛ لأن ما دون الركعة ليس له حكم الصلاة، فعليه أن يعود إلى متابعة الإمام، ثم يقوم للقضاء، ولا يعتد بالذي أدى؛ لأنه صار رافضًا لها بالعود إلى متابعة الإمام. وإن لم يعد إلى متابعة الإمام ومضى على ذلك جازت صلاته، لأنه لم يبق على الإمام ركن من أركان الصلاة، ويسجد للسهو في آخر صلاته استحسانًا، وإن قيد المسبوق الركعة بسجدة، ثم عاد الإمام إلى سجود السهو لم يعد إلى متابعة الإمام لأنه استحكم انفراده بأداء ركعة كاملة، وإن عاد إلى متابعته فسدت صلاته؛ لأنه اقتدى في موضع الانفراد، والاقتداء في موضع الانفراد تفسد الصلاة. یعنی اگر مسبوق امام کے تشہد کے بعد کھڑا ہو گیا جبکہ امام پر سجدۂ سہو واجب تھا، پس اس مسبوق نے قراءت کی اور رکوع بھی کر لیا مگر سجدہ نہ کیا، اتنے میں امام سجدۂ سہو کی طرف لوٹ آیا، تو اس شخص پر لازم ہے کہ امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں شریک ہو، کیونکہ اس کا انفراد اس قدر مضبوط نہیں ہوا کہ رکعت سے کم کے فعل کو مستقل نماز کا درجہ حاصل ہو، اس لیے کہ رکعت سے کم افعال کو نماز کا حکم حاصل نہیں ہوتا، لہذا اس پر امام کی متابعت کی طرف لوٹنا لازم ہے، پھر اس کے بعد اپنی قضا کے لیے کھڑا ہوگا، اور جو اس نے پہلے ادا کیا اس کا اعتبار نہیں ہوگا، کیونکہ امام کی طرف لوٹ آنے سے اس نے ان افعال کو ترک کر دیا۔ اور اگر وہ امام کی متابعت کی طرف نہ لوٹا بلکہ اسی پر آگے بڑھتا رہا تو اس کی نماز درست ہو جائے گی، کیونکہ اب امام پر نماز کا کوئی رکن باقی نہیں رہا، اور وہ اپنی نماز کے آخر میں استحساناً سجدۂ سہو کرے گا۔ اور اگر مسبوق نے ایک سجدہ کے ساتھ رکعت کو مقید کر لیا، پھر امام سجدۂ سہو کی طرف لوٹا، تو اب مسبوق امام کی متابعت کی طرف نہیں لوٹے گا، کیونکہ اب اس کا انفراد ایک مکمل رکعت کے ادا کرنے سے مضبوط ہو چکا ہے، اور اگر وہ اس حالت میں امام کی متابعت کی طرف لوٹ آیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، کیونکہ اس نے مقامِ انفراد میں اقتدا کی، اور مقامِ انفراد میں اقتدا نماز کو فاسد کر دیتی ہے۔ والله تعالى أعلم.

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
599001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡

(سوال) دورانِ سفر جو فرض نمازیں فوت ہو جائیں، کیا ان کی قضا گھر آ کر فوراً کرنی لازم ہے یا کسی دوسرے سفر تک انہیں مؤخر کیا جا سکتا ہے؟
(جواب) اگر وہ اسی سفر میں قضا نمازیں ادا نہیں کرسکتا تو گھر پہنچ کر ادا کرے۔ گھر پہنچ کر فوراً ادا کرنا واجب نہیں ہے مؤخر کرسکتا ہے مگر آئندہ سفر کا انتظار نہ کرے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازِ جنازہ کے ایک بھرے مجمع میں یہ اعلان کرنا کہ علماء حضرات پہلی صف میں آ جائیں شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟ نیز کیا جمہور علماء کے اقوال و افعال سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟
(جواب) نماز میں یہ اعلان کرنا کہ امام کے قریب اہلِ فضل اور اہلِ علم ہوں، پھر ان سے کم درجہ والے، پھر ان سے کم درجہ والے، شرعاً جائز بلکہ محمود ہے، کیونکہ اس میں نماز کی ترتیب اور فضیلت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ تاہم یہ بات مقتدیوں کی رضا وخوشی پر موقوف ہونی چاہیے، یعنی اگر وہ خود ایثار کے طور پر اپنی جگہ چھوڑ دیں تو درست ہے، لیکن اس میں کسی قسم کی زبردستی، دباؤ یا تحقیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان عالیشان ہے: ليلني منكم أولو الأحلام والنهى، ثم الذين يلونهم. (صحيح مسلم، م: ٤٣٢؛ مسند أحمد، م: ٤٣٧٣؛ سنن الترمذي، م: ٢٢٨؛ سنن أبى داود، م: ٦٧٤؛ عن ابن مسعود، صحیح مسلم، ٣٢٣/١؛ سنن ابن ماجه، م: ٩٧٦؛ عن أبي مسعود الأنصاري) یعنی تم میں عاقل وبالغ میرے قریب رہا کریں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں (اس طرح تین دفعہ فرمایا۔) والله تعالى أعلم.

(سوال) کسی شخص نے یہ منت مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں دس دن کا اعتکاف کروں گا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ دس دن کا اعتکاف مسلسل کرنا ضروری ہوگا یا چھوڑ چھوڑ کر بھی کیا جا سکتا ہے؟ مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔
(جواب) تسلسل شرط نہیں ہے، چھوڑ چھوڑ کر بھی اعتکاف کیا جاسکتا ہے۔ ہاں، اعتکاف کے ساتھ روزہ ضروری ہے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) چین اور میگنیٹ والی گھڑی پہننا کیسا ہے، اور اگر ایسی گھڑی پہن کر نماز پڑھی جائے تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟
(جواب) چین یا میگنیٹ والی گھڑی پہننا جبکہ زینت وتفاخر کے طور پر نہ ہو جائز ہے، اور اسے پہن کر نماز بھی جائز ہے لیکن اختلاف کے سبب اسے اتارنے کا تاکیدی حکم ہے۔ والله تعالى أعلم.

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
474001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡

(سوال) کیا دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے مصافحہ کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں اور اس کی وجہ بھی بیان کریں۔
(جواب) دیوبندی مسلک والے سے مصافحہ کرنا حرام ہے جبکہ اس کا ارتداد ثابت ہو لیکن اس سے نکاح باطل نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ مطلقًا تمام دیوبندیوں یا وہابیوں کے ارتداد کا حکم نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اب ان کی اکثریت میں نہ اکابرِ فرقہ کے کفریہ عقائد سے واقفیت پائی جاتی ہے اور نہ ہی عقائد میں وہ شدت وچپشتگی موجود ہے جو تکفیر کا موجب بنے۔ والله تعالى أعلم.

(مسئلہ) مرتد سے مصافحہ کیوں حرام ہے؟
(جواب) مرتد سے مصافحہ یا کسی بھی طرح کا میل جول رکھنا حکم الہی سے حرام ہے۔ الله تعالى کا فرمان ہے: ﴿وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آجانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (القرآن الکریم، ٦٨/٦) اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ﴾ یعنی اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا لیا ہے۔ (القرآن الکریم، ٥٧/٥)، نیز فرمایا: ﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ یعنی تم ایسے لوگوں کو نہیں پاؤ گے جو الله اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور الله اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوں۔ (القرآن الکریم، ٢٢/٥٧) اور ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ یعنی تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔ (القرآن الکریم، ٥١/٥) والله تعالى أعلم

(سوال) مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی امام رکوع سے اٹھتے وقت آہستہ سے سمع الله لمن حمده کہے، پھر بلند آواز سے ربنا لك الحمد کہہ دے، پھر دوبارہ بلند آواز سے سمع الله لمن حمده کہہ دے، تو ایسی صورت میں اس پر سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟
(جواب) سجدہ سہو واجب نہ ہوگا۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) بچے کی عمر چار سال ہے، اب اس کا عقیقہ کیا جا رہا ہے، تو کیا اس بچے کے پورے سر کے بال منڈوانا ضروری ہے یا صرف سر کے چند بال کتروا سکتے ہیں؟
(جواب) پورا سر منڈوانا بہتر ہے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) ایک آدمی ١٥ جنوری ٢٠٢٦ کو بعدِ مغرب انتقال کر گیا، تو عدتِ وفات کی مدت (چار مہینے دس دن) کب مکمل ہوگی؟
(جواب) عدتِ وفات کا آغاز شوہر کے انتقال کے وقت سے ہوتا ہے، اور چونکہ انتقال ١٥ جنوری ٢٠٢٦ کو بعدِ مغرب ہوا، اور اس دن قمری مہینے کی پہلی تاریخ نہیں تھی، اس لیے قمری مہینوں کے اعتبار سے حساب ممکن نہیں، لہٰذا دنوں کا شمار کیا جائے گا، چنانچہ پورے ایک سو تیس دن مکمل کرنا واجب ہوگا، اور اس حساب سے ١٣٠ واں دن ٢٤ مئی ٢٠٢٦ کو بعدِ مغرب پورا ہوگا، اسی وقت عدتِ وفات مکمل سمجھی جائے گی۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) فرض چار رکعت والی نماز میں اگر کوئی شخص آخری رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہو، اور وہ شخص تشہد کے لیے بیٹھتے ہی ہو کہ امام سلام پھیر دے، تو کیا وہ فوراً کھڑا ہو جائے یا پہلے تشہد مکمل کرے پھر کھڑا ہو؟
(جواب) وہ پہلے مکمل تشہد پڑھ لے، اس کے بعد کھڑا ہو کر اپنی باقی رکعتیں پوری کرے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) جس مسجد میں مکتب چلتا ہو، کیا اسی مسجد میں اذان سے پہلے نماز پڑھنا جائز ہے، جبکہ آس پاس کی دوسری مساجد میں بھی اس وقت اذان نہیں ہو رہی ہو؟
(جواب) ہا‌ں، جائز ہے جبکہ نماز کا وقت ہوچکا ہو اور اس کے پاس ترک جماعت کے لیے کوئی شرعی عذر ہو۔ والله تعالى أعلم.

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
579001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡قنوت کی جگہ سورۃ اخلاص ⚡

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ وتر کی نماز میں دعائے قنوت کی جگہ سورۂ اخلاص پڑھنا ادائے وجوب کے لیے کافی ہے، کیونکہ سورۂ اخلاص بھی من وجہ دعا ہے، جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سره العزیز نے فتاویٰ رضویہ جلد ٧، باب الوتر والنوافل، مسئلہ ١٠٨٨، صفحہ ٤٨٦، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور میں تحریر فرمایا ہے، نیز یہی مسئلہ تفہیم المسائل جلد اول، کتاب الصلاۃ، صفحہ ٨٧، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز میں بھی مذکور ہے، لیکن بکر کہتا ہے کہ وتر میں سورۂ اخلاص پڑھنا ادائے وجوب کے لیے کافی :نہیں، جیسا کہ فتاویٰ امجدیہ جلد اول، باب الوتر والنوافل، مسئلہ ٢٧٧، صفحہ ٢٠١ میں موجود ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید اور بکر میں سے کس کا قول فقہ حنفی کی رو سے مفتی بہ اور قابلِ اعتماد ہے؟ بینوا وتوجروا۔
(جواب) اس مسئلہ میں اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ آیا محض ذکر کو دعا کہا جا سکتا ہے یا نہیں؛ فتاویٰ امجدیہ میں یہ اختیار کیا گیا ہے کہ ذکر بذاتِ خود دعا نہیں، جبکہ فتاویٰ رضویہ میں اسے دعا قرار دیا گیا ہے، اور دونوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ اگر اذکار کے ذریعے الله تعالى کو پکارنا مقصود ہو، اگرچہ اس میں کسی خاص چیز کی طلب نہ ہو، تو وہ قنوت کے قائم مقام ہو سکتا ہے، اسی پر فقہاء کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے کہ جسے قنوت یاد نہ ہو وہ تین مرتبہ “یا رب” کہہ لے، جیسا کہ بحر وغیرہ میں مذکور ہے، اور اگر محض ذکر ہو اور دعا کی نیت نہ ہو تو وہ کافی نہیں ہوگا۔ امام بزدوی نے بھی ہر ذکر کو دعا فرمایا ہے۔ اور اس کی شرح کشف الأسرار (١٩٦/٢) میں ہے: (وكل ذكر دعاء) فإن من ذكر الله تعالى يقال دعاه. وتحقيقه أن اشتغال العبد الفقير المحتاج بذكر مولاه الغني الكريم وثنائه تعرض منه لطلب حاجته منه فيكون كل ذكر دعاء أو الدعاء ذكر المدعو لطلب أمر منه. وقيل لسفيان بن عيينة ما حديث يروى عن رسول ﷺ. أفضل دعاء أعطيته أنا والنبيون قبلي أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير. قال ما تنكر من ذا ثم حدث بقوله عليه السلام: من تشاغل بالثناء على الله تعالى أعطاه الله فوق رغبة السائلين. یعنی (اور ہر ذکر دعا ہے) کیونکہ جو شخص الله تعالى کا ذکر کرتا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے الله کو پکارا، اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ فقیر اور محتاج بندے کا اپنے غنی اور کریم مولیٰ کے ذکر اور اس کی ثنا میں مشغول ہونا دراصل اس کی طرف سے اپنی حاجت کے طلب کرنے کے مترادف ہے، اس لیے ہر ذکر دعا ہے، یا یوں کہا جائے کہ دعا مدعو کا ذکر ہے تاکہ اس سے کوئی امر طلب کیا جائے، اور سفیان بن عیینہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا جو رسول الله ﷺ سے مروی ہے کہ "سب سے افضل دعا جو مجھے اور مجھ سے پہلے انبیاء کو عطا کی گئی یہ ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے" ، تو انہوں نے کہا اس میں تمہیں کیا انکار ہے؟ پھر رسول الله ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا کہ "جو شخص الله تعالى کی ثنا میں مشغول ہو جائے الله اسے سوال کرنے والوں کی رغبت سے بھی بڑھ کر عطا فرماتا ہے۔" اھـ اول حدیث امام مالک کی موطا میں اس طرح ہے: أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة، وأفضل ما قلت أنا والنبيون من قبلي: لا إله إلا الله وحده لا شريك له. (مرسل صحیح) بہر حال وہ دعا افضل ہے جس میں صراحت کے ساتھ مانگنا پایا جائے، تاہم جس شخص نے لاعلمی کی بنا پر دعائے قنوت کی جگہ بغیر نیتِ دعا سورۂ اخلاص پڑھ لی، اس پر اعادہ کا حکم نہیں ہوگا، کیونکہ اس طرح کے مقام پر اس کا جہل معتبر شمار کیا جائے گا۔ والله تعالى أعلم

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
369001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حامد یہ کہتا ہے کہ اگر کسی شخص کی نماز قضاء ہو جائے تو محض توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتی بلکہ اس کی قضاء ادا کرنا لازم ہے، اور اگر قضاء ادا کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے تو اس کی طرف سے فدیہ دینا ہوگا؟
(جواب) فرض نماز اگر بلا عذر قضاء ہو جائے تو اس کی محض توبہ کافی نہیں بلکہ توبہ کے ساتھ ساتھ اس نماز کی قضاء ادا کرنا بھی لازم ہے، کیونکہ قضاء نماز ذمے میں باقی رہتی ہے، البتہ اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کے ذمے قضاء نمازیں ہوں تو اگر اس نے وصیت کی ہو تو اس کے ترکہ کے ایک تہائی مال سے نمازوں کا فدیہ دیا جائے گا اور اگر ایک تہائی مال سے ادا نہ ہوسکے تو ورثاء کی اجازت سے ان کے حصوں سے ادا کیا جائے گا، اور اگر وصیت نہ کی ہو تو ورثاء پر فدیہ واجب نہیں، تاہم وہ بطورِ احسان ادا کریں تو امیدِ ثواب ہے۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) حضرت مفتیانِ کرام مسئلہ یہ ہے کہ سونے کی کتنی مقدار پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؟ براہِ کرم تشفی بخش جواب مرحمت فرمائیں۔
(جواب) سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے لہذا جس کے پاس اس قدر سونا ہو اور وہ مقروض نہ ہو تو صاحب زکوۃ ہے اور آگر سونا اس مقدار سے کم ہو اور اس کے پاس کچھ چاندی یا رقم یا مال تجارت اتنی نہ ہو کہ مل کر کل مال کی قیمت مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر ہوجائے تو وہ اس پر زکوۃ واجب نہیں۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) ایک خاتون کے پاس کچھ سونا اور چاندی تھی، اس کے ساس سسر نے اس کی اجازت کے بغیر وہ سونا لے کر بینک میں جمع کرا دیا اور اس پر قرض لے لیا، اور اس رقم میں سے اس خاتون کو کچھ نہیں دیا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس سونے کی زکوٰۃ اس خاتون پر لازم ہے یا نہیں؟
(جواب) جس مال پر مالک کو مکمل قبضہ اور تصرف حاصل نہ ہو، جیسے مغصوب یا زبردستی لے لیا گیا مال، اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، کیونکہ زکوٰۃ کے وجوب کے لیے ملکِ تام اور قدرتِ تصرف شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ خاتون کا سونا اس کی اجازت کے بغیر لے لیا گیا ہے اور وہ اس پر قادرِ تصرف نہیں، اس لیے اس مدت کی زکوٰۃ اس پر لازم نہیں، اور اگر آئندہ وہ سونا یا اس کی قیمت اسے واپس مل جائے تو سال پورا ہونے پر صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکوۃ ادا کرے گی۔ والله تعالى أعلم.

(سوال) مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی عورت کے پاس صرف ڈھائی (٢.٥) تولہ سونا ہو، اس کے علاوہ اس کے پاس نہ چاندی ہو اور نہ کوئی اور مالِ زکوٰۃ، البتہ شوہر کی طرف سے پانچ سو روپے ماہانہ جیب خرچ ملتا ہو جو مستقل جمع نہیں رہتا بلکہ خرچ ہوتا رہتا ہے، تو کیا سال پورا ہونے پر اس عورت پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟
(جواب) جب عورت کے پاس موجود سونا نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ تک نہ پہنچے، اور اس کے ساتھ کوئی اور مالِ زکوٰۃ (چاندی، نقد رقم یا مالِ تجارت) اس قدر نہ ہو کہ مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے، اور صورت مذکورہ میں ظاہر ہے کہ کچھ نقد موجود ہوتے ہی ہیں اور ڈھائی تولہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے لہذا وہ زکوۃ ادا کرے گی۔ والله تعالى أعلم

(سوال) اگر کوئی مقتدی قنوت کی جگہ سورۃ اخلاص پڑھے اور اس پڑھنے سے ذکر مراد ہو اور دعا کی نیت نہ ہو، جیسا کہ عام طور پر عوام وتر میں صرف سورۂ اخلاص پڑھ لیتی ہیں اور دعا یا طلب کی نیت نہیں ہوتی، تو ایسی صورت میں ان کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟
(جواب) اگر وتر میں دعائے قنوت کے وقت صرف سورۂ اخلاص اس نیت سے پڑھی گئی کہ یہ محض تلاوت یا ذکر ہے اور الله تعالى سے دعا اور پکار کی نیت نہیں تھی، تو اصولاً یہ دعائے قنوت کے قائم مقام نہیں بنتی، مگر چونکہ یہ فعل جہالت اور لاعلمی کی بنا پر صادر ہوتا ہے اور عوام اس تفصیل سے واقف نہیں ہوتیں، اس لیے ایسی نمازوں کے اعادہ کا حکم نہیں دیا جائے گا، تاہم آئندہ کے لیے انہیں یہ تعلیم دی جائے گی کہ قنوت میں مسنون دعا پڑھی جائے یا کم از کم دعا کی نیت کے ساتھ کوئی ذکر کیا جائے۔ والله تعالى أعلم

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
498001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

07 ستمبر، 2026، 14:30

⚡ طریقہ رجوع بعد طلاق رجعی ⚡


(سوال) ایک شخص اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق طلاق کہہ دے تو رجوع کے لیے شرعاً کیا طریقہ ہے، اور کن شرائط کے ساتھ رجوع درست ہوگا؟
(جواب) اگر شوہر نے ایک ہی مجلس میں یا الگ الگ دو مرتبہ صریح الفاظ میں “طلاق” کہی ہو تو دو طلاقِ رجعی واقع ہوجاتی ہیں، ایسی صورت میں جب تک عدت باقی ہو شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ عدت کے اندر زبان سے واضح الفاظ کہہ دے کہ میں نے رجوع کیا، یا ایسے فعل کے ذریعے رجوع کرے جس سے میاں بیوی کا تعلق قائم کرنا مقصود ہو، مثلاً ازدواجی تعلق، اور رجوع کے لیے نئے نکاح یا مہر کی ضرورت نہیں، البتہ بہتر ہے کہ گواہ بھی بنالے، اگر عدت گزر جائے اور رجوع نہ کیا ہو تو نکاح ختم ہوجاتا ہے، پھر دوبارہ ساتھ رہنے کے نیا نکاح ضروری ہوگا، نیز چونکہ دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اس لیے آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔ والله تعالى أعلم.


⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
878001
⚡ امام کے ساتھ جہلا سلام پھیرنا ⚡


(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ بعض اوقات نماز میں اس قدر غفلت اور سوچ لاحق ہوجاتی ہے کہ بالکل احساس نہیں رہتا، نہ یہ یاد رہتا ہے کہ ہم نے کب سلام پھیرا اور کب نماز سے نکل گئے، پھر سلام کے بعد ہمیں یاد آتا ہے کہ سلام پھیرا جا چکا ہے، تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا اس حالت میں خروج بصنعه پایا گیا یا نہیں؟ نیز کیا خروج بصنعه کے لیے نیت اور ارادے کا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر خروج بصنعه کے لیے نیت اور ارادہ شرط نہیں، جیسا کہ الاشباه والنظائر (الفن الاول، القاعدة الثانية، الثامن في بيان عدم اشتراطها في البقاء، ص ٣٨، بيروت) میں مذکور ہے کہ نماز کے ہر جز اور ہر رکن میں حرج کی وجہ سے نیت کا ہونا ضروری نہیں، تو پھر مندرجہ ذیل صورتوں میں بھول کر سلام پھیرنے کے باوجود نمازی نماز سے کیوں نہیں نکلتا: (١) اگر مسبوق امام کے ساتھ بھول سے دونوں جانب سلام پھیر دے، (٢) یا سجدۂ سہو واجب تھا مگر بھول کر دونوں جانب سلام پھیر دیا، (٣) یا کسی شخص نے چار رکعت کی نیت باندھی اور بھول سے دو رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ان تمام صورتوں میں خروج بصنعه کیوں متحقق نہیں ہوتا، حالانکہ ان میں بھی بھول کر سلام پھیرنا پایا جا رہا ہے؟ السائل: محمد ناظم عطاری شیری، ساکن: بہیڑی ضلع بریلی شریف۔
(جواب) خروج بصنعہ کے لیے نیت شرط نہیں کہ عبادتِ ذاتِ افعال میں ابتداء کی نیت تمام اجزاء پر منسحب رہتی ہے كما قال الإمام ابن نجیم. لیکن اقوال فقہاء سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب سلام سے خروج سہوا ہو اور نمازی پر کسی فرض یا واجب کی ادائیگی باقی ہو تو استحسان کے طور نمازی حرمت نماز سے خارج نہ ہوگا۔ لہذا مذکور صورتوں میں نیت نہ ہونے باوجود بھی وہ نماز سے نہ نکلے گا۔ قال العلامة ابن نجيم: والحاصل أن المذهب المعتمد أن العبادة التي هي ذات أفعال يكتفي بالنية في أولها، ولا يحتاج إليها في كل فعل اكتفاء بانسحابها عليها، إلا إذا نوى ببعض الأفعال غير ما وضع له. (الأشباه، ص: ٣٨) وقال العلامة السعد التفتزاني: النية في أول الصلاة تجعل باقية إلى آخرها. (التلويح، ٤٠٥/١) وقال العلامة الطحطاوي: أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولا يحتاج إليها في كل جزء إكتفاء بإنسحابها عليها ويشترط لها الإسلام والتمييز والعلم بالمنوى وأن لا يأتي بمناف بين النية والمنوي. (حاشية على مراقى الفلاح، ٢١٦/١)
امام سرخسی کی مبسوط (٩٤/٢) میں ہے: وإن سلم هذا النائم عمدا كانت صلاته تامة؛ لأنه لم يبق عليه شيء من أركانها، وإن سلم ساهيا فعليه أن يتشهد ثم يسلم؛ لأنه قد بقي عليه واجب من واجبات صلاته فلا يصير خارجا بسلامه ساهيا كمن سلم ساهيا وعليه سجود التلاوة. اھـ اور محیط (٢١٤/٢) میں ہے: رجل سلم في الركعتين من الظهر ناسيًا، ثم ذكر فظن أن ذلك يقطع الصلاة، فاستقبل التكبير، ونوى به الدخول في الظهر ثانية، وهو إمام قومه، فكبروا معه ينوون ذلك فهم على صلاتهم الأولى يصلون ما بقي منها، ويسجدون السهو، وذلك لأنه لو خرج عن الصلاة لا يخلو إما أن يخرج بالسلام، أو بالنية، أو بالتكبير لا جائز أن يصير خارجًا بالسلام؛ لأن هذا سلام الساهي لأن حد السهو أن يسلم، وعليه ركن من أركان الصلاة وهو لا يعلم به، وقد وجد هذا الحد هنا فكان سلام الساهي، وقد ذكرنا غير مرة أن سلام الساهي لا يخرج المصلي عن الصلاة. لا جائز أن يصير خارجًا بالنية؛ لأنه نوى إيجاد الموجود وذلك لغو، فصار وجود النية وعدمه بمنزلة. ولا جائز أن يصير خارجًا بمجرد التكبير؛ لأن التكبير وجد في وسط الصلاة، والتكبير في وسط الصلاة، فلا يخرجه عن الصلاة. إذا ثبت أنه لا يصير خارجًا عن الصلاة الأولى، فإذا قعد في الرابعة، ثم قام إلى الخامسة تجوز صلاته، لأنه صلى الظهر خمسًا، وقعد في الرابعة قدر التشهد تجوز صلاته؛ لأنه اشتغل بالنفل بعد إكمال الفرض. وإن لم يقعد في الرابعة قدر التشهد، فسدت صلاته؛ لأنه اشتغل بالنفل قبل إكمال الفرض. محیط (٥١٤/١) پر اس کا مفصل بیان ہے۔ اور عالمگیری (٩٨/١) میں ہے: ولو سلم المسبوق مع الإمام ينظر إن كان ذاكرا لما عليه من القضاء فسدت صلاته وإن كان ساهيا لما عليه من القضاء لا تفسد صلاته؛ لأنه سلام الساهي فلا يخرجه عن حرمة الصلاة. كذا في شرح الطحاوي في باب سجود السهو. والله تعالى أعلم.

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
581001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

09 اپریل، 2026، 03:07

⚡ مخافت وجہر کی ادنی حد⚡

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومذہب اس مسئلہ میں کہ شاہزیب کہتا ہے کہ جہری قراءت کی ادنی مقدار یہ ہے کہ امام کی آواز کو پہلی صف کے کم از کم تین مقتدی سن لیں، اگر دو مقتدیوں نے سنا تو وہ جہری قراءت نہیں کہلائے گی، اور اسی پر وہ بہارِ شریعت جلد اوّل، حصہ سوم، قرآنِ مجید پڑھنے کا بیان، صفحہ ٥٤٤ سے استدلال کرتا ہے۔ جبکہ یامین کہتا ہے کہ جہری قراءت کا ادنی درجہ یہ ہے کہ پہلی صف کے مقتدی سن لیں، اس میں تین مقتدیوں کی کوئی قید نہیں، کیونکہ بہت سی مساجد میں صفیں لمبی ہوتی ہیں، اس لیے صفِ اول کے اکثر مقتدیوں کے سننے کا اعتبار ہوگا، نہ کہ تین مقتدیوں کے سننے کا، اور اس پر وہ رد المحتار کی عبارت سے دلیل دیتا ہے: إن أدنى المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين مثلا، وأدنى الجهر إسماع غيره ممن ليس بقربه كأهل الصف الأول. (رد المحتار، ٢/٣٠٩)۔ نیز یامین یہ بھی کہتا ہے کہ اگر جہر کا ادنی درجہ تین مقتدیوں کا سننا مان لیا جائے تو بعض اوقات سری نماز میں آہستہ قراءت کرنے کے باوجود تین مقتدی آواز سن لیتے ہیں، تو ایسی صورت میں اس کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟ براہِ کرم کتبِ فقہِ حنفی کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ جہر و سر کی ادنی مقدار کیا ہے، اور دونوں میں کس کا موقف صحیح ہے؟
(جواب) مخافت کی ادنی حد یہ ہے کہ نمازی خود سن سکے جبکہ کوئی مانع نہ ہو جیسا کہ بہار شریعت وغیرہ میں ہے۔ اور یہ ہنداوانی کا قول ہے جسے کئی فقہاء نے قبول فرمایا ہے۔ خود سننا یعنی الفاظ میں تمیز اور حروف کی تصحیح کے ساتھ سننا، نہ یہ کے اسے بھی محض بربراہٹ سنائی دے۔ قال اللكنوي في النافع الكبير (٩٧/١): وقال الفقيه أبو جعفر الهندواني والشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل البخاري أدنى الجهر أن يسمع غيره وأدنى المخافتة أن يسمع نفسه إلا لمانع وما دون ذلك مجمجمة وليس بقرأة وهو المختار. اور مخافت کا اعلی حد یہ ہے اس کے قریب ہے ایک یا دو مقتدی سن لیں جیسا کہ بہار شریعت میں اختیار فرمایا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد حروف کو مع تصحیح سننا ہے۔ اس سے جہر کی ادنی حد بھی معلوم ہوگئی جو کہ دو سے زیادہ مقتدیوں کو اتنی آواز میں سنانا ہے کہ وہ حروف اور الفاظ کو سمجھ سکیں۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ کئی دوسرے مقتدیوں تک بھی آواز جائے گی لیکن ان پر الفاظ وحروف ممیز نہ ہوں۔ اور جب امام سری قراءت میں مخافت کی اعلیٰ حد کا قصد کرے تو عملاً یہ ممکن ہے کہ دو سے زائد مقتدی اس کی قراءت کو واضح طور پر سن لیں، اسی طرح جب جہری نماز میں جہر کی ادنیٰ حد کا ارادہ کیا جائے تو بسا اوقات تین سے کم مقتدیوں تک ہی قراءت واضح طور پر پہنچتی ہے، اس لیے کہ امام کے لیے اپنی آواز کی بلندی و پستی کو مقتدیوں کی نہایت باریک اور متفاوت سماعت کے عین مطابق مقید رکھنا عادتاً دشوار بلکہ قریب بہ محال ہوتا ہے، لہٰذا اس قدر میں ایک دو مقتدیوں کے تفاوت اور کمی بیشی کی گنجائش کو عرفاً و فقہاً معتبر سمجھا جانا چاہیے۔ والله تعالى أعلم..


⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor

اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
521000
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

09 اپریل، 2026، 03:07

⚡ فتنہ کے متعلق ایک حدیث ⚡

(سوال) حضرت علی رضی الله عنه سے مروی یہ حدیث: قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام میں صرف نام باقی رہ جائے گا، اور قرآن میں صرف اس کی لکھائی باقی رہ جائے گی، ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی، ان کے علما آسمان کے نیچے سب سے بدتر لوگ ہوں گے، انہی سے فتنے اٹھیں گے اور انہی کی طرف لوٹیں گے۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
(جواب) امام بیہقی کی روایت میں ہے کہ علی کرم الله وجهه نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں: يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرة، وهي خراب من الهدى، علماؤهم شر من تحت أديم السماء من عندهم تخرج الفتنة وفيهم تعود. (شعب الإيمان، ٣١٧/٣؛ الكامل لابن عدی، ٣٧٨/٥) یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ امام زین العابدین نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سماع نہیں کہا۔
کئی محدثین نے اسے موقوفا روایت کیا ہے۔ (السنن الوردۃ، م: ٢٣٦؛ العقوبات لابن أبی الدنیا، ص: ٢٣؛ المجالسة. وجواهر العلم، م: ٥١٩؛ الكامل لابن عدی، ٣٧٧/٥)

اسی طرح یہ حدیث ابن عمر اور معاذ رضی الله عنهما سے مروی ہے۔ (زهر الفردوس، ٧٤٨/٤) اور یہ دونوں اسانید سخت ضعیف ہیں۔ پہلی کے سند میں خالد بن یزید عدوی ہے جسے ابن معین اور ابو حاتم وغیرہ نے کذاب کہا ہے اور دوسرے کی سند میں اسماعیل بن مسلم سکونی ہے جسے کے بارے میں دارقطنی فرماتے ہیں: متروك يضع الحديث. ان کے علاوہ بھی بعض راوی مجروح ہیں۔ مجموعی ومعنوی طور پر یہ حدیث حسن ہے اور اس میں ایسی کوئی علت نہیں جو اسے متروک کرے۔ والله تعالى أعلم



⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor
865001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

09 اپریل، 2026، 03:07

⚡ متفرق سولاات وجوابات ⚡

(سوال) ایک شخص مکان کرایہ پر لیتا ہے اور مالک مکان اُس سے کہتا ہے کہ دو لاکھ روپے نقد دے دو، دو سال بعد پورے واپس ملیں گے اور کرایہ نہیں، یا یہ کہ کرایہ دس ہزار ہے مگر اگر دو لاکھ دو گے تو دو سال کے چوبیس ہزار کاٹ کر باقی واپس کر دوں گا، یا یہ کہ دو لاکھ بھی دو اور کرایہ الگ دو لیکن دو لاکھ دینے کی وجہ سے کرایہ کم کر دیا جاتا ہے—ان میں سے کون سی صورت سود ہے اور کون سی جائز؟
(جواب) ان تینوں صورتوں میں اصل معاملہ یہ ہے کہ کرایہ دار کی طرف سے مالک کو دو لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں اور کرایہ اسی رقم کی وجہ سے کم یا ختم کیا جا رہا ہے، اور چونکہ پیشگی رقم دے کر اس کے بدلے میں کرایہ میں کمی حاصل ہو رہی ہے، لہٰذا یہ ہر صورت میں قرض کے بدلے نفع ہے، اور نبی کریم ﷺ کا اصول ہے: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا فَهُوَ رِبًا. یعنی ہر وہ قرض جو نفع کھینچے سود ہے۔ اس بنا پر تینوں صورتیں ناجائز ہیں۔ بہتر ہے کہ ڈپازٹ کا روپیہ لیتے وقت واضح کردیا جائے کہ مکان مالک اسے استعمال کرے گا اور کرایہ کو اس نیت کے ساتھ طے کیا جائے کہ اس میں کمی قرض کے سبب نہ سمجھی جائے۔ والله تعالى أعلم

(سوال) زید کی سالانہ تنخواہ دس لاکھ سے زیادہ ہے، اس نے CA سے کہا کہ انکم ٹیکس میں کم ٹیکس دینے کے لیے پانچ لاکھ سالانہ دکھاؤ، تو کیا سی-اے کو جھوٹ لکھنے کا گناہ ہوگا یا نہیں؟ اور ایسے جھوٹ پر مبنی کام کی اجرت سی-اے کے لیے حلال ہے یا نہیں؟
(جواب) سی-اے تنخواہ کم ظاہر کرتا ہے تو جھوٹ لکھنے اور دھوکا دینے کا گناہ اس پر ہوگا۔ (٢) اور چونکہ اس کا کام جھوٹ، فریب اور ناجائز طریقے پر مبنی ہے، اس لیے اس کی اجرت بھی ناجائز ہے۔ والله تعالى أعلم۔

(سوال) اگر کسی مرد نے ایک عورت کو بُری نیت سے چھوا، مگر اس کو انتشار نہیں ہوا، اور عورت کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کس نیت سے چھو رہا ہے، تو کیا اس مرد کا نکاح اس عورت کی بہن سے ہوسکتا ہے یا نہیں؟
(جواب) بلا شہوت چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی لہذا اس عورت کی بہن سے اس مرد کا نکاح جائز ہے۔ والله تعالى أعلم۔

(سوال) اگر کوئی کرائےدار بہت تنگی میں ہو، کرایہ بمشکل ادا کرتا ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو تو کیا ایسے شخص کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟ اور اگر اسے زکوٰۃ دی جائے تو کیا وہ وہی زکوٰۃ کی رقم ہمیں کرائے کی ادائیگی میں واپس دے سکتا ہے؟
(جواب) ایسے کرایہ دار کو جو فقیر ہو اور صاحبِ نصاب نہ ہو، زکوٰۃ دینا جائز ہے پھر وہ وہی رقم کرایہ ادا کرنے میں استعمال کرنا چاہے تو یہ جائز ہے، کیونکہ جب وہ مالک بن گیا تو اس کا تصرف معتبر ہے۔ والله تعالى أعلم۔


(سوال) آن لائن کاروبار میں اگر آرڈر کے وقت سامان تاجر کے پاس موجود نہ ہو اور وہ آرڈر کو ’’بیع‘‘ کے طور پر نہیں بلکہ ’’وعدۂ بیع‘‘ کے طور پر قبول کرے، پھر اصل دکاندار سے وہ چیز ادھار خرید کر، اپنی طرف سے رکھے گئے ڈیلیوری ایجنٹ کے ذریعے گاہک تک پہنچوائے، اور ڈیلیوری ایجنٹ کا قبضہ خریدار ہی کا قبضہ شمار ہو تو کیا ایسی صورت میں یہ خرید و فروخت شرعاً درست ہے؟
(جواب) مذکورہ طریقہ شرعاً درست ہے، کیونکہ منقولی چیز بیچنے سے پہلے اس پر خریدار یا اس کے وکیل کا قبضہ ضروری ہوتا ہے، اور چونکہ ڈیلیوری والا آپ کی طرف سے اجرت پر رکھا جاتا ہے، اس کا قبضہ شرعاً آپ ہی کا قبضہ ہے، لہٰذا قبضے سے پہلے فروخت کی ممانعت یہاں وارد نہیں ہوتی۔ پھر ڈیلیوری والے کا سامان گاہک کے سپرد کرنا اور قیمت وصول کرنا آپ کی جانب سے ’’بیعِ تعاطی‘‘ ہے جو معتبر ہے۔ والله تعالى أعلم

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor
730001
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 logo
🌹 شرعی عدالت چینل 🌸

09 اپریل، 2026، 03:07

⚡ متفرق سوالات وجوابات ⚡


(سوال) اگر ایک بچی کو پیدا ہوتے ہی اس کے والدین نے پرورش کے لئے ایک صاحب کے سپرد کر دیا، وہ انہی کے گھر پلی بڑھی، اسی کے نام سے اس کے سرکاری کاغذات بھی بنے اور نکاح نامہ بھی اسی نام سے تیار ہوا، لیکن نکاح کے وقت حقیقی باپ کا نام نہ لکھے جانے پر ایک امام صاحب نے نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا اور بعد میں نکاح پڑھائے جانے کے بعد بھی اسے غیر شرعی قرار دیا، تو ایسی صورت میں نکاح کا شرعی حکم کیا ہے؟
(جواب) نکاح کے صحیح ہونے نام مع ولدیت لینا ضروری نہیں لہٰذا مذکورہ صورت میں نکاح صحیح ہوگیا اور پہلے امام کا اعتراض درست نہیں، البتہ یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہے کہ منہ بولا بیٹا اپنے حقیقی باپ ہی کا بیٹا ہے، اس لئے دستاویزات جیسے شناختی کارڈ، نکاح نامہ وغیرہ میں پرورش کرنے والے شخص کی ولدیت لکھنا حرام ہے اور حقیقی والد ہی کی ولدیت لکھنا ضروری ہے۔ والله تعالى أعلم

(سوال) مسلم امیدواروں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہاتھ جوڑ کر تصویر بنانا اور اسی انداز میں ووٹ مانگنا کیسا ہے؟
(جواب) یہ ناجائز اور قابل ترک ہے کہ یہ غیر مسلم مذہبی علامت کی نقالی ہے اور شریعت میں تشبّہ کی سخت ممانعت آئی ہے۔ والله تعالى أعلم۔

(سوال) ایک شخص اپنی بیوی سے فون پر گفتگو کر رہا تھا، بیوی نے کہا کہ آپ مجھے رشتے داری میں کہیں جانے نہیں دیتے، تو شوہر نے جواب میں کہا: “آؤ اس بار تم کو آزاد کر دیتے ہیں" یعنی تم جہاں چاہو جا سکوگی،اور شوہر کی طلاق کی کوئی نیت بھی نہیں تھی۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس جملے سے طلاق واقع ہوگئی؟

(جواب) طلاق واقع نہ ہوئی، یہ محض اجازت دینے کا انداز تھا۔ " دیتا ہوں" اور "دے دیتا ہوں" میں بہت فرق ہے، ثانی محض ارادے کو ظاہر کرتا ہے لہذا اگر وہ کہتا "آؤ تجھے طلاق دے دیتا ہوں" تو اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ والله تعالى أعلم۔

(سوال) قیامت کے دن کی مقدار کتنی ہوگی؟ کیا وہ ٥٠٠٠٠ سال ہوگا یا ١٠٠٠ سال، اور ان آیات کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
(جواب) قرآنِ کریم میں قیامت کے دن کی طوالت کے بارے میں دو طرح کے بیانات پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک مقام پر فرمایا: ﴿تعرج الملائكة والروح إليه في يومٍ كان مقداره خمسين ألف سنة﴾ یعنی فرشتے اور روح اُس کی طرف چڑھ کر جاتے ہیں ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (القرآن الکریم، ٧٠/٤)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ﴿وإن يوماً عند ربك كألف سنة مما تعدّون﴾ یعنی تمہارے شمار کے مطابق ایک دن ہزار سال کے برابر ہے (القرآن الکریم، ٣٢/٥)۔ ان دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ایک ہزار کا یہ عدد قیامت کے دن کی طوالت کے بارے میں نہیں بلکہ عرش سے زمین تک نزول وصعود سے متعلق ہے۔ یعنی اس قدر وقت عرش تک جانے اور لوٹنے میں لگتا ہے جسے فرشتے ایک دن سے بھی کم میں طے کر لیتے ہیں۔ بعض مفسرین ان دو آیات میں اس طرح تطبیق فرماتے ہیں کہ قیامت کا دن کسی کافر کو پچاس ہزار برس کا محسوس ہوگا کسی کو ایک ہزار برس کا اور مومن کو ایک نماز فرض کے وقت سے بھی کم لہذا آیات و احادیث میں تعارض نہیں۔ والله تعالى أعلم

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

https://t.me/musannifeen
https://t.me/masboor
625003

Showing 15 of 15 posts

درجہ بندی

لاگ ان درکار ہے

Frequently Asked Questions

🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 ٹیلیگرام چینل کس بارے میں ہے؟+

🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (@sharayiadalatchannelfmfoundation) tgdio پر Viral Videos زمرے میں درج ایک ٹیلیگرام چینل ہے۔ اس پروفائل پر رینکنگ، ریٹنگ، ریویوز اور حالیہ پوسٹس دیکھ کر سبسکرائب کرنے سے پہلے فیصلہ کریں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 2,481 سبسکرائبرز ہیں۔

میں 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (@sharayiadalatchannelfmfoundation) کو ٹیلیگرام پر کیسے جوائن کروں؟+

tgdio پر چینل پروفائل کھولیں، پھر Join / Open in Telegram سے @sharayiadalatchannelfmfoundation پر مفت سبسکرائب کریں۔

کیا 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 اچھا Viral Videos چینل ہے؟+

tgdio پر جوائن سے پہلے 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 کی ریٹنگ، ریویوز، رینکنگ اور پوسٹس دیکھیں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 2,481 سبسکرائبرز ہیں۔ اسی Viral Videos کے دیگر چینلز سے موازنہ کریں۔

🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 کے سٹیٹس اور پوسٹس کہاں دیکھوں؟+

tgdio پر @sharayiadalatchannelfmfoundation صفحہ کھولیں — سبسکرائبرز، رینکنگ، ریٹنگ اور پوسٹس۔ Stats لنک سے گروتھ چارٹ دیکھیں۔