تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں Telegram channel photo

تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں

@tareekhislamPublic Channel

کسی بھی قوم کا رابطہ اگر اپنے ماضی سے ٹوٹ جائے تو اس قوم کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا امت مسلمہ کی تاریخ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے ایک عظیم سرمایہ ہے مسلم تاریخ کی عظیم شخصیات اور بے مثال فتوحات اس چینل میں بیان کی جائے گی-

Religionاردوپاکستان

13

Last views

8.7k (8,716 subscribers)
اراکین
—
Rating
92
Total Posts
Oct 21, 2026, 4:35 PM
اپ ڈیٹ کیا گیا
Apr 3, 2026
Created
Stats

آپ اردو میں مواد دیکھ رہے ہیں۔ دوسری زبانوں میں مواد دیکھنے کے لیے سائٹ کی زبان تبدیل کریں۔

Channel Information

Channel Information
Channel Nameتاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں
Username@tareekhislam
CategoryReligion
Languageاردو
Countryپاکستان
اراکین8,716
Channel TypePublic Channel
Created3 اپریل، 2026
Last Updated21 اکتوبر، 2026 • 12 گھنٹے پہلے
StatusActive

درجہ بندی

عالمی درجہ بندی
#290701-560
زبان کی درجہ بندی
#520کوئی تبدیلی نہیں
زمرہ کی درجہ بندی
#6193-10

سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ

کل: 8.7K30 Days growth: -1001.1%
09/2209/2710/0210/0710/1210/1710/21
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - 30 Days
DateSubscribers
22:09:20268,816
23:09:20268,816
24:09:20268,816
25:09:20268,816
26:09:20268,816
27:09:20268,816
28:09:20268,816
29:09:20268,816
30:09:20268,816
01:10:20268,816
02:10:20268,816
03:10:20268,816
04:10:20268,816
05:10:20268,816
06:10:20268,816
07:10:20268,816
08:10:20268,816
09:10:20268,816
10:10:20268,816
11:10:20268,816
12:10:20268,816
13:10:20268,745
14:10:20268,745
15:10:20268,745
16:10:20268,745
17:10:20268,745
18:10:20268,745
19:10:20268,745
20:10:20268,745
21:10:20268,716
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Weekly
DateSubscribers
Week of 30:03:20269,681
Week of 06:04:20269,629
Week of 13:04:20269,561
Week of 20:04:20269,561
Week of 27:04:20269,482
Week of 04:05:20269,482
Week of 11:05:20269,407
Week of 18:05:20269,407
Week of 25:05:20269,407
Week of 01:06:20269,296
Week of 08:06:20269,296
Week of 15:06:20269,296
Week of 22:06:20269,221
Week of 29:06:20269,221
Week of 06:07:20269,221
Week of 13:07:20269,086
Week of 20:07:20269,086
Week of 27:07:20269,086
Week of 03:08:20268,966
Week of 10:08:20268,966
Week of 17:08:20268,892
Week of 24:08:20268,863
Week of 31:08:20268,863
Week of 07:09:20268,843
Week of 14:09:20268,816
Week of 21:09:20268,816
Week of 28:09:20268,816
Week of 05:10:20268,816
Week of 12:10:20268,745
Week of 19:10:20268,716
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Monthly
DateSubscribers
April 20269,482
May 20269,407
June 20269,221
July 20269,086
August 20268,863
September 20268,816
October 20268,716
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Yearly
DateSubscribers
20268,716

Top 10 posts

Most viewed posts from this channel

By views
  1. #1🍿 Hazrat Khizar AS Ke Zinda Hone Ka Raaz | The Untold Story of Khizar1.1K
  2. #2📹 Imam Mehdi Ka Zahoor , Hazrat Isa (AS) and Dajjal | Final Prophecie1.1K
  3. #3📹 Hazrat Shamweel & Taloot (As) Ka Waqia | life of Prophet Shamwel Ta922
  4. #4📹 Prophet Daniel Story in Urdu | Hazrat Daniyal A.S Ka Waqia | Qasas 908
  5. #5📹 Qaroon Ka Khazana aur Dardnak Anjam Ka Waqiya|Who Was Qaroon? | His908
  6. #6🍿 Aurton Ko Haiz Ki Saza Kis Jurm Mein Mili? The Hidden Truth Behind 884
  7. #7📹 Hazrat Dawood (As) Ka Waqia | Prophet Dawood As life Story in Urdu 863
  8. #8🎬 Hindu Kis Nabi Ki Ummat Hain? | How Many Prophets Are Sent To India846
  9. #9📹 The Mysterious Anqa Bird in Islam | Story of Hazrat Hanzala & Griff828
  10. #10📹 Israel and Palestine War | Hamas VS Israel | World War 3 | Urdu / H788

تازہ ترین پوسٹس

❀_ اب قریش ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئے، دروازہ کھٹکھٹایا، اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا باہر نکلی، ابو جہل نے پوچھا- لڑکی تیرا باپ کدھر ہے ؟ وہ بولی- بخدا مجھے معلوم نہیں، بدزبان ابوجہل نے ایسا طمانچہ کھینچ مارا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کے کان کی بالی نیچے گر گئی_,
( طبری -247)

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
13000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-33_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کی تدبیر :- جب صحابہ کرام مکہ میں گنتی کے رہ گئے اور مشہور صحابہ میں سے صرف ابوبکر و علی رضی اللہ عنہم ہی باقی رہے تو قریش مکہ نے کہا کہ اب محمد ﷺ کے قتل کر دینے کا اچھا موقع ہے، تدبیر قتل پر غور کرنے کے لیے دارلندوہ میں خفیہ اجلاس ہوا، دار الندوہ کو قصی بن کلاب نے قائم کیا تھا، یہ گویا قریش کا ایوان ( مکان) پارلیمنٹ تھا، اس اجلاس میں نجدی کا ایک تجربہ کار بوڑھا شیطان بھی آ کر شامل ہوا تھا اور قریش کے مشہور قبائل میں سے مشہور سردار موجود تھے، ایک بولا- اسے پکڑ کر گلے میں طوق و زنجیر ڈال کر ایک مکان میں قید کر دو اور مکان کا دروازہ دہ تیغہ کر دوں تاکہ یہ بھی زہیر و نابعہ شاعروں کی موت کا مزہ چکھنا ہوا مر جائے، بوڑھا نجدی بولا - نہیں، یہ ٹھیک نہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قید ہونے کی خبر باہر نکلے بغیر نہ رہے گی, مسلمان اسے چھڑا لے جائیں گے اور طاقت پا کر تمہیں بھی فنا کر دیں گے_,"

❀_ دوسرا بولا - ایک سرکش اونٹ پر بٹھلا کر ہم اسے یہاں سے نکال دیں، ہماری طرف سے کہیں جائے، کہیں رہے، جی جئیے چاہے مرے، بوڑھا نجدی بولا - نہیں یہ رائے بھی ٹھیک نہیں, کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دلائل آویز باتوں کو بھول گئے ہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ جس سے بات کرتا ہے اس کو اپنا بنا لیتا ہے، وہ دلوں پر کیسی آسانی سے قابو پا لیتا ہے، جہاں جائے گا، وہیں کے باشندے اس کے ساتھ لگ جائیں گے اور وہ بالآخر تم سے اپنے نبی کا بدلہ لے کے چھوڑیں گے_, آخر ابوجہل نے ایسی تدبیر بتلائیں جسے تمام جلسہ نے بلا اتفاق منظورکرلیا- تجویز اور تدبیر یہ تھی کہ عرب کے ہر ایک مشہور قبیلے سے ایک ایک جواں مرد کا انتخاب کیا جائے، یہ سب بہادر رات کی تاریکی میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر کو گھیر لیں اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صبح کی نماز کے لیے باہر نکلے, اس وقت یہ سب سے بہادر اپنی اپنی تلوار سے وار کریں اور اس کی بوٹی بوٹی کر دیں، اس تدبیر کا یہ فائدہ بتایا گیا کہ جس قتل میں تمام قبیلے شامل ہوں گے، اس کا بدلہ نہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا قبیلہ لے سکے گا اور نہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو سچا ماننے والے کچھ شر و فساد اٹھا سکیں گے_,

❀_ انسانی تدبیر کے مقابلے میں الہی تدبیر:- انسانی تدبیر کے مقابلے اب الہی طاقت اور ربانی حمایت کو دیکھیے کہ جب رات کو ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر آ گھیرا، اس وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیارے بھائی علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا- تم میرے بستر پر میری چادر لے کر سو رہو، ذرا فکر نہ کرنا، کوئی شخص تمہارا بال بھی بیکا نہ کر سکے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ تو ان تلواروں کے سائے میں نہایت بے فکری سے مزے کی نیند سو رہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی حفاظت میں باہر نکلے اور ان دل کے اندھوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہوئے اور سورہ یسن پڑھتے ہوئے صاف نکل گئے، کسی نے نبی صلی وسلم کو جاتے نہ دیکھا، یہ واقعہ 27 صفر 13 نبوت بروز جمعرات (12 ستمبر 621) کا ہے،

❀_ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیارے دوست ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے اور انہوں نے جلدی سے سفر کا ضروری سامان درست کیا، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنا کمر بند کاٹ کر ستوؤں کے تھیلے کا منہ باندھ دیا، اسی شب کی تاریکی میں دونوں بزرگوار چل پڑے، مکہ سے چار میل کے فاصلے پر کوہ ثور ہے، اس کی چڑھائی سر توڑ ہے، راستہ سنگلاخ تھا، نوکیلے پتھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نازک پاؤں کو زخمی کر رہے تھے اور ٹھوکر لگنے سے بھی تکلیف ہوتی تھی، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور ایک غار پر پہنچے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر ٹھہرایا، خود اندر جا کر غار کو صاف کیا، تن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے سوراخ بند کیے اور پھر عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئیں , صبح ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ حسب معمول خواب سے بیدار ہوئے، قریش نے قریب جا کر انہیں پہچانا، پوچھا - محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا- مجھے کیا خبر, کیا میرا پہرہ تھا، تم لوگوں نے انہیں نکل جانے دیا اور وہ نکل گئے، قریش غصے اور ندامت سے علی رضی اللہ عنہ پر پل پڑے، ان کو مارا اور خانہ کعبہ تک پکڑ لائے اور تھوڑی دیر کے لئے رکھا، آخر چھوڑ دیا ,
12000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-32_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عیاش رضی اللہ عنہ اور ہشام رضی اللہ عنہ صحابی بھی ان کے ساتھ مدینہ چلنے کو تیار ہوئے تھے، عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ تو روانگی کے وقت جائے مقررہ پر پہنچ گئے، مگر ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی بابت مشرکین کو خبر لگ گیی، ان کو قریش نے قید کر دیا، عیاش رضی اللہ عنہ مدینہ جا پہنچے تھے کہ ابوجہل اپنے بھائی حرث کے ساتھ مدینہ پہنچا، عیاش رضی اللہ عنہ ان کے چچیرے بھائی تھے اور تینوں کی ایک ماں تھی_,"

❀_ ابوجہل و حرث نے کہا کہ تمہارے بعد والدہ کی بری حالت ہو رہی ہے، اس نے قسم کھائی ہے کہ عیاش کا منہ دیکھنے تک نہ سر میں کنگھی کروں گی اور نہ سایہ میں بیٹھوں گی، اس لئے بھائی تم چلو اور ماں کو تسکین دے کر آ جانا _,"
❀_ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا - عیاش رضی اللہ عنہ مجھے تو یہ فریب معلوم ہوتا ہے، تمہاری ماں کے سر میں کوئی جوں پڑ گئی تو وہ خود ہی کنگھی کر لے گی اور مکہ کی دھوپ نے ذرا خبر لی تو وہ خود ہی سایہ میں جا بیٹھےگی، میری رائے تو یہ ہے کہ تم کو جانا نہیں چاہیے، عیاش رضی اللہ عنہ بولے - نہیں، میں والدہ کی قسم پوری کرکے واپس آ جاؤں گا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا - اچھا اگر یہی رائے ہے تو سواری کے لئے میری ناقہ لے جاؤ، یہ بہت تیز رفتار ہے، اگر راستے میں تمہیں ذرا بھی ان سے شبہ گزرے تو تم اس ناقہ پر باآسانی ان کی گرفت سے بچ کر آ سکو گے_,"

❀_ عیاش رضی اللہ عنہ نے ناقہ لے لی، یہ تینوں چل پڑے، ایک روز راہ میں (مکہ کے قریب) ابوجہل نے کہا- بھائی ہمارا اونٹ تو ناقہ کے ساتھ چلتا چلتا رہ گیا، بہتر ہے کہ تم مجھے اپنے ساتھ سوار کرلو، عیاش رضی اللہ عنہ بولے- بہتر, جب عیاش رضی اللہ عنہ نے ناقہ بٹھائیں تو دونوں بھائیوں نے انہیں پکڑ لیا، مشکیں کس لیں اور مکہ میں اسی طرح لے کر داخل ہوئے، یہ دونوں بڑے فخر سے کہتے تھے کہ دیکھو، بے وقوفوں، احمقوں کو یوں سجا دیا کرتے ہیں، اب عیاش کو بھی ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ قید کر دیا گیا،

❀_ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ گئے، تب حضور کی تمنا پوری کرنے کے لیے ولید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے، زندان خانے سے دونوں کو شباشب نکال کر لے گئے، ( سیرت ابن ہشام - 1/167)

❀_ ان حکایات سے قارئین یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ہجرت کے وقت بھی صحابہ کرام کو کیسی سخت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، گھر چھوڑنا بھی بلا خاص جدوجہد اور ابتلاء وامتحان کے آسان نہ تھا_,

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
125000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-31_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ارادہ کیا، مجھے اونٹ پر چڑھیا، میری گود میں میرا بچہ سلمیٰ تھا، جب ہم چل پڑے تو بنو مغیرہ نے آکر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا، کہا - تو جا سکتا ہے، مگر ہماری لڑکی کو نہیں لے جا سکتا، اب بنو عبدلاسد بھی آگئے، انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا- تو جا سکتا ہے مگر بچہ کو جو ہمارے قبیلے کا بچہ ہے، تو نہیں لے جا سکتا,

❀_ غرض انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے اونٹ کی مہار لے کر اونٹ بٹھا دیا، بنو عبدالاسد تو گود کے بچے کو ماں سے چھین کے لے گئے اور بنو مغیرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ جو دین کے لیے ہجرت کرنا فرض سمجھتے تھے اپنے بیوی بچے کے بغیر روانہ ہوگئے _,"

❀_ ام سلمہ رضی اللہ عنہا روز شام کو اسی جگہ جہاں بچہ اور شوہر سے الگ ہو گئی تھی پہنچ جاتی، گھنٹوں رو دھو کر واپس آ جاتی، ایک سال اسی طرح روتے چلاتے گزر گیا، آخر ان کے ایک چچیرے بھائی کو رحم آیا اور ہر دو قبائل سے کہہ سن کر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دلا دی کہ اپنے شوہر کے پاس چلی جائے، بچہ بھی ان کو واپس دے دیا گیا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا ایک اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ کو تنہا چل دیں_," ( سیرت ابن ہشام- 108)

❀_ ایسی ہی مشکلات کا سامنا تقریباً ہر ایک صحابی کو کرنا پڑا تھا،

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
234000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-30_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے 12 نقیب :- اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بارہ اشخاص کا انتخاب کیا اور ان کا نام نقیب رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ جس طرح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے لیے بارہ شخصوں کو چن لیا تھا اسی طرح میں تمہیں انتخاب کرتا ہوں، تاکہ اہل یثرب میں جا کر دین کی اشاعت کرو، مکہ والوں میں میں خود یہ کام کروں گا_,

❀_ ان کے نام یہ ہیں:- قبیلہ بنو خزرج کے 9 - اسد بن زرارہ رضی اللہ عنہ, رافع بن مالک رضی اللہ عنہ، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ( یہ تینوں عقبہ اولیٰ میں بھی تھے) سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ، منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، براہ بن معرور رضی اللہ عنہ، عبداللہ عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ،
"_ قبیلہ اوس کے 3 - اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ، ابوالہشیم بن تیہان رضی اللہ عنہ،

❀_ عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسلمانوں کو جو مکہ سے باہر نہ گئے تھے لیکن جن پر اب اتنے ظلم و ستم ہونے لگے تھے کہ پیارا وطن ان کے لیے آگ کا پہاڑ بن گیا، یثرب چلے جانے کی اجازت فرمادی، ان ایمان والوں کو گھربار، قریبی رشتے دار و اقارب ، باپ، بھائی، زن و فرزند کے چھوڑنے کا ذرا بھی غم نہ تھا بلکہ خوشی یہ تھی کہ یثرب جاکر اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت پوری آسانی سے کر سکیں گے_,"

❀_ ہجرت کرنے والوں اور گھر بار چھوڑ کر جانے والوں کو قریش کی سخت مزاحمت کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا، صہیب رومی رضی اللہ عنہ جب ہجرت کر کے جانے لگے تو قریش نے انہیں آ گھیرا، کہا - صہیب جب تو مکہ آیا تھا تو مفلس و قلاش تھا، یہاں ٹھہر کر تو نے ہزاروں کمائے، آج یہاں سے جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ سب مال و زر لے کر چلا جائے گا، یہ تو کبھی نہیں ہونے والا، صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا- اچھا اگر میں اپنا سارا مال و متاع تمہیں دے دوں تب تم مجھے جانے دو گے ؟ کہا- ہاں, حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے سارا مال انہیں دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سن کر فرمایا کہ اس سودے میں صہیب رضی اللہ عنہ نے نفع کمایا _," ( سیرت ابن ہشام -168)

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
189000
❀_ ایک شیطان نے پہاڑ کی چوٹی سے یہ نظارہ دیکھا اور چیخ کر اہل مکہ کو پکار کر کہا :- لوگوں ! آؤ، دیکھو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے فرقے کے لوگ تم سے لڑائی کے مشورے کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- تم اس آواز کی پرواہ نہ کرو، عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا :- اگر حضور کی اجازت ہو تو ہم کل ہی مکہ والوں کو اپنی تلوار کے جوہر دکھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- نہیں مجھے جنگ کی اجازت نہیں _,"
( زادالمعاد -3/48)

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
344002
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ- 29_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀__ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے وعظ پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ایمان قبول کرنا:- سعد وہاں پہنچے، دیکھا کہ مصعب رضی اللہ عنہ و اسد رضی اللہ عنہ دونوں اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں، سعد رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اسید رضی اللہ عنہ نے مجھے ان کی باتیں سننے کے لیے بھیجا ہے، یہ خیال آتے ہی انہیں گالیاں دینے لگے اور اسد رضی اللہ عنہ کو یہ کہا کہ اگر میرے تمہارے درمیان قرابت نہ ہوتی تو تمہاری کیا مجال تھی کہ ہمارے محلے میں چلے آتے،
❀_ اسد رضی اللہ عنہ نے مصعب رضی اللہ عنہ سے کہا - دیکھو یہ بڑے سردار ہیں اور اگر ان کو سمجھا دو تو پھر کوئی دو آدمی بھی تمہارے مخالف نہ رہ جائیں گے _, مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے سعد سے کہا - آئیے بیٹھ جائیے، کوئی بات کریں، ہماری بات پسند آئے تو قبول فرمائیں ورنہ انکار کر دیجئے _"،

❀_ سعد رضی اللہ عنہ حربہ رکھ کر بیٹھ گئے، مصعب رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے اسلام کے حقیقت بیان کی اور قرآن مجید بھی سنایا، آخر سعد رضی اللہ عنہ نے بھی وہی سوال کیا جو اسید رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، الغرض سعد رضی اللہ عنہ اٹھے، غسل کیا، کپڑے دھوئے، کلمہ پڑھا، نفل ادا کیے اور ہتھیار لے کر اپنی مجلس میں واپس آئے، آتے ہی اپنے قبیلے کے لوگوں کو پکار کر کہا - اے بنی عبد الاشہل ! تم لوگوں کی میرے بارے میں کیا رائے ہے ؟ سب نے کہا کہ تم ہمارے سردار ہو، تمہاری رائے، تمہاری تلاش بہتر اور اعلٰی ہوتی ہے، سعد رضی اللہ عنہ بولے- سنو خواں کوئی مرد ہے یا عورت، میں اس سے بات کرنا حرام سمجھتا ہوں جب تک کہ وہ اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے _,
❀_ ان کے کہنے کا یہ اثر ہوا کہ بنی عبدالاشہل میں شام تک کوئی مرد اسلام سے خالی نہ رہا اور تمام قبیلہ ایک دن میں مسلمان ہو گیا، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی تعلیم سے اسلام کا چرچا اسی طرح انصار کے تمام قبیلوں میں پھیل گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال 13 نبوت کو تہتر (73) مرد دو (2) عورتیں یثرب کے قافلے میں مل کر مکہ آئے، ان کو یثرب کے اہل ایمان نے اس لیے بھی بھیجا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں آنے کی دعوت دیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منظوری حاصل کریں _,

❀_ یہ راستبازوں کا گروہ اسی متہرک مقام پر جہاں دو سال سے اس شہری یثرب کے مشتاق حاضر ہوا کرتے تھے، رات کی تاریکی میں پہنچ گیا اور اللہ کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے تایا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیے ہوئے وہاں جا پہنچے،(طبری-244)
❀_ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ( جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے) اس وقت ایک بات کام کی کہی، انہوں نے کہا- لوگو تمہیں معلوم ہے کہ قریش مکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ہیں، اگر تم ان سے کوئی عہد و قرار کرنے لگو تو پہلے سمجھ لینا کہ یہ ایک نازک اور مشکل کام ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد و پیمان سرخ و سیاہ لڑائیوں کو دعوت دینا ہے، ( سرخ و سیاہ لڑائی سے مراد سخت خونریز لڑائی ہے اور سیاہ لڑائی سے مراد تاریک انجام والی لڑائی مراد ہوتی ہے) جو کچھ کرو سوچ سمجھ کر کرو ورنہ بہتر ہے کہ کچھ بھی نہ کرو_,"

❀_ ان راستبازوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو کچھ بھی جواب نہ دیا، ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ارشاد فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اللہ کا کلام جو اللہ کا پیغام انسان کی طرف ہے، پڑھ کر سنایا، جس کے سننے سے وہ ایمان و ایقان کے نور سے بھرپور ہوگئے، اب سب لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ہمارے شہر میں چل کر بسیں تاکہ ہمیں پورا پورا فیض حاصل ہو سکے،

❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-_ کیا تم دین حق کی اشاعت میں میری پوری پوری مدد کرو گے؟ اور جب میں تمہارے شہر میں جا بسوں اور میرے ساتھیوں کی حمایت اپنے اہل وعیال کی مانند کرو گے ؟ ایمان والوں نے پوچھا:- ایسا کرنے کا ہم کو معاوضہ کیا ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- بہشت (جو نجات اور اللہ کی خوشنودی کا محل ہے )
❀_ ایمان والوں نے عرض کیا:- اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو ہماری تسلی فرما دیجئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کبھی چھوڑ تو نہ دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- میرا جینا، میرا مرنا تمہارے ساتھ ہوگا_,
"_ اس آخری فکرے کا سننا تھا کہ عاشقان صداقت عجب سرور و نشاط کے ساتھ جانثاری کی بیعت اسلام کرنے لگے، براء بن معرور رضی اللہ عنہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے اس شب سب سے پہلے بیعت کی،
328001
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-28_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀__ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ:- جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعلیم کے لیے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ساتھ کر دیا، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ امیر گھرانے کے لاڈلے بیٹے تھے، جب گھوڑے پر سوار ہو کر نکلتے تو آگے پیچھے غلام چلا کرتے تھے، بدن پر دو سو درہم سے کم کی پوشاک کبھی نہیں پہنتے، پھر جب ان کو اسلام کے طفیل روحانی عیش حاصل ہوا تب ان جسمانی آرائش اور نمائش کو انہوں نے بالکل چھوڑ دیا تھا، جن دنوں یہ مدینہ میں دین حق کی منادی کرتے اور تبلیغ کیا کرتے تھے، ان دنوں ان کے کندھے پر صرف کمبل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا تھا، جسے اگلی طرف سے کیکر کے کانٹوں سے اٹکا لیا کرتے تھے_,"

❀_ بیعت عقبہ ثانیہ :- مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر جاکر اترے تھے اور ان کو مدینے والے "المقرئ" (پڑھانے والا استاد ) کہا کرتے تھے، ایک دن مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ و اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور چند مسلمان " بیرمرق " پر جمع ہوئے، یہ غور کرنے کے لیے کہ نبی عبدالاشہل اور بنی ظفر میں کیوں کر اسلام کی منادی کی جائے_,"
❀_ سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر ان قبائل کے سردار تھے اور ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، انہیں بھی خبر ہوئی، سعد بن معاذ نے اسید بن حضیر سے کہا- تم کس غفلت میں پڑے ہو دیکھو یہ دونوں ہمارے گھروں میں آکر ہمارے بیوقوفوں کو بہکانے لگے، تم جاؤ، انہیں جھڑک دو اور کہہ دو کہ ہمارے محلے میں پھر کبھی نہ آئیں، میں خود ایسا کرتا، مگر اس لیے خاموش ہوں کہ اسعد میری خالہ کا بیٹا ہے _,"

❀_ اسید بن حضیر اپنا ہتھیار لے کر روانہ ہوئے، اسعد رضی اللہ عنہ نے مصعب رضی اللہ عنہ کو کہا - دیکھو یہ قبیلے کا سردار آ رہا ہے، اللہ کرے کہ وہ تمہاری بات مان جائے، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ آکر بیٹھ گیا تو میں اس سے ضرور کلام کروں گا، اتنے میں اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کھڑے کھڑے گالیاں دیتے رہے اور یہ بھی کہا کہ ہمہارے احمق نادان لوگوں کو پھسلا نے آئے ہو _,
❀_مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا:- کاش آپ بیٹھ کر کچھ سن لیں، اگر پسند آئے، قبول فرمائیں، نہ پسند ہو تو اسے چھوڑ جائیں، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا- خیر کیا مضائقہ ہے، مصعب رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ اسلام کیا ہے اور پھر انہیں قرآن مجید بھی پڑھ کر سنایا، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سب کچھ چپ چاپ سنا، بالآخر کہا- ہاں ! یہ بتلاؤ کہ جب کوئی تمہارے دین میں داخل ہونا چاہتا ہے تو تم کیا کرتے ہو ؟
❀_ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا :- نہلا کر، پاک کپڑے پہنا کر کلمہ شہادت پڑھا دیتے ہیں اور دو رکعت نفل پڑھوا دیتے ہیں_, اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اٹھے، غسل کیا، کپڑے دھوئے، کلمہ شہادت پڑھا اور نفل ادا کیے، پھر کہا - میرے پیچھے ایک اور شخص ہے، اگر تمہارا پیروں ہو گیا تو پھر کوئی تمہارا مخالف نہ رہے گا اور میں جا کر ابھی تمہارے پاس بھیج دیتا ہوں_,"
❀_ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ چلے گئے، ادھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے انتظار میں تھے، دور سے چہرہ دیکھتے ہی بولے - دیکھو اسید کا وہ چہرہ نہیں ہے جو جاتے وقت تھا، جب اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ آ بیٹھے تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بولے - میں نے انہیں سمجھا دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری منشا کے خلاف کچھ نہ کریں گے, مگر وہاں تو ایک اور حادثہ پیش آیا، بنو حارثہ وہاں آگئے اور اسد بن زرارہ کو اس لیے قتل کرنے پر آمادہ ہیں کہ وہ تمہارا بھائی ہے_,"

❀_ یہ سن کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ غصہ میں بھر گئے اور اپنا حربہ سنبھال کر کھڑے ہو گئے، انہیں ڈر تھا کہ بنو حارثہ ان کے بھائی کو نہ مار ڈالے، انہوں نے چلتے وقت یہ بھی کہا کہ اسید تم تو کچھ بھی کام نہ بنا کے آئے _,

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
319000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-27_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_ اسباب ہجرت :- 11 نبوت کے موسم حج کا ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی تاریکی میں شہر مکہ سے چند میل پرے مقام عقبہ پر لوگوں کو باتیں کرتے سنا، اس آواز پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے، یہ چھ آدمی تھے، امامہ اسعد بن زرارہ، عوف بن حارثہ، رافع بن مالک، قطبہ بن عامر بن حدید، عقبہ بن عامر اور سعد بن ربیع، یہ یثرب سے آئے تھے، ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی عظمت و جلال کا بیان شروع کیا, ان کی محبت کو اللہ کے ساتھ گرمایا، بتوں سے ان کو نفرت دلائی، نیکی و پاکیزگی کی تعلیم دے کر گناہوں اور برائیوں سے منع فرمایا، قرآن مجید کی تلاوت فرما کر ان کے دلوں کو روشن فرمایا، یہ لوگ اگرچہ بت پرست تھے لیکن انہوں نے اپنے شہر کے یہودیوں کو بار بار یہ ذکر کرتے ہوئے سنا تھا کہ ایک نبی عنقریب ظاہر ہونے والا ہے، اس تعلیم سے وہ اسی وقت ایمان لے آئے اور جب اپنے وطن کو لوٹ کر گئے تو دین حق کے سچے مناد بن گئے _,"

❀_ وہ ہر ایک کو یہ خوشخبری سناتے تھے کہ وہ نبی ہیں، جس کا تمام عالم کو انتظار تھا، آ گیا، ہمارے کانوں نے ان کا کلام سنا، ہماری آنکھوں نے ان کا دیدار کیا، انہوں نے ہم کو زندہ رہنے والے الہ سے ملا دیا کہ دنیا کی زندگی اور موت اب ہمارے سامنے ہے، ان لوگوں کی بشارت لے جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ یثرب کے گھر گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہونے لگا اور اگلے سال 12 نبوت کو یثرب کے 12 باشندے مکہ میں حاضر ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے دولتِ ایمان حاصل کی، ان لوگوں نے جن باتوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعیت کی تھی وہ یہ ہیں:-
(١) _ ہم رب واحد کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے،
(٢)_ ہم چوری اور زنا کاری نہیں کریں گے،
(٣)_ ہم اپنی اولاد( لڑکیوں) کو قتل نہیں کریں گے,
(٤)_ ہم کسی پر جھوٹی تہمت نہیں لگائیں گے اور نہ کسی کی چغلی کیا کریں گے،
(٥)_ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر ایک اچھی بات میں کیا کریں گے_,

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
238001
میرے ساتھ چلو، میں پہلے اندر جا کر دیکھ لوں گا، اگر اس وقت ملنا مناسب نہ ہو گا تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو جاؤں گا، گویا جوتا درست کر رہا ہوں_,*
❀_ ‌الغرض ابوذر رضی اللہ عنہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خدمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچے اور عرض کیا کہ مجھے بتلایا جائے کہ اسلام کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی بابت بیان فرمایا اور ابوذر رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے_,

❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- ابو ذر ! تم ابھی اس بات کو چھپائے رکھوں اور اپنے وطن کو چلے جاؤ, جب تمہیں ہمارے ظہور کی خبر مل جائے تب آ جانا, ابو ذر رضی اللہ عنہ بولے- بخدا ! میں تو ان دشمنوں میں اعلان کرنے جاؤں گا، اب ابوذر رضی اللہ عنہ کعبہ کی طرف آئے، قریش جمع تھے، انہوں نے سب کو سنا کر باآواز بلند کلمہ شہادت پڑھا، قریش نے کہا- اس بے دین کو مارو، لوگوں نے انہیں مارنا شروع کر دیا، عباس رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے انہیں جھک کر دیکھا اور کہا- کم بختوں ! یہ تو قبیلہ بنو غفار کا آدمی ہے, جہاں تم تجارت کو جاتے اور کھجوریں لاتے ہو, لوگ ہٹ گئے، اگلے دن انہوں نے پھر سب کو سنا کر کلمہ پڑھا، پھر لوگوں نے مارا اور عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو چھوڑایا اور یہ اپنے وطن کو چلے آئے _,
( بخاری - 3522)

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
213001
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-26_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا :- انہی دنوں طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے, یہ قبیلہ دوس کے سردار تھے اور یمن میں ان کے خاندان میں رئیسانہ حکومت تھی، طفیل رضی اللہ عنہ بذات خود شاعر و دانش مند شخص تھے، اہل مکہ نے آبادی سے باہر جا کر ان کا استقبال کیا اور اعلیٰ پیمانے پر ان کی خدمت اور تواضع کی، طفیل رضی اللہ عنہ کا اپنا بیان ہے کہ مجھے اہل مکہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ شخص جو ہم میں سے نکالا ہے، اس سے ذرا بچنا، اسے جادو آتا ہے، جادو سے باپ بیٹے، زن و شوہر، بھائی بھائی میں جدائی ڈال دیتا ہے، ہماری جمیعت کو پریشان اور ہمارے کام ابتر کر دیے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ تمہاری قوم پر بھی ایسی ہی کوئی مصیبت پڑے، اس لئے ہماری زور سے یہ نصیحت ہے کہ نہ اس کے پاس جانا، نہ اس کی بات سننا اور نہ خود بات چیت کرنا _,"
❀_ یہ باتیں انہوں نے ایسی عمدگی سے میرے ذہن نشین کر دیں کہ جب میں کعبہ میں جانا چاہتا تو کانوں کو روئی سے بند کر لیتا، تاکہ محمد صل اللہ علیہ وسلم کی آواز کی بھنک بھی میرے کان میں نہ پڑ جائے، ایک روز میں صبح ہی خانہ کعبہ میں گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، چوںکہ اللہ کی مصیبت یہ تھی کہ ان کی آواز میری سماعت تک ضرور پہنچے، اس لیے میں نے سنا کہ ایک نہایت عجیب کلام وہ پڑھ رہے ہیں،

❀_ اس وقت میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا کہ میں خود شاعر ہوں، با علم ہوں، اچھے برے کی تمیز رکھتا ہوں، پھر کیا وجہ ہے؟ اور کون سی روک ہے کہ میں ان کی بات نہ سنوں، اچھی بات ہوگی تو مانوں گا ورنہ نہیں مانوں گا، میں یہ ارادہ کر کے ٹھہر گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر کو چلے گئے، تو میں بھی پیچھے پیچھے ہو لیا، اور جب مکان پر حاضر ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا واقعہ مکہ میں آنے، لوگوں کے بہکانے، کانوں میں روئی لگانے اور آج حضور صل اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کچھ سن پانے کا کہہ سنایا اور عرض کیا کہ مجھے اپنی بات سنائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھا، بخُدا ! میں نے ایسا پاکیزہ کلام کبھی سنا ہی نہ تھا, جو اس قدر نیکی اور انصاف کی ہدایت کرتا ہو_,
❀_ الغرض طفیل رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے، جسے قریش بات بات میں مخدوم و مطاع کہتے تھے، وہ بات کی بات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دل و جان سے خادم اور مطبع بن گیا، قریش کو ایسے شخص کا مسلمان ہونا نہایت شاق و ناگوار گزرا_,
®_( ابن سعد فی الطبقات، 14/ 176)

❀_ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا:- ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے شہر یثرب ہی میں تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ اڑتی سی خبر سنی، انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم مکہ جاؤ، مکہ میں اس شخص سے مل کر آؤ اور پھر مجھے بتاؤ_, انیس برادر ابوذر ایک مشہور فصیح شاعر، زبان آور تھے، وہ مکہ میں آئے، نبی صل اللہ علیہ وسلم سے ملے، پھر بھائی کو بتایا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا شخص پایا جو نیکیوں کے کرنے کا اور شر سے بچنے کا حکم دیتے ہیں _,

❀_ ابوذر رضی اللہ عنہ بولے، اتنی بات سے تو کچھ تسلی نہیں ہوتی، آخر خود پیدل چل کر مکہ پہنچے، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت نہ تھیں اور کسی سے دریافت کرنا بھی وہ پسند نہ کرتے تھے، زمزم کا پانی پی کر کعبہ ہی میں لیٹ رہے، علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے پاس کھڑے ہو کر کہا کہ یہ تو کوئی مسافر معلوم ہوتا ہے، ابوذر رضی اللہ عنہ بولے, ہاں, علی رضی اللہ عنہ نے کہا- اچھا میرے ہاں چلو، یہ رات کو وہیں رہے، نہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کچھ پوچھا، نہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا،
❀_ صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ پھر کعبہ میں آ گئے، دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش تھی، مگر کسی سے دریافت نہیں کرتے تھے، علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ پھر آ پہنچے، انہوں نے فرمایا- شاید تمہیں اپنا ٹھکانہ نہ ملا، ابوذر رضی اللہ عنہ بولے- ہاں، علی رضی اللہ عنہ پھر ساتھ لے گئے، اب انہوں نے پوچھا- تم کون ہو اور کیوں یہاں آئے ہو ؟ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا- راز رکھو تو میں بتلا دیتا ہوں، علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا _,

*❀_ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا- میں نے سنا ہے کہ شہر میں ایک شخص ہے جو اپنے آپ کو نبی اللہ بتلاتا ہے، میں نے اپنے بھائی کو بھیجا تھا، وہ یہاں سے کچھ تسلی بخش بات لے کر نہیں گیا، اس لئے میں خود آیا ہوں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا:- تم خوب آئے اور خوب ہوا کہ مجھ سے ملے، دیکھو میں انہیں کی خدمت میں جا رہا ہوں،
252000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-25_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_معراج:- 27 رجب 10 نبوت کو معراج ہوئی اور اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو "مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ" کی سیر کرائیں، اول مسجد حرام سے بیت المقدس تک تشریف لے گئے، وہاں امام بن کر جماعت انبیاء علیہ السلام کو نماز پڑھائی، پھر آسمانوں کی سیر کرتے اور انبیاء علیہ السلام سے ان کے مقامات پر ملتے ہوئے "سدرۃالمنتہیٰ" اور "بیت المعمور" تک پہنچے اور وہاں سے قرب حضوری خاص حاصل ہوا اور گوناگو وحی سے مشرف ہوئے _,"
❀_ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ و امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سیر روہ مبارک کو ہوئی تھی اور جسم مبارک اپنی جگہ سے مفقود ( غائب) نہیں ہوا تھا, علمائے جمہور کا قول ہے کہ اسراء بدن مبارک کے ساتھ تھا، (زادالمعاد 3/40)

❀_ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ تک پھر صدرة المنتہیٰ تک اور جہاں تک کہ اللہ نے چاہا، سیر کرائیں گئی، یہ سب کچھ جسم کے ساتھ بیداری میں تھا، لیکن یہ ایک مقام ہے جو مثال اور شہادت کے درمیان برزخ ہے اور ہر دو عالم مذکورہ کے احکام کا جامع ہوتا ہے، پس جسم پر روح کے احکام ظاہر ہوئے اور روح اور معانی نے جسم کو قبول کر کے تمثیل اختیار کیا، اسی لئے ان واقعات میں سے ہر واقعے کی ایک حقیقت ہے _,"
❀_ شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن دودھ کا، ایک برتن شراب کا پیش کیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو پسند فرمایا اور جبرائیل علیہ السلام نے بتلا دیا کہ آپ نے فطرت اصلیہ کو پسند فرمایا، اگر شراب کا برتن آپ لے لیتے تو آپ کی امت بھٹک جاتی، دیکھو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو فطرت پر جمع کرنے والے تھے اور دودھ سے مراد یہی ہے کہ امت فطرت کو پسند کرے، دنیاوی لزات کو پسند نہ کرے _,

❀_ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا براق پر سوار ہونا، مسجد اقصیٰ تک سیر، انبیاء علیہ السلام کی امامت، انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ملاقات اور مفاخرت، آسمان پر یکے بعد دیگرے چڑھنا، درجہ بہ درجہ تعلقات طبعی سے نکل کر مستوی رحمٰن کی طرف جانا، سدرۃ المنتہا، رہے وہ انوار، وہ تجلیات رحمانی اور تدبیرات الہیہ، بیت المعمور، ہر ایک امر کی اپنی حقیقت ہے _,"
❀_ پانچ نمازوں کا تقرر بھی زبان تجویزی سے ہوا، یہ پانچ نمازیں سواب میں پچاس کے برابر ہیں، گویا رب کریم نے آہستہ آہستہ یہ سمجھایا کہ ثواب تو (پچاس کے برابر) کامل ہے اور حرج اور مرض اٹھا دیا گیا, یہ مطلب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سند سے متمثل ( مثل، مانند) کیا گیا ہے, کیونکہ جناب ممدوح (موسیٰ علیہ السلام) امت کی اصلاح و درستی اور اصول سیاست، امت کی شناخت میں اکثر انبیاء علیہ السلام سے بڑھے ہوئے ہیں _,"

❀_ اکثر مفسرین نے معراج کا ذکر طائف کی واپسی کے بعد کیا ہے، مگر امام طبری نے اپنی کتاب میں ابتدائے نبوت سے دوسرے دن ہی میراج کا ہونا تحریر کیا ہے، ان کی تائید اس دلیل سے بخوبی ہوتی ہے کہ جب فرضیت نماز کا حکم شب معراج میں ہوا اور نبی صل اللہ علیہ وسلم اور دیگر مسلمان اس وقت سے ہی برابر نماز پڑھتے تھے تو نماز کی فرضیت کا حکم گیارہ سال تک کیوں کر متاخر رہ سکتا ہے، لیکن حسب بیان شاہ عبدالحق محدث دہلوی ( مندرجہ شرح سفر سعادت ص 36) کہ پہلے صرف دو نمازیں فجر و عصر فرض ہوئی تھیں، اب شب معراج کو پانچ نمازیں فرض ہوئیں، کوئی اشقال نہیں رہ جاتا _,

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
501002
اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی بھی نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی ظاہر کرتا ہوں ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا بندہ اور رسول ہے_,"*

❀_ ضماد رضی اللہ عنہ نے اس قدر سنا تھا بول اٹھے کہ انہی کلمات کو پھر سنا دیجئے، دو تین دفعہ انہوں نے انہیں کلمات کو سنا اور پھر بے اختیار بول اٹھے، میں نے بہترے کاہن دیکھے اور ساحر دیکھے، شاعر سنے، لیکن ایسا کلام تو میں نے کسی سے بھی نہ سنا، یہ کلمات تو ایک اتھاہ سمندر جیسے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا ہاتھ بڑھاؤ کہ میں اسلام کی بیعت کرلوں_،"
"_ ( مسلم 2008, نسائ 3278, ابن ماجہ 1893)

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
536001
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-24_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀__ مختلف مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ کے لیے جانا:- مکہ میں واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اب ایسا کرنا شروع کیا کہ مختلف قبیلوں کی سکونت گاہوں میں تشریف لے جاتے یا مکہ سے باہر چلے جاتے اور جو کوئی مسافر آتا جاتا مل جاتا اسے ایمان اور اللہ پرستی کا وعظ فرماتے، انہی ایام میں قبیلہ بنو کندہ میں تشریف لے گئے، سردار قبیلے کا نام ملیح تھا، نیز قبیلہ عبداللہ کے ہاں بھی پہونچے، انہیں فرمایا کہ تمہارے باپ کا نام عبداللہ تھا، قبیلہ بنو حنیفہ کے گھروں میں تشریف لے گئے، انہوں نے سارے عرب بھر میں سب سے بدتر طریق پر نبی صل اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا،
❀_ قبیلہ بنو عامر بن صعصعہ کے پاس گئے، سردار قبیلہ کا نام بحیرہ بن فراس تھا، اس نے دعوت اسلام سن کر نبی صل اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :- بھلا اگر ہم تیری بات مان لیں اور تو مخالفین پر غالب آ جائے تو کیا تو یہ وعدہ کرتا ہے کہ تیرے بعد یہ امیر ( نبوت) مجھ سے متعلق ہوگا, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہ جسے چاہے گا میرے بعد اسے مقرر کرے گا، ‌ بحیرہ بولا:- خوب ! اس وقت تو عرب کے سامنے سینہ سپر ہم بنے اور جب تمہارا کام بن جائے تو مزے کوئی اڑائے، جاؤ ہم کو تیرے کام سے کچھ سروکار نہیں، قبائل کے سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے _،,

❀_ سوید بن صامت رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا:- انہیں ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سوید بن صامت رضی اللہ عنہ ملے، ان کا لقب اپنی قوم میں کامل تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت اسلام فرمائی، وہ بولے - شاید آپ کے پاس وہی کچھ ہے جو میرے پاس بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:- تمہارے پاس کیا ہے ؟ وہ بولے:- حکمت لقمان_,"
"_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- بیان کرو ," انہوں نے اپنے کچھ عمدہ اشعار سنائے, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- یہ اچھا کلام ہے، لیکن میرے پاس قرآن جو اس سے افضل تر ہے اور ہدایت اور نور ہے، اور وہ قرآن سن کر اسلام لے آئے، جب یثرب لوٹ کر گئے تو قوم خزرج نے انہیں قتل کر ڈالا ," ( طبری 232)

❀_ سفارت یثرب میں تبلیغ فرمانا، ایاس بن معاذ کا راہ یاب ہونا:- انہیں ایام میں ابوالحیثر انس بن رافع مکہ آیا، اس کے ساتھ بنی ابدالاثہل کے بھی چند نوجوان تھے، جن میں ایاس بن معاذ بھی تھے، یہ لوگ قریش کے ساتھ اپنی قوم خزرج کی طرف سے معاہدہ کرنے آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور جا کر فرمایا:- ‌ میرے پاس ایسی چیز ہے جس میں تم سب کی بہبود ہے, کیا تمہیں کچھ رغبت ہے ؟ وہ بولے- ایسی کیا چیز ہے؟ فرمایا:- میں اللہ کا رسول ہوں، مخلوق کی طرف مبعوث ہوں، بند گانے الہی کی دعوت دیتا ہوں کہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور شرک نہ کریں، مجھ پر اللہ نے کتاب نازل کی ہے_,"
❀_ پھر ان کے سامنے اسلام کے اصول بیان فرمائے اور قرآن مجید بھی پڑھ کر سنایا, ایاس بن معاذ جو ابھی نوجوان تھے سنتے ہی بولے :- اے میری قوم ! باخدا یہ تمہارے لئے اس مقصد سے بہتر ہے، جس کے لئے تم یہاں آئے ہو _,"
❀_ انس بن رافع نے کنکریوں کی مٹھی بھر کر اٹھائیں اور ایاس کے منہ پر پھینک ماری اور کہاں :- بس چپ رہ، ہم اس کام کے لیے تو نہیں آئے_,"
"_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے، یہ واقعہ جنگ باس سے، جو اوس اور خزرج میں ہوئی، پہلے کا ہے، ایاس واپس جا کر چند روز کے بعد مر گئے، مرتے وقت ان کی زبان پر تسبیح و تمحید و تہلیل و تکبیر جاری تھی، مرحوم کے دل میں نبی صل وسلم کے اسی وعظ سے اسلام کا بیج بویا گیا تھا، جو مرتے وقت پھل پھول آیا تھا _,

*❀_ ضمادازدی رضی اللہ عنہ کا واقعہ قبول اسلام:- انہی ایام میں ضمادازدی رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے، یہ یمن کے باشندے تھے اور عرب کے مشہور افسوں گر تھے، جب انھوں نے سنا کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم پر جنات کا اثر ہے تو انہوں نے قریش سے کہا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج اپنے منتر سے کر سکتا ہوں، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا:- محمد صلی اللہ علیہ وسلم آؤ تمہیں منتر سناؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے مجھ سے سن لو، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنایا:- (ترجمہ) سب تعریف اللہ کے واسطے ہے, ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور ہر کام میں اسی کی اعانت چاہتے ہیں، جسے اللہ راہ دکھاتا ہے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ ہی رستہ نہ دکھلائے اس کی کوئی رہبری نہیں کر سکتا، میری شہادت یہ ہے کہ
488003
❀_اسی مقام پر ایک دفعہ وعظ کرتے ہوئے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے اتنی چوٹیں لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنی پیٹھ پر اٹھا یا، آبادی سے باہر لے گئے، پانی کے چھینٹے دیئے، تو ہوش آیا_,
❀_ اس سفر میں اتنی تکلیفیں اور ایذاؤں کے بعد ایک شخص تک کے مسلمان نہ ہونے کے رنج اور صدمے کے وقت بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم کا دل اللہ کی عظمت اور محبت سے بھرپور تھا، اس وقت جو دعا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی اس کے الفاظ یہ ہیں:- (ترجمہ) الٰہی اپنی کمزوری, بے سرو سامانی اور لوگوں کی تحقیر کی بابت تیرے سامنے فریاد کرتا ہوں تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، درماندہ عاجزوں کا مالک تو ہی ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے، مجھے کس کے سپرد کیا جاتا ہے، کیا بیگانہ ترش رو کے یا اس دشمن کے جو کام پر قابو رکھتا ہے لیکن جب مجھ پر تیرا غضب نہیں، تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے، میں تیری ذات کے نور سے پناہ چاہتا ہوں جس سے سب تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں اور دنیا و دین کے کام اس سے ٹھیک ہو جاتے ہیں کہ تیرا غضب مجھ پر اترے یا تیری رضامندی مجھ پر وارد ہو، مجھے تیری ہی رضامندی اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے یا بدی سے بچنے کی طاقت مجھے تیری ہی طرف سے ملتی ہے _,
❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہوتے ہوئے یہ بھی فرمایا:- میں ان لوگوں کی تباہی کے لیے کیوں دعا کرو اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کیا ہوا، امید ہے کہ ان کی آئندہ نسلیں ضرور ایک اللہ پر ایمان لانے والی ہوں گی _,
( بخاری3231- 7389, مسلم -4653)

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
346000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-23_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_ اب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ ستانا شروع کردیا، ایک دفعہ ایک شریر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کیچڑ پھینک دی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح گھر میں داخل ہوئے، نبی صل اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اٹھی، وہ سر دھلاتی جاتی تھی اور روتی جاتی تھی، نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- پیاری بیٹی ! تم کیوں روتی ہو، تیرے باپ کی حفاظت اللہ خود فرمائے گا _,

❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغ کے لیے مختلف قبائل کی جانب سفر کرنا:- اگرچہ ابوطالب کا سہارا جاتا رہا، اگرچہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی بیوی جو مصیبتوں اور تکلیفوں میں نہایت غم گسار تھیں، جدا ہو گئیں، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اب زیادہ جوش سے وعظ کا کام شروع کر دیا، چنانچہ تھوڑے ہی دنوں بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے اور بیرونی قبائل کو وعظ کے لئے تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سفر میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے، مکہ اور طائف کے درمیان جتنے قبیلے تھے سب کو وعظ سناتے، توحید کی منادی کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیادہ پا طائف پہنچے،
❀_طائف میں بنو ثقیف آباد تھے، سرسبز ملک اور سرد پہاڑ پر رہنے کی وجہ سے ان کے غرور کی کوئی حد نہ تھی, عبدیالیل، مسعود، حبیب تینوں بھائی وہاں کے سردار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے انہیں سے ملے اور انہیں اسلام کی دعوت فرمائی،

❀_ ان میں سے ایک بولا میں کعبہ کے سامنے داڑھی منڈوا دوں اگر تجھے اللہ نے رسول بنایا ہو_, دوسرا بولا :- کیا اللہ کو تیرے سوا اور کوئی بھی رسول بنانے کو نہ ملا، جسے چھڑنے کی سواری بھی میسر نہیں، اس نے رسول بنانا تھا تو کسی حاکم یا سردار کو بنایا ہوتا_, تیسرا بولا کہ میں تجھ سے کبھی بات ہی نہیں کروں گا, کیونکہ اگر تو اللہ کا رسول ہے جیسا کہ تو کہتا ہے تب تو یہ بہت خطرناک بات ہے کہ میں تیرے کلام کو رد کروں اور اگر تو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے تو مجھے شایان نہیں کہ تجھ سے بات کروں_,
❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- اب میں تم سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ اپنے خیالات اپنے ہی پاس رکھو, ایسا نہ ہو کہ یہ خیالات دوسرے لوگوں کے ٹھوکر کھانے کا سبب بن جائیں_, نبی صل اللہ علیہ وسلم نے وعظ کہنا شروع فرمایا تو ان سرداروں نے اپنے غلاموں اور شہر کے لڑکوں کو سکھلا دیا، وہ لوگ وعظ کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنے پتھر پھینکتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لہو میں تربتر ہو جاتے، خون بہہ بہہ کر جوتے میں جم جاتا اور وضو کے لیے پاؤں سے جوتا نکالنا مشکل ہو جاتا،

❀_ایک دفعہ بدمعاشوں نے نبی صل اللہ علیہ وسلم کو اس قدر گالیاں دیی، تالیاں بجائیں، چیخیں لگائیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکان کے احاطے میں جانے پر مجبور ہوگئے، یہ جگہ عتبہ و شیبہ فرزندان ربعیہ کی تھی، انہوں نے دور سے اس حالت کو دیکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ترس کھا کر اپنے غلام عداس کو کہا کہ ایک پلیٹ میں انگور رکھ کر اس شخص کو دے آؤ، غلام نے انگور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیے، نبی صل اللہ علیہ وسلم نے انگوروں کی طرف ہاتھ بڑھایا اور زبان سے فرمایا:- "بسم اللہ" اور پھر انگور کھانا شروع کیے،

❀_ اداس نے حیرت سے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور پھر کہا :- یہ ایسا کلام ہے کہ یہاں کے باشندے نہیں بولا کرتے_,
❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- تم کہاں کے ہو اور تمہارا مذہب کیا ہے ؟ عداس نے جواب دیا:- میں عیسائی ہوں اور نینویٰ کا باشندہ ہوں_, نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- کیا تم مرد صالح یونس بن متی علیہ السلام کے شہر کے باشندے ہوں_, عداس نے کہا:- آپ کو کیا خبر ہے کہ یونس بن متی علیہ السلام کون تھے اور کیسے تھے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- وہ میرے بھائی ہیں، وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں_,.
❀_ عداس یہ سنتے ہی جھک پڑا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر، ہاتھ، قدم چوم لیے ‌_, عتبہ و شیبہ نے دور سے غلام کو ایسا کرتے دیکھا اور آپس میں کہنے لگے لو غلام تو ہاتھوں سے نکل گیا, جب عداس اپنے آقا کے پاس لوٹ کر گیا تو انہوں نے کہا: کم بخت تجھے کیا ہوگیا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ پاؤں سر چومنے لگ گیا تھا، عداس نے کہا:- حضور عالی! آج اس شخص سے بہتر ‌روئے زمین پر کوئی بھی نہیں، اس نے مجھے ایسی بات بتائی جو صرف نبی ہی بتلا سکتا ہے , انہوں نے عداس کو ڈاٹ دیا کہ خبردار کہیں اپنا دین نہ چھوڑ بیٹھنا، تیرا دین تو اس کے دین سے بہتر ہے ,
"(_ طبری -1/75)
241000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-22_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قبیلہ سمیت تین سال تک پہاڑ کی گھاٹی کے اندر محصور رہے :- جب مشرکین نے دیکھا کہ ایسی اذیتوں اور تکلیفوں پر بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم اپنی تعلیم پر قائم ہیں اور بے نظیر جرأت سے اور انتھک محنت سے اپنا کام کیے جاتے ہیں تو بماہ محرم 7 نبوت انہوں نے کہا کہ :- بنو ہاشم جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ ہے اگرچہ مسلمان نہیں ہوا پھر بھی نبی صل اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑتا، آؤ ان سے ناطہ رشتہ کرنا چھوڑ دو، انہیں گلی بازار میں پھرنے نہ دو، ان کو کوئی چیز مول بھی نہ دو , اس بات کا معاہدہ لکھا گیا اور کعبہ پر لٹکا یا گیا ,
❀_ نبی صل اللہ علیہ وسلم اور ان کا قبیلہ مجبور ہو گئے، گھر بار چھوڑ کر پہاڑ کی گھاٹی میں محبوس و محسور ہو کر رہنے لگے، قریشی اجناس خورونی کا ( غلہ و دیگر چیزوں کے لئے) جانا بھی بند کر دیا، بنی ہاشم کے بچے بھوک کے مارے اس قدر رویا کرتے تھے کہ ان کی آواز گھاٹی کے باہر تک سنائی دیتی_,

❀_تین برس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاندان نے اسی طرح کاٹے اور جو مسلمان تھے وہ بھی اپنے گھروں میں قیدی بن کر رہنے لگے، حج کے دنوں میں جب مشرکین بھی دشمن سے لڑنا حرام جانتے تھے، نبی صل اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے باہر نکلا کرتے تھے اور لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے کا وعظ سنایا کرتے تھے، کم بخت ابولہب صبح سے شام تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے پھرا کرتا اور کہا کرتا- لوگوں یہ دیوانہ ہے، اس کی بات نہ سنو، جو کوئی اس کی بات سنے گا اور مانے گا وہ تباہ ہو جائے گا_,"
❀_ تین برس تک نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اس سختی کو نہایت صبر و استقلال سے برداشت کیا، جب مشرکین نے گھاٹی پر سے پہرے اٹھا لئے اور دیمک نے اس معاہدے کے کاغذ کو کھا لیا جو کعبہ پر لٹکایا گیا تھا، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور پھر وعظ کا سلسلہ شروع کر دیا _,

❀__ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے، وہاں مشرق سردار بیٹھے ہوئے تھے، ابو جہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور تمسخر سے کہا :- عبدمناف والوں ! دیکھو تمہارا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) آ گیا , عقبہ بن ربیعہ بولا- ہمیں کیا انکار ہے ہم میں سے کوئی نبی بن بیٹھے، کوئی فرشتہ کہلا ئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ باتیں سن کے لوٹے اور ان کے پاس آئے، پہلے عقبہ سے فرمایا :- عقبہ ! تو نے اللہ اور رسول صل اللہ علیہ وسلم کی حمایت کبھی بھی نہ کی، تو اپنی ہی بات کی پیچ پر اڑا رہا , پھر ابوجہل سے فرمایا:- تیرے لیے وہ وقت بہت قریب آرہا ہے، دور نہیں رہا ہے کہ تو تھوڑا ہنسے گا اور بہت روئے گا _,
"_ پھر قریش سے فرمایا:- تمہارے لیے وہ ساعت نزدیک آرہی ہے کہ جس دین کا تم انکار کرتے ہو آخر اسی میں داخل ہو جاؤ گے _,

❀_ ابوطالب کا انتقال :- 10 نبوت میں نبی صل اللہ علیہ وسلم کے تایا ابو طالب جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد تھے، انتقال ہوگیا، ابوطالب نے لڑکپن سے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی تربیت کی تھی اور جب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کی دعوت اور منادی شروع کی تھی وہ برابر مددگار رہے تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کا بڑا صدمہ ہوا _,
❀_ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا انتقال :- ان سے تین دن پیچھے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیوی طاہرہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا نے انتقال فرمایا، جنہوں نے اپنا سارا مال و زر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی پر قربان اور اللہ کی راہ میں صرف کر دیا تھا، سب سے پہلے اسلام لائ تھیں، جبرائیل علیہ السلام نے ان کو اللہ کا سلام پہنچایا تھا، ان کے گزر جانے کا رنج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہوا _,

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
340000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-21_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀__ امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا :- نبوت کے چھٹے برس کا ذکر ہے کہ ایک روز ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر بیٹھے ہوئے تھے، ابو جہل وہاں پہنچ گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے تو گالیاں دیں اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں سن کر چپ رہے تو اس نے ایک پتھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر پھینک مارا جس سے خون چلنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تایا حمزہ رضی اللہ عنہ کو خبر ہوئی، وہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، قرابت کے جوش میں ابو جہل کے پاس پہنچے اور اس کے سر پر زور سے کمان کھیچ ماری کہ وہ زخمی ہوگیا، حمزہ رضی اللہ عنہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا:- بھتیجے ! تم یہ سن کر خوش ہوں گے کہ میں نے ابو جہل سے تمہارا بدلہ لے لیا _,
"_ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- تایا میں ایسی باتوں سے خوش نہیں ہوا کرتا، ہاں تم مسلمان ہو جاؤ تو مجھے بڑی خوشی ہوگی ,امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اسی وقت مسلمان ہو گئے ,

❀_ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا :- امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے تین دن پیچھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے، یہ بڑے دلیر اور بہادر تھے، قریش کی طرف سے بیرونی ممالک کی سفارت کا کام ان سے متعلق تھا، ایک دن عمر رضی اللہ عنہ اپنی بہادری کے بھروسے پر نبی صل اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے، بدن پر سب ہتھیار سجا رکھے تھے، راستے میں ان کو پتہ لگا کہ بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو گئے ہیں، یہ سن کر بہن کے گھر گئے اور ان دونوں کو خوب مارا، ان کی بہن فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا :- عمر تم پہلے وہ کتاب سن لو جسے سن کر ہم ایمان لے آئے ہیں، اگر وہ تم کو اچھی نہ لگے تو ہم کو مار ڈالنا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :- اچھا

❀_ اس وقت ان کے گھر میں نبی صل اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بھی تھے، جو عمر رضی اللہ عنہ کے آ جانے سے چھپ گیے تھے، انہوں نے قرآن مجید ( طہ کا پہلا رکوع) سنایا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرآن سن رہے تھے اور بے اختیار رو رہے تھے، غرض عمر رضی اللہ عنہ اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لے آئے، جو شخص گھر سے قاتل بن کر نکلا تھا، وہ جان نثار بن گیا، آگے چل کر ان کا لقب فاروق ہوا _,
❀_ اس وقت تک صحابہ کرام نماز اپنے گھروں میں چھپ چھپ کر پڑھا کرتے تھے، اب کعبہ میں جا کر پڑھنے لگے، مشرق یہ دیکھ کر اور بھی زیادہ جلے اور صحابہ کرام کو بے حد تکلیف دینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی گستاخی سے پیش آتے تھے _,

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
518000
⚂⚂⚂.
▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁
✮┣ l ﺑِﺴْـــﻢِﷲِﺍﻟـﺮَّﺣـْﻤـَﻦِﺍلرَّﺣـِﻴﻢ ┫✮
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
■ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﷺ ■
⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙══⊙
★ پوسٹ-20_ ★
─━━━════●■●════━━━─
❀_ قریش نے کہا:- اچھا تم آسمان ہی کا ٹکڑا توڑ کر ہم پر گرا دو کیونکہ تمہارا ازعم یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ایسا کر سکتا ہے، پس جب تک تم ایسا نہ کرو گے ہم ایمان نہیں لائیں گے_, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- یہ اللہ کے اختیار میں ہے, وہ اگر چاہے تو ایسا کرے_,
❀_ قریش نے کہا :- محمد صلی اللہ وسلم یہ بتاؤ کہ تمہارے رب نے تمہیں پہلے سے یہ نہ بتلایا کہ ہم تمہیں بلائیں گے اور ایسے ایسے سوال کریں گے، یہ یہ چیزیں طلب کریں گے، ہماری باتوں کا یہ جواب ہے اور اللہ کا منشا ایسا ایسا کرنے کا ہے ؟ چونکہ تمہارے رب نے ایسا نہیں کیا اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے سنا ہے وہ صحیح ہے کہ یمامہ میں ایک شخص رہتا ہے، اس کا نام رحمٰن ہے، وہی تجھے ایسی باتیں سکھلاتا ہے، ہم تو رحمٰن پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے،( اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ جو اسلام نے بتائے ہیں ان میں رحمٰن ایسا نام ہے جس سے عرب ہرگز واقف نہ تھے، اس لیے وہ اللہ کے نام رحمٰن سے بہت چڑا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ کسی گمنام شخص کا نام ہو گا حالانکہ رحمٰن رحمت سے مبالغہ کا صیغہ ہے، یعنی کمال رحمت والا)

❀_ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھو ! آج ہم نے اپنے سب عزرات سنا دیے ہیں، اب ہم تم سے قسمیہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں اس تعلیم کی اشاعت کبھی نہیں کرنے دیں گے، حتیٰ کہ ہم مر جائیں یا تم مر جاؤ _،
"_ یہاں تک بات چیت ہوئی تھی کہ ایک ان میں سے بولا:- ہم ملائکہ کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ کی بیٹیاں ہیں_، دوسرا بولا :- محمد صل اللہ علیہ وسلم ہم تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ اللہ اور اس کے فرشتے ہمارے سامنے نہ آجائیں _,
❀_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری بات سن کر اٹھ کھڑے ہوئے، نبی ﷺ کے ساتھ عبداللہ بن ابو امیہ بن مغیرہ بھی اٹھ کھڑا ہوا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپھی زاد بھائی ( عاتکہ بنت عبدالمطلب کا بیٹا) تھا, اس نے کہا :- محمد صل اللہ علیہ وسلم ! دیکھو تمہاری قوم نے اپنے لئے کچھ چیزوں کا تم سے سوال کیا, وہ بھی تم نے نہ مانا، پھر انہوں نے یہ چاہا کہ تم خود اپنے ہی لیے ایسی علامات کا اظہار کرو جس سے تمہاری قدر ومنزلت کا ثبوت ہو سکتا ہو، اسے بھی تم نے قبول نہیں کیا، پھر انہوں نے اپنے لئے تھوڑا سا عذاب بھی چاہا جس کا خوف تم دلایا کرتے ہو، تم نے اس کا بھی اقرار نہ کیا، بس اب میں تم پر کبھی ایمان نہیں لاؤنگا، ہاں اگر تم میرے سامنے آسمان کو زینہ لگا کر اوپر چڑ جاؤ اور میرے سامنے اس زینے سے اترو اور تمہارے ساتھ چار فرشتے بھی آئیں اور وہ تمہاری شہادت بھی دیں، میں تو تب بھی تم پر ایمان نہیں لاؤ گا _,

❀_ آپ نے دیکھا کہ اسلام کی عداوت میں عبداللہ کتنا سخت ہے، لیکن چند سال نہ گزرنے پائے تھے کہ فتح مکہ سے پہلے یہی عبداللہ اللہ تعالی کی توفیق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لےآیا، اہل دانش جان سکتے ہیں کہ ایسے شخص کا اسلام لانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا معجزہ ہے جو آسمان پر زینہ لگا کر چڑھ جانے، فرشتوں کی شہادت دینے سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ تو وہ باتیں ہیں جن کے دیکھ لینے کے بعد بھی عبداللہ ایمان نہیں لانا چاہتا تھا , نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس رد و انکار پر بھی برابر قریش کو اسلام کی ہدایت کیا کرتے اور فرمایا کرتے کہ میری تعلیم ہی میں سب کچھ تمہارے لیے موجود ہے، جن دانشمندوں نے ایمان کو قبول کیا اور تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کاربند ہوئے انہیں اس سے بھی زیادہ معروف فوائد حاصل ہو گئے، جن کا سوال قریش نے کیا تھا ,

❀_ ہم کو اس موقع پر انجیل کا وہ مقام یاد آتا ہے، جس میں مسیحی علیہ السلام سے آزمائش کے لئے شیطان نے کئی سوال کئے اور مسیحی علیہ السلام نے ان سب کا جواب انکار میں دیا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے برگزیدہ رسول علیہ السلام اپنی صداقت کے ثبوت میں اپنی تعلیم کو پیش کیا کرتے ہیں، معجزہ یا خرق عادت کو پیش نہیں کیا کرتے، کیونکہ پھر صفت ایمان بالغیب کی خوبی باقی نہیں رہتی، اگرچہ کسی دیگر اوقات میں کسی ضرورت کے لیے ان سے معجزات کا صدور بھی بکثرت ہوتا رہتا ہے_,

📓 رحمة للعالمين ﷺ - مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمۃ اللہ _,
•┄┄┅┅━━═۞═━━┅┅┄┄•
446000
♥️سلـسلـہ شـمائـل نـبـویـة ﷺ

قـسـط نـمـبـر : (٤)

*نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو*

1۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمکدار رنگ والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ موتیوں کی طرح تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھکاؤ آگے کی طرف ہوتا تاکہ زمین سے پورا قدم اٹھ جائے (یعنی سست آدمی کی طرح پاؤں گھسیٹ کے نہیں چلتے تھے)۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم دیباج اور ریشم کو نہیں چھوا۔ اور نہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بو سے زیادہ خوشبودار کستوری اور عنبر کو سونگھا ہے۔

( متفق علیہ )

(متفق علیہ اُس روایت کو کہتے ہیں جس کو بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہو📚)۔

2۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہمارے پاس قیلولہ (دوپہر کا آرام) کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا۔ میری والدہ ایک شیشی لائی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ بھرنے لگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہو کر فرمایا: ’’اے اُم سُلَیم! تو یہ کیا کرتی ہے؟ والدہ نے کہا یہ آپ کا پسینہ ہے جسے ہم اپنی خوشبو میں ملائیں گے اور وہ (آپ کا پسینہ) بہترین خوشبو ہے۔

(رواہ مسلم📔)۔

3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تھے تو خوشبو کی وجہ سے پہچان لئے جاتے تھے (اس روایت کو البانی نے الجامع میں صحیح کہا ہے)۔

4۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو (کا ہدیہ) واپس نہیں کرتے تھے۔

(رواہ البخاری📗)۔

5۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

’’بہترین خوشبو کستوری ہے‘‘۔ (رواہ مسلم📙)۔


جــاری ہـے - - - - - ->
382000
♥️سلـسلـہ شـمائـل نـبـویـة ﷺ

قـسـط نـمـبـر : (٣)


( *_رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا منظر*_ )

1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت چہرے والے ، سب سے زیادہ خوبصورت خلقت (جسمانیت) والے تھے، نہ زیادہ لمبے اور نہ زیادہ چھوٹے قد کے تھے۔(متفق علیہ )

2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید خوبصورت چہرے والے تھے۔(رواہ مسلم )

3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد والے تھے۔ دونوں کندھوں کا درمیانی حصہ کشادہ تھا گھنی داڑھی تھی آپکی رنگت پر سرخی غالب تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کی لوؤں تک تھے۔ (ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے آپکو ایک سرخ جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا۔(رواہ البخاری)

4۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک ، ہاتھ ، اور پاؤں بڑے تھے خوبصورت چہرے والے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپکی طرح کا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا۔(رواہ البخاری)

5۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ شمس و قمر جیسا اور گول تھا۔(رواہ مسلم )

6۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمک اٹھتا تھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ (اس وقت) چاند کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا اور ہم اس کیفیت سے آپکی خوشی معلوم کر لیتے تھے۔

7۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھلکھلا کر ہنسنے کی بجائے مسکراتے تھے جب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا تو کہتا کہ آپکی آنکھیں سرمگیں ہیں ۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا ۔

8۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھلکھلاکر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لھوات (حلق کا پچھلا آخری حصہ دیکھ لیتی)آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہنسنا مسکرانا ہی ہوتا تھا۔

9۔سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چاندنی رات میں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور چاند کی طرف دیکھنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میری نظر میں چاند سے بھی زیادہ خوبصورت تھے۔(اس حدیث کو امام ترمذی نے ذکر کرکے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور اسے امام حاکم اور امام ذھبی نے صحیح کہاہے)۔

10۔کسی شاعر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت میں کیا ہی خوب کہا ہے:

وأبیض یستسقی الغمام بوجھہ
ثمال الیتامی عصمۃ للأرامل

وہ ایسا سفید رو ہے کہ بادل اس کے چہرے سے پانی حاصل کرتا ہے (یعنی جب وہ اپنے سفید چہرے کو اٹھا کر بارش کی دعا کرتا ہے تو بادل پانی سے بھر پور ہوکر برستے ہیں۔وہ یتیموں کا فریاد رس اور بیوگان کا محافظ ہے۔(انہیں ظلم سے بچاتا ہے)یہ شعر ابو طالب کے کلام میں سے ہے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ نے اس وقت پڑھا تھا جب لوگ قحط سالی کا شکار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا تھا :’’ اے میرے اللہ !تو ہمیں سیراب کر‘‘۔پھر بارش نازل ہوئی تھی ۔(رواہ بخاری )اس کا مفہوم و معنی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کی سفیدی کے ذکر سے تعریف کی گئی ہے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک روشن چہرے اور دعا سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں۔ کہ اللہ تعالیٰ ان پربارش نازل کرے اور یہ حال آپکی زندگی میں ہوتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا وسیلہ اختیار کیا تھا کہ وہ ان کیلئے بارش نازل ہونے کی دعا کریں سیدنا عمر رضی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا کا وسیلہ نہیں بنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے استسقاء کے وقت قبیلۂ کنانہ کے ایک آدمی نے درج ذیل اشعار پڑھے تھے :

لک الحمد والحمد ممن شکر
سقینا بوجہ النبی المطر

(اے اللہ )سب تعریف تیرے ہی لئے ہے اور ہر شکر گزار کی طرف سے تعریف تیرے ہی لئے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی برکت سے ہم بارش سے سیراب کئے گئے ہیں۔

دعا اللّٰہ خالقہ دعوۃ
إلیہ وأشخص منہ البصر

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اور اپنے خالق سے دعا کی اور اسکی طرف اپنی نظر اٹھائی ۔

فلم یک إلا کإلقاء الرداء
وأسرع حتی رأینا الدرر

کچھ دیر نہ ہوئی کہ بادل چادر کی طرح فضا پر چھا گیا اور ہم نے بارش کے قطرے موتیوں کی طرح گرتے ہوئے دیکھے۔

و کان کما قال لہ عمہ
أبو طالب أبیض ذو غرر

اسی طرح ہوا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے کہا تھا ۔کہ وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) سفید چہرے والے ہیں ۔

بہ اللّٰہ یسقی صوب الغمام
و ھذا لعیان لذالک الخبر
284001
♥️سلـسلـہ شـمائـل نـبـویـة ﷺ

قـسـط نـمـبـر : (٢)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور نسب

1۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :

﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰه﴾ (سورۃ الفتح آیت29) ’’محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں (یعنی کفر و شرک کو مٹانے والا)، میں حاشر ہوں (لوگ میرے قدموں میں جمع کئے جائیں گے) اور میں عاقب ہوں (آخر میں آنے والا)۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام ’’رؤف‘‘ اور ’’رحیم‘‘ بھی رکھا ہے۔ (متفق علیہ)۔

2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مزید نام بتاتے ہوئے فرمایا:

’’میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں مقفی (آخری نبی) ہوں، میں حاشر ہوں، نبیئِ توبہ ہوں اور نبیئِ رحمت ہوں‘‘(رواہ مسلم)۔

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مزید نام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں میں مقضّی (آخری نبی )ہوں میں حاشر ہوں ، نبی توبہ ہوں ، اورنبی رحمت ہوں ۔(رواہ مسلم )

4۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :

’’کیا تم حیران نہیں ہوتے کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قریش کے برابھلا کہنے اور لعنت کو پھیر دیا؟وہ قابل مذمت آدمی کو برا بھلا کہتے اور لعنت کہتے تھے اور میں محمد( قابل تعریف) ہوں ۔(یعنی میرا نام تو محمد ہے) اور وہ مذمم پر سب وشتم کرتے ہیں۔(رواہ بخاری)

5۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

’’اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام سے قبیلہ کنانہ کو منتخب کیا ۔کنانہ سے قریش کو ، قریش سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم سے اللہ نے مجھے منتخب کیا ہے۔

6۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’میرے نام پر نام رکھو ۔اور میری کنیت (ابو القاسم) پر کنیت نہ رکھو۔اس لئے کہ میں ہی قاسم ہوں اور تمہارے درمیان (اللہ کی نعمتیں تقسیم کرتا ہوں)‘‘ (رواہ مسلم )

جــاری ہـے - - - - - ->

فطوبیَ للغرباء ♥️
230001
سلـسلـہ شـمائـل نـبـویـة🌷

قـسـط نـمـبـر : (١)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿لَقَدْ مَنَّ االلّٰه عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ اِذْ بَعْثَ فِیْھِمْ رَسُولاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ آیَاتِہٖ و یُزَکِّیْھِمْ، وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُبِیْن﴾ (آل عمران:164)

بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں پر احسان کیا ہے کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور یقیناًاس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔

(حکمت سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طب اور سائنس کی تعلیم دیتے تھے بلکہ حکمت سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر پہلو میں امت کی رہنمائی اور تربیت کی ہے۔ اس سے حدیث و سنت صحیحہ کی پیروی قرآن کریم کی پیروی کی طرح لازم ہے۔ اگر حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا جائے تو قرآنِ کریم کا انکار بھی لازم ہوتا ہے۔ جو لوگ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں دوسرے اقوال و آراء کو ترجیح دیتے ہیں، احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے بدانجام سے ڈر جائیں۔ مترجم)

﴿قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِد﴾ (الکھف: 110)۔

’’(اے نبی) کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح انسان ہوں۔ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ بلا شبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے‘‘۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’یہ وہ دن ہے جس دن میں پیدا ہوا، اسی دن مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔ (رواہ مسلم)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ربیع الاول کے مہینے 571ء عام الفیل میں سوموار کے دن پیدا ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین حسبِ و نسب کے لحاظ سے مشہور و معروف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ آمنہ بنت وھب تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ’’محمد‘‘ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔
مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر کو پہچانیں اور قرآن و سنت کے ساتھ اپنے معاملات کا فیصلہ کریں۔ قرآن کے ساتھ سنت کی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی گئی تھی:

﴿وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا یُوْحٰی﴾ (النجم:4-3)

’’دین کے معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے تھے۔ یقیناً(جو کچھ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے) اس کی اللہ کی طرف سے وحی کی جاتی تھی‘‘
مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنے آپ کو اخلاقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آراستہ کریں، توحید کی دعوت کا اہتمام کریں، جس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت کا آغاز کیا تھا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ملتی ہے:

﴿قُلْ اِنَّمَا اُدْعُوْ رَبِّیْ وَلَا اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا﴾ (الجن:20)

’’(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دیجئے بلا شبہ میں اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا‘‘۔

جــاری ہـے - - - - - ->

فطوبی للغرباء 🧡
288000
پوسٹ نمبر ٥

1)مختصر سـیـرت سیدنـا آدم علیہ السلام 🌹


مصـنف:

حـافـظ عـمـاد الـدیـن ابـو الـفداء ابن کـثیر رحمہ اللـہ

سب سے پہلے تو ملائکہ سے خطاب ہیں کہ زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہو

[البقرہ]

یعنی حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت کو پیدا کرکے ایک دوسرے کا خلیفہ بناؤں گا جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں صاحب اختیار بنایا (الانعام) اور فرمایا تم کو زمین میں صاحب تصرف بناتا ہے (النمل)
جس طرح ہم اہم امور پیشگی اطلاع کی جاتی ہے اسی لحاظ سے حضرت آدم علیہ السلام اور انکی اولاد کی عظمت کے پیش نظر ان کی پیدائش کی پہلے ہی اطلاع فرمادی اس پر فرشتوں نے وضاحت چاہتے ہوئے اس امر کی حکمت اور وجہ جاننی چاہی تو اللہ سبحانہ سے دریافت فرمایا : کہنے لگے کیا آپ پیدا کریں گے زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کریں گے اور خونریزیاں کریں گے ۔

[البقرہ]

فرشتوں کا یہ سوال اللہ تعالیٰ سے کسی اعتراض یا اولاد آدم علیہ السلام سے حسد کے طور پر نہ تھا جیسا کہ بعض مفسرین کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔
قتادہ ؒ فرماتے ہیں ۔ کہ فرشتے دنیا میں جنات کے کرتوت دیکھ کر یہ بات کررہے تھے ۔
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ کہ جنات حضرت آدم علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے سے دنیا میں آباد تھے انہوں نے ایک دوسرے کا خون بہانا شروع کر رکھا تھا (اللہ تعالیٰ نے جہاں کو ان سے پاک کرنا چاہا؛) فرشتوں کی ایک فوج بھیجی جنہوں نے ان شرارتی جنوں کو سمندری جزیروں کی طرف دھکیل دیا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی بات منقول ہے ۔
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ فرشتوں کے دل میں یہ بات ڈالی گئی تھی (کہ انسان دنیا میں ایسے ایسے کام کریں گے) ایک قول یہ بھی ہے کہ انہیں یہ اطلاع لوحِ محفوظ سے ملی تھی یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرشتوں کو یہ اطلاع ھاروت اور ماروت نے دی تھی۔ جنہیں یہ بات ان سے اوپر والے فرشتے سجل نے بتائی تھی یہ قول ابو جعفر باقر کا تھا۔جسے ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے
کہا گیا ہے کہ فرشتوں کو اس انسانی فطرت کا علم یوں ہوا تھا کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ مٹی سے پیدا ہونے والی چیز میں مٹی کے اوصاف کا آنا بدیہی ہے۔اور ہم برابر تسبیح کرتے رہتے ہیں یعنی ہم آپ کے دائمی عبادت گزار ہیں کوئی بھی ہرگز آپ کی نافرمانی نہیں کرسکتا لہذا انسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ کی عبادت کریں تو ہم دن رات آپکی عبادت کے لئے حاضر ہیں ۔
ارشاد فرمایا میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے ۔

[البقرہ]
یعنی انسان کو پیدا کرنے میں کیا حکمتیں اور مصلحتیں ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں تم نہیں جانتے کہ عنقریب نسل انسانی میں انبیاء صدیقین اور شھداء پیدا ہوں گے ۔
اور علم دیا اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو (ان کو پیدا کرکے)  کل چیزوں کے اسمآء کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ وہی چیزیں تھیں جو لوگوں میں متعارف ہیں مثلاً انسان؛ جانور؛ زمین؛ سمندر؛ پہاڑ؛ اونٹ؛ گدھا وغیرہ جیسی چیزیں ۔
ایک روایت میں ہے کہ سکھائی گئ چیزوں میں پیالہ بھی تھا۔ اور ہنڈیاں حتی کہ آواز والی اور بے آواز خارج ہونے والی ریح کا نام بھی سکھادیا تھا مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ ہر ہر جانور اور پرندے کا نام سکھا دیا تھا سعید بن جبیر اور دیگر حضرات کا بھی یہی قول ہے۔
ربیع کے نزدیک انہیں فرشتوں کے نام سکھلاۓ گئے تھے ۔ اور عبدالرحمن بن زید کے نزدیک ان کو انکی تمام اولاد کے نام سکھلاۓ گئے تھے صحیح بات وہی ہے جنکی طرف ابن عباس رضی اللہ عنہا نے اشارہ کیا ہے حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا نام ان کی کارکردگی اور انکے چھوٹے بڑے ہونے کا علم عطاء فرمایا تھا ۔
بخاری ومسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ روز قیامت مسلمان جمع ہو کر کہیں گے کاش کوئی پروردگار سے ہماری سفارش کردیتا تو اول حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ ابو البشر (سب انسانوں کے باپ ہے) ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا تھا ۔ اور تمام چیزوں کے ناموں کی آپکو تعلیم دی تھی ۔

[(بخاری کتاب التوحید حدیث ٧٥١٦۔ مسلم کتاب القدر حدیث ١٠//مسند امام احمد؛ حدیث ١٢١٥٤،ج٤)]

[[قـصـص الانـبـیاء ص١١/١٢/١٣]]

پیشکش

فطوبی للغرباء گروپس


=====>جاری ہے
538001
پوسٹ نمبر ٤


1)مختصر سـیـرت سیدنـا آدم علیہ السلام🌹


مصـنف:

حـافـظ عـمـاد الـدیـن ابـو الـفداء ابن کـثیر رحمہ اللـہ

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو سب سجدے میں گر پڑے مگر ابلیس نے انکار کیا
ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نکلوا نہ دے۔ پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ
یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے
اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ
تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو
تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے
پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائیں
فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہوں گے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا
اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے
وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا
خدا فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہیئے تھا) تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تونے ان کو بھلا دیا۔ اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلا دیں گے

[طہ]

کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں۔ اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں ۔جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا
کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے
جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے
مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا
میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں
جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر گر پڑنا ۔تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا:
مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا۔
خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟
بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں (کہ) تو نے مجھ کو کو آگ سے پیدا کیا اور اِسے مٹی سے بنایا۔
فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہےاور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (پڑتی) رہے گی
کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے
اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔کہنے لگا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو بہکاتا رہوں گاسوا ان کے جو تیرے خالص بندے ہیں
فرمایا سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم بھر دوں گا ۔
اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں
یہ قرآن تو اہل عالم کے لئے نصیحت ہےاور تم کو اس کا حال ایک وقت کے بعد معلوم ہوجائے گا

📘[ص]

👆🏻📌یہ چند آیات کا ترجمہ تھا جو قرآن پاک کی مختلف جگہوں سے اخذ کیا گیا اسکے بعد صرف وہی مضمون بیان کی جائے گی جن پر یہ آیات مبارکہ دلالت کرتی ہے ساتھ ساتھ ان احادیث کا بھی ذکر کیا جائے گا جو اس واقعہ سے تعلق رکھتی ہے اور اللہ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے ۔


[📕قـصـص الانـبـیاء ص؛ ١٠/١١]
======>جاری ہے
429000
پوسٹ نمبر ٣


1)مختصر سـیـرت سیدنـا آدم علیہ السلام

(حصہ سوم)

مصـنف:

حـافـظ عـمـاد الـدیـن ابـو الـفداء ابن کـثیر رحمہ اللـہ

اسی جیسا مضمون دوسری آیات میں بھی ہے کہ ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا اور اسی میں ہم تم کو بعد موت کے لے جائیں گے اور قیامت کے دن پھر اسی سے ہم تم کو نکالیں گے ۔

[طہ]

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے
اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا
اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں
جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا
تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے
مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا
(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا
(اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں
(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے
اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)
فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے
وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک
(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا
ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے
(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے
جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے
اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے
اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں۔

[الحجر]

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے
(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔
خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) پوری سزا (ہے)
اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے
جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے

[الإسراء]

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے
میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا۔

[الکہف]

📙[قـصـص الانـبـیاء ص٩/١٠]

🔖پیشکش

======>جاری ہے
444000
پوسٹ نمبر ٢


1)مختصر سیرت سـیـرت سیدنـا آدم علیہ السلام 🌹


بیشک منجملہ حالات عجیبہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہیں کہ ان کے قالب کو مٹی سے بنایا پھر ان کو حکم دیا کہ (جاندار) ہو پس وہ (جاندار) ہوگئے۔

[آل عمران]

سورۃ النساء میں ہے
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اسکا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں اور تم خدا تعالیٰ سے ڈرو بالیقین اللہ تعالیٰ تم سب کی اطلاع رکھتے ہیں فرمایا؛؛ اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شاخت کرسکو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو اللہ پاک خوب جاننے والا پورا خبر دار ہے ۔

[الحجرات]

اور اللہ تعالیٰ ایسا (قادر منعم) ہے جس نے تم کو تن واحد (آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی سے اسکا جوڑا (حوا) بنایا تاکہ وہ اس جوڑے سے انس حاصل کرے ۔

[الاعراف]

اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؛ (حق تعالیٰ نے) فرمایا جو سجدہ نہیں کرتا تجھ کو اس سے کونسا امر مانع ہے جبکہ میں تجھ کو حکم دیں نہیں چکا کہنے لگا میں اس سے بہتر ہو آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ۔
حق تعالیٰ نے فرمایا تو آسمان سے اتر تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو تکبر کرے اس میں (آسمان میں ) سو نکل بیشک تو ذلیلوں میں شمار ہونے لگا وہ کہنے لگا کہ مجھے مہلت دے قیامت کے دن تک (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) تجھ کو مہلت دی گئی ۔
وہ کہنے لگا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراہ کیا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لیے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور انکی داہنی جانب سے بھی اور ان کے بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں اکثروں کو احسان ماننے والا نہ پائیں گے ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہاں سے ذلیل وخوار ہوکر نکل جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا. میں ضرور تم سب سے جہنم بھر دوں گا اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمھاری بیوی جنت  میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ اور اس درخت کے پاس مت جاؤ کبھی ان لوگوں کے مار میں نہ آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتا ہے
تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے

اللہ نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے

[الأعراف]

[قصص الأنبياء ص٨/٩]


=====>جاری ہے
668000
مختصر سیرت سیدنا حضرت آدم علیہ السلام🌹

🖊️حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں خالق کائنات کے فرامین
حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ شروع کر نے سے پہلے مندرجہ ذیل سطور میں خالق کائنات، خالقِ انس وجن، اللہ رب العالمين کے إرشادات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں قرآن پاک میں آیات کی صورت میں نازل ہوئے اختصار کی غرض سے صرف ترجمہ پر اکتفا کیا جارہا ہے اور جس وقت ارشاد فرمایا آپکے رب نے فرشتوں سے کہ ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب فرشتے کہنے لگے کیا آپ پیدا کریں گے زمین میں ایسے لوگ جو اس فساد کریں گے اور خونریزیا‍ں کریں گے اور ہم برابر تسبیح کرتے رہتے ہیں بحمد اللہ اور تقدیس کرتے رہتے ہیں آپ کی، حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں جانتا ہوں اس بات کو جس کو تم نہیں جانتے اور علم دیا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو (ان کو پیدا کرکے) کل چیزوں کے اسمآء کا پھر وہ چیزیں فرشتوں کے روبرو کردیں پھر فرمایا بتلاؤ مجھے اسمآء ان چیزوں کے (مع انکے آثار وخواص کے)  اگر تم سچے ہو فرشتوں نے عرض کیا کہ آپ تو پاک ہے ہم کو کوئی علم نہیں مگر وہی جو آپ نے ہم کو علم دیا بے شک آپ بڑے علم والے ہیں بڑی حکمت والے ہیں جس قدر جس کے لیے مصلحت جانا اسی قدر فہم وعلم عطاء فرمایا ۔

🖊️حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم علیہ السلام! انکو ان چیزوں کے اسمآء بتلادو سو جب بتلائیں آدم علیہ السلام نے ان کو چیزوں کے اسمآء تو حق تعالیٰ نے فرمایا کہ (دیکھو) میں تم سے کہتا نہ تھا کہ بیشک میں جانتا ہوں تمام پوشیدہ چیزیں آسمانوں اور زمین کی جس بات کو تم ظاہر کرتے ہو اور جس کو تم پوشیدہ رکھتے ہوں اور جس وقت ہم نے حکم دیا فرشتوں کو (اور جنوں کو بھی) کہ سجدہ میں گرجاؤ آدم علیہ السلام کے سامنے سو سب سجدہ میں گرگئے بجز ابلیس کے اس نے کہنا نہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہوگیا کافروں میں سے اور ہم نے حکم دیا آدم کہ رہا کرو تم اور تمھاری بیوی بہشت میں پھر کھاؤ اس میں سے دونوں بافراعت اور جس جگہ سے چاہو اور نزدیک نہ جائیو اس درخت کے ورنہ تم بھی انہی میں شمار ہوجاؤگے جو اپنے نقصان کر بیٹھتے ہو پھر لغزش دے دی آدم علیہ السلام اور حو؛ علیھا السلام کو شیطان نے اس درخت کی وجہ سے سوبر طرف کرکے رہا انکو عیش سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا نیچے اترو تم میں سے بعضے بعضوں کے دشمن رہیں گے اور تم کو زمین میں ٹھرنا ہے اور کام چلانا ایک میعاد معین تک بعد ازاں حاصل کرلئے آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند الفاظ تو اللہ تعالیٰ نے رحمت فرمائی ان بر یعنی قبول کر لی ان کی توبہ بیشک وہی بڑے توبہ قبول کرنے والے بڑے مہربان ہم نے حکم فرمایا نیچے جاؤ اس بہشت سے سب کے سب پھر اگر آوے تمھارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت سو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہوگا اس پر اور نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے اور جو لوگ کفر کریں گے اور تکذیب کریں گے ہمارے احکام کی یہ لوگ ہوں گے دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

(البقرہ؛)

[[📕قصص الأنبياء ص ٧/٨ امام حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر]]

🔗پیشکش

فطوبی للغرباء گروپس

======>جاری ہے
600001

Showing 30 of 92 posts

درجہ بندی

لاگ ان درکار ہے

Frequently Asked Questions

تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں ٹیلیگرام چینل کس بارے میں ہے؟+

تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں (@tareekhislam) tgdio پر Religion زمرے میں درج ایک ٹیلیگرام چینل ہے۔ اس پروفائل پر رینکنگ، ریٹنگ، ریویوز اور حالیہ پوسٹس دیکھ کر سبسکرائب کرنے سے پہلے فیصلہ کریں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 8,716 سبسکرائبرز ہیں۔

میں تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں (@tareekhislam) کو ٹیلیگرام پر کیسے جوائن کروں؟+

tgdio پر چینل پروفائل کھولیں، پھر Join / Open in Telegram سے @tareekhislam پر مفت سبسکرائب کریں۔

کیا تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں اچھا Religion چینل ہے؟+

tgdio پر جوائن سے پہلے تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں کی ریٹنگ، ریویوز، رینکنگ اور پوسٹس دیکھیں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 8,716 سبسکرائبرز ہیں۔ اسی Religion کے دیگر چینلز سے موازنہ کریں۔

تاریخ اسلام اور اسلامی کہانیاں کے سٹیٹس اور پوسٹس کہاں دیکھوں؟+

tgdio پر @tareekhislam صفحہ کھولیں — سبسکرائبرز، رینکنگ، ریٹنگ اور پوسٹس۔ Stats لنک سے گروتھ چارٹ دیکھیں۔