چند مشہور احادیث کی تحقیق Telegram channel photo

چند مشہور احادیث کی تحقیق

@tehqeeqe_ahadeesPublic Channel

اس چینل کا مقصد: ▪️ احادیث بیان کرنے میں سخت احتیاط کرنے کی ضرورت ▪️ اورامت میں رائج متعدد روایات کی تحقیق اور غیر معتبر روایات کی نشان دہی سے متعلق، علمائے اہلِ سنت والجماعت کی تحقیقات ارسال کرنا ہے۔

101

Last views

845 (845 subscribers)
اراکین
—
Rating
40
Total Posts
Oct 17, 2026, 1:19 AM
اپ ڈیٹ کیا گیا
Apr 22, 2026
Created
Stats

آپ اردو میں مواد دیکھ رہے ہیں۔ دوسری زبانوں میں مواد دیکھنے کے لیے سائٹ کی زبان تبدیل کریں۔

Channel Information

Channel Information
Channel Nameچند مشہور احادیث کی تحقیق
Username@tehqeeqe_ahadees
CategoryPinay Content
Languageاردو
Countryپاکستان
اراکین845
Channel TypePublic Channel
Created22 اپریل، 2026
Last Updated17 اکتوبر، 2026 • 5 دنوں پہلے
StatusActive

درجہ بندی

عالمی درجہ بندی
#184579+62
زبان کی درجہ بندی
#320+3
زمرہ کی درجہ بندی
#1848+10

سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ

کل: 84530 Days growth: +00%
09/1709/2209/2710/0210/0710/1210/16
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - 30 Days
DateSubscribers
17:09:2026845
18:09:2026845
19:09:2026839
20:09:2026839
21:09:2026839
22:09:2026839
23:09:2026839
24:09:2026839
25:09:2026839
26:09:2026839
27:09:2026839
28:09:2026839
29:09:2026839
30:09:2026839
01:10:2026839
02:10:2026839
03:10:2026839
04:10:2026839
05:10:2026839
06:10:2026839
07:10:2026839
08:10:2026839
09:10:2026839
10:10:2026839
11:10:2026839
12:10:2026839
13:10:2026839
14:10:2026839
15:10:2026839
16:10:2026845
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Weekly
DateSubscribers
Week of 20:04:2026893
Week of 27:04:2026893
Week of 04:05:2026894
Week of 11:05:2026894
Week of 18:05:2026894
Week of 25:05:2026894
Week of 01:06:2026894
Week of 08:06:2026894
Week of 15:06:2026894
Week of 22:06:2026894
Week of 29:06:2026894
Week of 06:07:2026867
Week of 13:07:2026867
Week of 20:07:2026867
Week of 27:07:2026867
Week of 03:08:2026867
Week of 10:08:2026867
Week of 17:08:2026848
Week of 24:08:2026848
Week of 31:08:2026849
Week of 07:09:2026845
Week of 14:09:2026839
Week of 21:09:2026839
Week of 28:09:2026839
Week of 05:10:2026839
Week of 12:10:2026845
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Monthly
DateSubscribers
April 2026893
May 2026894
June 2026894
July 2026867
August 2026848
September 2026839
October 2026845
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Yearly
DateSubscribers
2026845

Top 10 posts

Most viewed posts from this channel

By views
  1. #1‼️ غیر ثابت اور غیر معتبر روایات کا سد باب کیجیے!635
  2. #2جمعہ کے دن عصر ہے بعد مخصوص درود پر مشتمل اس مخصوص روایت کا کوئی معتبر586
  3. #3روایت نمبر 152476
  4. #4حضرت حکیم الامت مجدد الملۃ حضرت اقدس مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ 374
  5. #5حضرت حکیم الامت مجدد الملۃ حضرت اقدس مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ 351
  6. #6اچھی طرح یاد رکھیے کہ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث چل سکتی ہے، نہ کہ بے 324
  7. #7ایک کتاب میں ایک بے سند حدیث دیکھی جس کے لیے اصول فقہ کے موضوع کی مشہو319
  8. #8غزوہ بدر میں گرفتار ہونے والے صحابی .pdf310
  9. #9مومن اپنے عمل سے زیادہ پاکیزہ روایت.pdf310
  10. #10‼️ مستند اور معتبر احادیث پر مشتمل پوسٹوں کا مجموعہ305

تازہ ترین پوسٹس

🌻 حضرت اسماعیل کی ایڑیوں کی رگڑ سے زمزم جاری ہونے کی تحقیق

یہ بات مشہور ہے کہ زمزم کا چشمہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کی رگڑ سے جاری ہوا، حالانکہ اس کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ملتا، بلکہ اس بارے میں احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ زمزم کا چشمہ حضرت جبریل علیہ السلام کے پَر مارنے یا ایڑی رگڑنے سے جاری ہوا، اور ان دونوں میں بھی زیادہ راجح احتمال یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت جبریل علیہ السلام کے ایڑی رگڑنے سے جاری ہوا۔ مزید تفصیل کے لیے ’’فتح الباری‘‘ کی درج ذیل عبارت دیکھیے:

☀ صحيح البخاري:
3365- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ، خَرَجَ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيلَ، وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ، فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيمُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاتَّبَعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، حَتَّى لَمَّا بَلَغُوا كَدَاءً نَادَتْهُ مِنْ وَرَائِهِ: يَا إِبْرَاهِيمُ إِلَى مَنْ تَتْرُكُنَا؟ قَالَ: إِلَى اللهِ، قَالَتْ: رَضِيتُ بِاللهِ .... فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا، فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، حَتَّى أَتَمَّتْ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ، فَإِذَا هِيَ بِصَوْتٍ، فَقَالَتْ: أَغِثْ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ خَيْرٌ، فَإِذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: فَقَالَ بِعَقِبِهِ هَكَذَا، وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَى الأَرْضِ، قَالَ: فَانْبَثَقَ المَاءُ، فَدَهَشَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، فَجَعَلَتْ تَحْفِزُ. الحديث.
☀ فتح الباري شرح صحيح البخاري:
قَوْلُهُ: «فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ أَوْ قَالَ بِجَنَاحِهِ» شَكٌّ مِنَ الرَّاوِي، وَفِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ: «فَقَالَ بِعَقِبِهِ هَكَذَا وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَى الْأَرْضِ» وَهِيَ تُعَيِّنُ أَنَّ ذَلِك كَانَ بعقبه. وَفِي رِوَايَة ابن جُرَيْجٍ: «فَرَكَضَ جِبْرِيلُ بِرِجْلِهِ»، وَفِي حَدِيثِ عَلِيٍّ: «ففحص الأَرْض بِأُصْبُعِهِ فنبعت زَمْزَم». وَقَالَ ابن إِسْحَاقَ فِي رِوَايَتِهِ: فَزَعَمَ الْعُلَمَاءُ أَنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا يَسْمَعُونَ أَنَّهَا هَمْزَةُ جِبْرِيلَ.

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
tinyurl.com/TehqeeqeHadees
274000
النَّبِيَّ ﷺ ذَكَرَ لَهَا فِي فَضْلِ الزَّوْجِ، وَهُوَ حديث طويل غير صحيح، ذكره ابن وَضَّاحٍ بِكَمَالِهِ وَيُقَالُ: إِنَّ هَذِهِ الْعَطَّارَةَ هِيَ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ.
☀️ اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة:
(الْخَطِيب) أَخْبرنِي أَبُو الْوَلِيد الدربندي: أَنْبَأَنا مُحَمَّد بْن أَحْمَد ابْن مُحَمَّد بْن سُلَيْمَان الْحَافِظ: أَنْبَأنَا مُحَمَّد بْن نصر خَلَف: حَدَّثَنَا أَبُو كثير سيف بْن حَفْص: حَدَّثَنِي عَلِيّ بْن الْجُنَيْد ومُحَمَّد بْن حُمَيد بْن فَرْوَة قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن سَلام: حَدَّثَنَا أَبُو سهل المدائي يَعْنِي الصَّباح بْن سهل عَنْ زِيَاد بْن مَيْمُون عَن أنس بْن مَالك قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ عَطَّارَةٌ يُقَالُ لَهَا: الْحَوْلاءُ فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ نَفْسِي لَكِ الْفِدَاءُ إِنِّي أُزَيِّنُ نَفْسِي لِزَوْجِي كُلَّ لَيْلَةٍ حَتَّى كَأَنِّي الْعَرُوسُ أُزَفُّ إِلَيْهِ. قَالَ الْخَطِيبُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ الْمُؤَلِّفُ وَتَمَامُهُ فَقَالَ رَسُول الله لِلْحَوْلاءِ: لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ .... فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ مُؤْمِنًا أَنِّي رَبُّهُ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ. قَالَ الدارَقُطْنيّ: هَذَا حَدِيث بَاطِل، ذهب عَبْد الرَّحْمَن بْن مَهْدِيّ وأَبُو دَاوُد إِلَى زِيَاد بن مَيْمُون فأنكرا عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيث فَقَالَ: اشْهَدُوا إِنِّي قَدْ رجعت عَنْهُ انْتهى. قَالَ الْمُؤلف: زِيَاد كَذَّاب والصباح مُنكر الحَدِيث.

✍🏻 مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
217001
’’فتاوٰی رحیمیہ‘‘ (جلد ہشتم، متفرقاتِ نکاح) میں یہ روایت ’’غنیۃ الطالبین‘‘ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے اور یہ روایت باطل اور منگھڑت ہے، جیسا کہ ’’تنزیہ الشریعۃ، اللآلئ المصنوعۃ، موضوعات لابن الجوزی، شرح مسلم للنووی، اکمال المعلم للقاضی عیاض‘‘ وغیرہ میں اس کی تفصیل مذکور ہے۔ اس سے چند باتیں معلوم ہوجاتی ہیں:
1️⃣ ’’فتاوٰی رحیمیہ‘‘ میں یہ روایت ذکر کرتے ہوئے ’’غنیۃ الطالبین‘‘ پر اعتماد کیا گیا ہے، جبکہ روایات کے معاملے میں اصل اور بہتر یہی تھا کہ روایت کی تحقیق کی جاتی اور اصل مآخذ کی طرف مراجعت کی جاتی تاکہ روایت کا حکم معلوم ہوجاتا، یوں یہ روایت ’’فتاوٰی رحیمیہ‘‘ میں ذکر نہ ہوتی۔
2️⃣ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگانِ دین بسا اوقات دیگر بزرگوں پر اعتماد کرکے روایات نقل کردیتے ہیں، اور یہ ایک بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے منگھڑت، غیر ثابت اور غیر معتبر روایات عام ہوجاتی ہیں۔
3️⃣ اس سے بندہ کے اس موقف کی بخوبی تائید بھی ہوجاتی ہے کہ اہلِ علم کو چاہیے کہ وہ بزرگوں کی کتب میں مذکور روایات کو بغیر تحقیق کے بیان نہ کیا کریں، اس معاملے میں بزرگوں کی کتب پر اعتماد وانحصار نہ کیا کریں، ورنہ تو غیر ثابت روایات امت میں عام ہوتی رہیں گی۔
tinyurl.com/TehqeeqeHadees

📚 ذیل میں اس روایت سے متعلق عبارات ملاحظہ فرمائیں:
☀️ تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:
(20) [حَدِيثُ] أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: كَانَتِ امْرَأَةٌ عَطَّارَةً يُقَالُ لَهَا: الْحَولاءُ فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ نَفْسِي لَكِ الْفِدَاءُ إِنِّي أُزَيِّنُ نَفْسِي لِزَوْجِي كُلَّ لَيْلَةٍ حَتَّى كَأَنِّي الْعَرُوسُ أزف إِلَيْهِ فأجيء فَأَدْخُلُ فِي لِحَافِ زَوْجِي فَأَبْتَغِي بِذَلِكَ مَرْضَاتِ رَبِّي فَيُحَوِّلُ وَجْهَهُ عَنِّي فَأَسْتَقْبِلُهُ فَيُعْرِضُ وَلا أَرَاهُ إِلا قَدْ أَبْغَضَنِي، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: لَا تَبْرَحِي حَتَّى يَجِيءَ رَسُول الله ﷺ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: إِنِّي لأَجِد رِيحَ الْحَوْلاءِ فَهَلْ أَتَتْكُمْ وَهَلِ ابْتَعْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: لَا وَلَكِنْ جَاءَتْ تَشْكُو زَوْجَهَا، فَقَالَ: مَالك يَا حَوْلاءُ، فَذَكَرَتْ لَهُ نَحْوَ مَا ذَكَرَتْ لِعَائِشَةَ فَقَالَ: اذْهَبِي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ فَاسْمَعِي وَأَطِيعِي لِزَوْجِكِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا لِي مِنَ الأَجْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ الله لِلْحَوْلاءِ: لَيْسَ مِنَ امْرَأَةٍ تَرْفَعُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا مِنْ مَكَانٍ أَوْ تَضَعُهُ مِنْ مَكَانٍ تُرِيدُ بِذَلِكَ الصَّلاحَ إِلا نَظَرَ اللهُ إِلَيْهَا، وَمَا نَظَرَ اللهُ إِلَى عَبْدٍ قَطُّ فَعَذَّبَهُ، قَالَتْ: زِدْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: لَيْسَ مِنَ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تَحْمِلُ مِنْ زَوْجِهَا إِلا كَانَ لَهَا كَأَجْرِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْمُخْبِتِ فَإِذَا أَرْضَعَتْهُ كَانَ لَهَا بِكُلِّ رَضْعَةٍ عِتْقُ رَقَبَةٍ فَإِذَا فَطَمَتْهُ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ اسْتَأْنِفِي الْعَمَلَ فَقَدْ كُفِيتِ مَا مَضَى. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ؟ فَقَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَأْخُذُ بِيَدِ امْرَأَتِهِ يُرَاوِدُهَا إِلا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، فَإِذَا عَانَقَهَا فَعِشْرُونَ حَسَنَةً فَإِذَا قَبَّلَهَا فَعِشْرُونَ وَمِائَةُ حَسَنَةٍ فَإِذَا جَامَعَهَا ثُمَّ قَامَ إِلَى مُغْتَسَلِهِ لَمْ يَمُرَّ الْمَاءُ عَلَى شَعْرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ إِلا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَاهِي بِهِ الْمَلائِكَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي قَامَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ الشَّدِيدِ بَرْدُهَا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ مُؤْمِنًا أَنِّي رَبُّهُ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ. (خطّ) إِلَى قَوْله: أزف إِلَيْهِ، وَقَالَ وَذكر الحَدِيث وَسَاقه بِتَمَامِهِ (ابْن الْجَوْزِيّ) وَفِيه زِيَاد بن مَيْمُون وَعنهُ الصَّباح بن سهل مُنكر الحَدِيث وَقد شهد عَلَيْهِ ابْن مهْدي أَنه رَجَعَ عَن هَذَا الحَدِيث، قَالَ السُّيُوطِيّ وتابع الصَّباح حَمَّاد بن أبي سُلَيْمَان (قلت:) فالبلاء من زِيَاد وَقد شهد عَلَيْهِ عبد الرَّحْمَن بن مهْدي أَنه رَجَعَ عَن هَذَا الحَدِيث، وَالله تَعَالَى أعلم.
☀️ المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي:
(حَدِيثُ الْعَطَّارَةِ) قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ حَدِيثٌ رَوَاهُ زِيَادُ بْنُ مَيْمُونٍ هَذَا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا: الْحَوْلَاءُ عَطَّارَةٌ كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ فَدَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَذَكَرَتْ خَبَرَهَا مَعَ زَوْجِهَا وَأَنَّ
194000
شیعہ مذہب کے اپنے کوئی اصولِ حدیث نہیں ہیں

شیعہ مذہب کے اپنے کوئی اصولِ حدیث نہیں ہیں، ان کے سب سے پہلے مصنف جنہوں نے اصولِ حدیث میں تصنیف کی زین الدین جبعی شہید ثانی (مقتول 965ھ) دسویں صدی کے شیعہ عالم ہیں۔ جبکہ محدثین نے تیسری صدی ہجری کے اواخر تک اصول نقد وضع کرلیے تھے۔

چنانچہ شیعہ عالم محمد حسين الأعلمی الحائری نے اپنی کتاب " دائرة‌ المعا‌رف=‌ مقتبس‌ الأثر ومجدد ما‌ دثر" ( 3/ 73) میں اس کا اعتراف کیا ہے اور یہ بھی اقرار کیا ہے کہ یہ علوم اہل سنت کے علوم ہیں:
ومن المعلومات التى لا يشك فيها أحد أنه لم يصنف في دراية الحديث أحد من علمائنا قبل الشهيد الثاني وإنما هو من علوم العامة التي اخترعوها موافقًا لما اتفق في أحاديثهم" اهـ

نیز جو تصنیف کی گئی ہے وہ بھی محدثین کے اصول میں کچھ رد وبدل کرکے تیار کیے گئے ہیں۔
کچھ نے ایک اور مصنف بھی ذکر کیا ہے، لیکن وہ بھی نویں صدی ہجری کے اواخر کے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ علوم الحدیث جھوٹ اور غلطیوں سے حدیث پاک رکھنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں، تو جس مذہب کی بنیاد ہی تقیہ اور جھوٹ پر ہو وہ ایسے اصول سے کنارہ کش ہی رہیں گے۔

محمد انس جمال
17 ستمبر 2026ء
t.me/Tehqeeqe_Ahadees
212000
روایت:

کھانا کھانے کے بعد میٹھا کھانا سنت ہے۔

روایت کا حکم

تلاش بسیار کے باوجودمذکورہ روایت سند اًتاحال ہمیں کہیں نہیں مل سکی، اورجب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، کیونکہ آپﷺ کی جانب صرف ایساکلام اور واقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے جومعتبر سند سے ثابت ہو، واللہ اعلم۔

اہم نوٹ:

 ’’سنن الترمذی‘‘[1] میں حضرت عِکْرَاش بن ذُویب رضی اللہ عنہ کی روایت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کےبعد آپ ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا طبق پیش کیا گیا، اور آپ ﷺ نے اس میں سے کھجوریں تناول فرمائیں۔

تاہم اس روایت کی بناء پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کھانے کے بعد میٹھا کھانا سنت ہے، واللہ اعلم۔
————————

[1] سنن الترمذي:۴/ ۲۸۳،رقم:۱۸۴۸،ت:إبراهيم عطوة عوض،مطبعة مصطفي البابي ـ مصر،الطبعة الأولى ۱۳۸۲هـ .

’’سنن الترمذی‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو:’’حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سوية أبو الهذيل، حدثنا عبيد الله بن عكراش، عن أبيه عكراش بن ذؤيب، قال: بعثني بنو مرة بن عبيد بصدقات أموالهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقدمت عليه المدينة، فوجدته جالسا بين المهاجرين والأنصار، قال: ثم أخذ بيدي فانطلق بي إلى بيت أم سلمة فقال: هل من طعام؟ فأتينا بجفنة كثيرة الثريد والوذر، وأقبلنا نأكل منها، فخبطت بيدي من نواحيها، وأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين يديه، فقبض بيده اليسرى على يدي اليمنى ثم قال: يا عكراش! كل من موضع واحد فإنه طعام واحد.

 ثم أتينا بطبق فيه ألوان التمر، أو من ألوان الرطب عبيد الله شك، قال: فجعلت آكل من بين يدي، وجالت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الطبق وقال: يا عكراش! كل من حيث شئت، فإنه غير لون واحد، ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه، ومسح ببلل كفيه وجهه وذراعيه ورأسه وقال: يا عكراش! هذا الوضوء مما غيرت النار. قال أبو عيسى: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث العلاء بن الفضل، وقد تفرد العلاء بهذا الحديث، ولا نعرف لعكراش عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا هذا الحديث‘‘.

📚 ماخوذ: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم⇩
wa.me/p/27642267632133212/919580635638
tinyurl.com/TehqeeqeHadees
#میٹھا
216001
ایک صاحب نے محترم حضرت مولانا الیاس گھمن صاحب دام ظلہم کی کتاب "دروس القرآن" کا یہ عکس ارسال کیا ہے، تو عرض یہ ہے کہ اس روایت کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ملتا۔ تفصیل درج ذیل ہے:

‼️ واقعہ معراج اور التحیات کا پسِ منظر:
بعض کتب میں التحیّات سے متعلق یہ پسِ منظر لکھا ہے کہ معراج کی رات حضور اقدس ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے فرمایا: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ (تمام قولی عبادتیں، فعلی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں)، تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُهٗ (سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں)، تو حضور اقدس ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ: اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ (سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر)۔

⬅️ تبصرہ:
واقعہ معراج اور التحیات سے متعلق جتنی بھی معتبر احادیث کتبِ احادیث میں موجود ہیں اُن میں یہ واقعہ کہیں مذکور نہیں، حتی کہ امام العصر خاتمۃ المحدثین محقق جلیل حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ’’العرف الشذی شرح سنن الترمذی‘‘ میں فرماتے ہیں کہ: ’’مجھے اس کی کوئی سند نہیں مل سکی۔‘‘
اس لیے التحیات کا یہ پسِ منظر بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
☀ العرف الشذی شرح سنن الترمذی میں ہے:
وذكر بعض الأحناف: قال رسول الله ﷺ في ليلة الإسراء: «التحيات لله» إلخ، قال الله تعالى: السلام عليك أيها النبي إلخ، قال رسول الله ﷺ: «السلام علينا وعلى عباد الله» إلخ، ولكني لم أجد سند هذه الرواية، وذكره في «الروض الأنف». (باب ما جاء في التشهد)

✍🏻 مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
tinyurl.com/TehqeeqeHadees
#التحیات #معراج
171000
Photo1/2
‼️ تحقیق: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے قبر کا یہ کہنا کہ یہ حسب ونسب کی جگہ نہیں: ▪️ روایت: جب سیدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا اور انھیں تدفین کے لیے قبرستان لایا گیا تو انھیں قبر میں رکھنے سے پہلے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ…
151000
‼️ تحقیق: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے قبر کا یہ کہنا کہ یہ حسب ونسب کی جگہ نہیں:

▪️ روایت: جب سیدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا اور انھیں تدفین کے لیے قبرستان لایا گیا تو انھیں قبر میں رکھنے سے پہلے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے قبر سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ: اے قبر! کیا تو جانتی ہے کہ یہ کون دفن ہونے آرہی ہیں؟ یہ محمد ﷺ کی بیٹی، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیوی ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی والدہ اور جنتی عورتوں کی سردار ہیں، ان کے لیے وسیع اور گل وگلزار بن جا۔ تو قبر سے آواز آئی کہ: اے ابو ذر! یہ حسب ونسب کی جگہ نہیں۔ اگر ان کے اعمال اچھے ہوئے تو میں ان کا استقبال کروں گی اور اگر اعمال اچھے نہ ہوئے تو میں ان کے ساتھ وہی سلوک کروں گی جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔

⬅️ حکم: بعض متأخرین حضرات نے اس مضمون کی روایت اور واقعہ ذکر کیا ہے، لیکن اس کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ملتا، اس لیے اس کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
tinyurl.com/TehqeeqeHadees
#فاطمہؓ
130000
‼️ غیر ثابت اور غیر معتبر روایات کا سد باب کیجیے! (قسط: 6) ⬅️ کوئی روایت سامنے آنے پر اہلِ علم کی ذمہ داریاں: جب کسی کتاب میں کوئی روایت سامنے آجائے تو آنکھیں بند کرکے اس پر اعتماد کرکے اس کو ثابت اور معتبر مان کر بلا تحقیق آگے نقل کردینا خلافِ…
162000
Photo1/2
ہندوستان میں بھی بہت سے حضرات محبت وقدر دانی کرنے والے ہیں الحمدللہ، جزاھم اللہ خیرا کثیرا۔

✍🏻 مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم

————————————

بندہ بھی اس سے متفق ہے۔
🇮🇳 ایڈمن: چند مشہور احادیث کی تحقیق
tinyurl.com/TehqeeqeHadees
171002
Photo1/2
کئی لوگوں نے مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے قریب ایک اونچی کڑکی بھی اس غیر ثابت روایت کے لیے گھڑ لی ہے کہ اسی کڑکی سے یہ کچرا پھینکا جاتا تھا، حد ہے بھئی!

✍🏻 مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
tinyurl.com/TehqeeqeHadees
#کچرا
139000
گذشتہ سال عمرے کے سفر میں گروپ میں شامل حضرات کے علم میں یہ بات بھی تھی کہ بندہ روایات کی تحقیق کا ذوق رکھتا ہے جس کے نتیجے میں بکثرت اس بات کا تذکرہ بھی ہوتا رہتا اور روایات کی تحقیق کا مذاکرہ بھی ہوتا رہتا کہ فلاں روایت ثابت ہے یا نہیں؟ یوں متعدد روایات…
225004
غیر ثابت اور غیر معتبر روایات کی نشاندہی اور سد باب کے حوالے سے بندہ کے طریقہ کار اور مہم سے ممکن ہے کہ کئی سارے حضرات کو اتفاق نہ ہو اور اس معاملے میں ہمارا ایک دوسرے سے متفق ہونا ضروری بھی نہیں، تاہم خالی الذہن ہوکر اس کا مطالعہ کرنے اور سمجھنے کی صورت میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت، اہمیت اور ضرورت واضح ہوتی جائے گی ان شاءاللہ!

✍🏻 مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
tinyurl.com/TehqeeqeHadees
231000
تحقیق روایت: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کرجنت میں داخل ہونا۔

روایت:
میدانِ محشر میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ ے ہوں گے، آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہوں گے، اس حالت میں تمام لوگوں سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو لے کر جنت میں داخل ہوں گے۔

روایت کا حکم

تلاش بسیار کے باوجودمذکورہ روایت سند اًتاحال ہمیں کہیں نہیں مل سکی، اورجب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، کیونکہ آپﷺ کی جانب صرف ایساکلام اور واقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے جومعتبر سند سے ثابت ہو، واللہ اعلم۔


https://t.me/AlQasim_Book_Store (حصہ چہارم)
http://tinyurl.com/TehqeeqeHadees
206000
ایک روایت اور اس کی تحقیق

روایت:

آپ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے موت کا اتنا بھروسہ بھی نہیں ہے کہ ایک طرف سلام پھیروں، تو دوسری طرف بھی پھیر سکوں گا یا نہیں۔

ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ تم موت کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ ایک نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! صبح اٹھتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ شام بھی آئے گی یا نہیں، دوسرے نے کہا کہ اے اللہ کے محبوب! میں چار رکعت کی نیت باندھتا ہوں مجھے یقین نہیں آتا کہ چاروں پڑھ بھی سکوں گا یا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت ہے کہ جب ایک طرف سلام پھیر لوں تو اس کا یقین  نہیں ہوتا کہ میں دوسری طرف بھی سلام پھیر سکوں گا، تو جب موت کا یہ معاملہ ہے تو پھر کیوں نہ ہم اس کےلئے ہر وقت تیار رہیں، بالآخر موت آنی ہے۔

روایت کا حکم

تلاش بسیار کے باوجودمذکورہ روایت سند اًتاحال ہمیں کہیں نہیں مل سکی، اورجب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا
موقوف رکھا جائے، کیونکہ آپﷺ کی جانب صرف ایساکلام اور واقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے جومعتبر سند سے ثابت ہو، واللہ اعلم۔

📚 https://t.me/AlQasim_Book_Store (حصہ چہارم⇩
http://wa.me/p/27642267632133212/919580635638
http://tinyurl.com/TehqeeqeHadees
231002
علامہ شوکانی رحمتہ اللہ علیہ ’’الفوائد المجموعة‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’ومنها: نسخة أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن نبيط بن شريط، عن أبيه، عن جده، كلها موضوعة‘‘.اور ان من گھڑت نسخوں میں احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نبیط بن شریط کا ایک نسخہ ہے جسے وہ عن ابیہ، عن جدہ کے طریق سے نقل کرتا ہے، یہ تمام تر  من گھڑت ہے۔

تحقیق کاخلاصہ اورروایت کاحکم

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہنے زیر بحث روایت کو باطل احادیث میں شمار کیا ہے، حافظ ابن حجر عسقلانیرحمتہ اللہ علیہنے حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ کے کلام پر اعتماد کیا ہے، اس لئے اسے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔

[1] معجم الشيوخ:2/43،ت:محمد الحبيب الهيلة،مكتبة الصديق ـ المملكة العربية السعودية،الطبعة الأولى ۱۴08هـ .

[2] الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس:۱/۴۷۷،رقم:۱۸۹،ت:العربي الدائز الفرياطي،جمعية دار البر ـ دبئي، الطبعة الأولى1439هـ .

[3] معجم الشيوخ:2/43،ت:محمد الحبيب الهيلة،مكتبة الصديق ـ المملكة العربية السعودية،الطبعة الأولى ۱۴08هـ .

[4]  ميزان الاعتدال:۱/۸۲ ،رقم:۲۹۶،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بیروت .

[5] لسان المیزان:۱/۴۰۴،رقم:۳۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ .

[6] تاريخ الإسلام:۶/۶68،رقم:۸ ،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .

[7]  ميزان الاعتدال:۱/۸۲ ،رقم:۲۹۶،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بیروت .

[8] لسان الميزان:۱/۴۰۴،رقم:۳۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳ هـ .

[9] مجمع الزوائد:۱/۱۴۶،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴۱۲هـ .

[10] الزيادات على الموضوعات:2/783،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴31هـ .

[11] تنزيه الشريعة:۱/۲5،رقم:83 ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد صديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[12] المغني في الضعفاء:1/59،رقم:243،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .

[13] ديوان الضعفاء:ص:2،رقم:9،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة .

[14] طبقات علماء الحدیث:۲/۳۴۸،ت:أكرم البوشي،إبراهيم الزيبق،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۱۷هـ .

[15] الفوائد المجموعة:۴۲۵،ت:عبد الرحمن بن يحيى المعلمي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ .
244000
کتاب: https://t.me/AlQasim_Book_Store (حصہ نہم) سے⬇️

روایت:

’’اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: میری عزت وجلال کی قسم!
اے محمد! میں کسی ایسے شخص کو جہنم کا عذاب نہیں دوں گا جس نے اپنا نام آپ کے نام سے رکھا ہو‘‘۔

حکم وتحقیق: باطل، من گھڑت۔

http://wa.me/p/27642267632133212/919580635638

تفصیل:
روایت کا مصدر

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ ’’معجم الشيوخ‘‘[1] میں تخریج فرماتے ہیں:

’’وبه: [أي: أخبرنا علي بن محمد، وأيوب بن نعمة، قالا: أنا عبد الله الخشوعي، أنا يحيى الثقفي، أنا أبو علي الحداد، حضورا، ح وأخبرنا إسحاق الصفار، أنا ابن خليل، أنا مسعود الجمال، أنا الحداد، أنا أبو نعيم الحافظ، أنا أحمد بن القاسم اللُكِّي، نا أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن نبيط بن شريط الأشجعي، سنة اثنتين وسبعين ومائتين بمصر، حدثني أبي، عن أبيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال:] قال الله: وعزتي وجلالي! لا أعذب أحدا سمي باسمك بالنار، يا محمد!‘‘.

نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: میری عزت وجلال کی قسم! اے محمد! میں کسی ایسے شخص کو جہنم کا عذاب نہیں دوں گا جس نے اپنا نام آپ کے نام سے رکھا ہو۔

زیر بحث روایت حافظ ابن حجر عسقلانیرحمتہ اللہ علیہ نے بھی ’’الغرائب الملتقطة‘‘[2] میں نقل کی ہے۔

روایت پر ائمہ کاکلام

حافظ ذہبیرحمتہ اللہ علیہ کا قول

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ ’’معجم الشيوخ‘‘[3] میں زیر بحث روایت اور دیگر روایات تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’فهذه أحاديث أباطيل، ونسخة نبيط نسخة موضوعة بلا ريب، فلا تغتروا بعلوها، فاللُكِّي تكلم فيه ابن ماكولا وغيره، وشيخه أحمد أحسبه هو واضع النسخة‘‘.یہ احادیث باطل ہیں، اور نبیط کا نسخہ بلا شبہ من گھڑت ہے، چنانچہ اس کے عالی ہونے کی وجہ سے اس سے دھوکہ میں نہ پڑیں، (سند میں موجود راوی) ’’لُکِی‘‘کے بارے میں ابن ماکولا رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ نے کلام کیا ہے، اور میرے خیال میں اس کا شیخ احمد اس نسخہ کا گھڑنے والا ہے۔

نیز حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ ’’میزان الاعتدال‘‘[4] میں سند کے راوی احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نُبَیط بن شَرِیط کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، عن جده بنسخة فيها بلايا...‘‘. ’’احمد عن ابیہ، عن جدہ کے طریق سے ایک نسخہ نقل کرتا ہے، جس میں بلایا ہیں۔۔۔ ‘‘۔

اس کے بعد حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ نے زیر بحث روایت اور دیگر روایات ذکر کی ہیں، پھر فرماتے ہیں:

’’سمعناها من طريق أبي نعيم عن اللكي عنه: لا يحل الاحتجاج به، فإنه كذاب‘‘. ہم نے ان روایات کی سماعت ابو نعیم، عن اللکی، عن احمد بن اسحاق  کے طریق سے کی ہے، اس کی روایت سے احتجاج کرنا حلال نہیں ہے، اس لئے کہ احمد بن اسحاق  کذاب ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیرحمتہ اللہ علیہ نے ’’لسان الميزان‘‘[5]میں حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

سند میں موجود راوی احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نُبَیْط بن شَرِیط اشجعی(المتوفی 287ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ ’’تاريخ الإسلام‘‘[6] میں فرماتے ہیں:’’صاحب النسخة المشهورة الموضوعة‘‘. اس نے ایک مشہور نسخہ گھڑا ہے۔

نیز حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ ’’میزان الاعتدال‘‘[7] میں سند کے راوی احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نُبَیط بن شَرِیط کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، عن جده بنسخة فيها بلايا...‘‘. ’’احمد عن ابیہ، عن جدہ کے طریق سے ایک نسخہ نقل کرتا ہے، جس میں بلایا ہیں۔۔۔ ‘‘۔

اس کے بعد حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ نے زیر بحث روایت اور دیگر روایات ذکر کی ہیں، پھر فرماتے ہیں:

’’سمعناها من طريق أبي نعيم عن اللُكِّي عنه: لا يحل الاحتجاج به، فإنه كذاب‘‘. ہم نے ان روایات کی سماعت ابو نعیم، عن اللُکِی، عن احمد بن اسحاق کے طریق سے کی ہے، اس کی روایت سے احتجاج کرنا حلال نہیں ہے، اس لئے کہ احمد بن اسحاق  کذاب ہے۔

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ علیہ کے کلام پر حافظ ابن حجر عسقلانیرحمتہ اللہ علیہنے’’لسان‘‘[8] میں،حافظ ہیثمیرحمتہ اللہ علیہنے ’’مجمع الزوائد‘‘[9] میں، علامہ سیوطیرحمتہ اللہ علیہ نے ’’الزيادات‘‘[10] میں اور علامہ ابن عراقرحمتہ اللہ علیہ نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[11] میں اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ذہبیرحمتہ اللہ علیہ ’’المغني‘‘[12] میں فرماتے ہیں: ’’ساقط، ذو أوابد‘‘. ساقط ہے، عجائبات والا ہے۔

نیز حافظ ذہبیرحمتہ اللہ علیہ ’’ديوان الضعفاء‘‘[13] میں لکھتے ہیں: ’’متروك، له نسخة‘‘. یہ متروک ہے، اس کا ایک نسخہ ہے۔

حافظ ابن عبدالہادی دمشقیرحمتہ اللہ علیہ ’’طبقات علماء الحدیث‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’وهو صاحب النسخة الموضوعة، وكان يدعي أنه ولد سنة سبعين ومئة،لا يعتمد عليه‘‘. اس کا ایک گھڑا ہوا نسخہ ہے،اور یہ اس کا دعوی کرتا تھاکہ اس کی ولادت سن ایک سو ستر ہجری کی ہے،اس پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا ۔
http://tinyurl.com/TehqeeqeHadees
182001
الفاظ کے حقائق وحدود جاننا ضروری ہے

ایک سوال وارد ہوا ہے کہ:

دو تین عالم اور مفتیوں سے وضوء کی دعا کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے کہا کہ: بسم اللہ العظیم والحمد للہ علی دین الاسلام، یہ مرفوع حدیث ہے۔

تو مجھے یہ جاننا ہےکہ:
(1) فی زماننا کسی عامی آدمی کا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنا
(2) کسی عالم کا عن رسول اللہ سے حدیث بیان کرنا
(3) صحاح ستہ میں سے کسی ایک یا دو کتابوں کے استاذ کا عن رسول اللہ سے حدیث بیان کرنا (جب کہ وہ کتب احادیث میں سے بیان نہ کر رہے ہوں)۔
(4) کسی مفتی کا فقہ یا کسی حدیث کی کتاب کی گائڈ میں سے عن رسول اللہ سے حدیث بیان کرنا۔
کیا یہ تمام شکلیں مرفوع حدیث کی ہیں؟؟؟؟

الجواب بعون الملک الوھاب:

رفع کے معنے ہیں: منسوب کرنا، نسبت کرنا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کیونکہ عالی ہے، اور ان کی طرف نسبت کرنے والے کا مقام نازل ہے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنے کو خصوصی طور پر: رفع کہتے ہیں۔

ورنہ سادہ معنی اس کا: نسبت کرنا ہی ہے ۔

جیسے حدیث میں صدقہ دینے والے کے ہاتھ ✋ کو الید العلیا کہا گیا، اور لینے والے کے ہاتھ ✋ کو الید السفلی کہا گیا

تو یہاں جو کام ہوا وہ سادہ زبان میں: لینا دینا ہی ہوا، مگر فرقِ مراتب کا لحاظ کرتے ہوئے، نیز دینے کی ترغیب اور اس کو افضل بتانے کے لیے علیا وسفلی کی تعبیر استعمال کی۔

دوسری بات یہ ہے کہ: رفع کا معنی صرف نسبت کرنا ہے، یعنی اس کے لیے سند کا ہونا، یا سند کا متصل ہونا شرط نہیں ہے۔

تیسری بات: رفع سے ثبوت لازم نہیں آتا، کیونکہ رفع تو صرف نسبت ہے، مگر وہ بات ثابت بھی ہے یا نہیں؟ یہ الگ بحث ہے۔

مثال کے طور پر : بہت سی مرتبہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص آکر کوئی بات ہمارے کسی جان پہچان والے کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ: انہوں نے یہ بات کہی.

تو ہم کو یقین نہیں آتا اور ہم کہتے ہیں کہ بھائی مجھے تحقیق کرنی پڑے گی، پھر فون کے ذریعے ہم منسوب الیہ شخص سے رابطہ کرکے کنفرم کرتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی طرف نسبت کرنے یا کسی کے نام سے کوئی بات نقل کرنے سے ثبوت لازم نہیں آتا، نسبت تو موجود ہے، مگر ثبوت لازم نہیں ہے۔

منگنی کو بھی نسبت کرنا کہتے ہیں، اس سے دونوں کا بلا شرعی نکاح کے میاں بیوی ہوجانا لازم نہیں۔

الحاصل: کسی عالم یا عامی کا وضو کی دعا کو (مرفوع) کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حدیث سے ثابت ہے۔

کیونکہ مرفوع کے معنے صرف منسوب کرنے کے ہیں، آگے اس کی تحقیق کرنے پر ثبوت یا عدمِ ثبوت کا حکم لگے گا۔

بلکہ بعض مرتبہ من گھڑت روایت کو بھی حدیث، یا موضوع حدیث کہتے ہیں، تو حدیث کے لفظ سے ثابت ہونا لازم نہیں ہے، بلکہ یہ تو صرف ظاہری شکل وصورت کے اعتبار سے کہا جاتا ہے۔

جیسے بچے کے کھلونے میں موبائل فون، گاڑی، اور شیر وغیرہ ہوتا ہے، تو ہم ان کو انہیں ناموں سے موسوم کرتے ہیں، مگر صرف نام لینے سے ان کے اندر فون کی، گاڑی کی، اور شیر کی حقیقت نمودار نہیں ہوتی ہے۔

ایک اور آگے کی بات کہوں کہ: کسی حدیث کی سند موجود ہونے سے بھی اس کا صحیح ہونا یا ثابت ہونا لازم نہیں ہے، مسمار شدہ گھر 🏡 کو گھر کہتے ہیں، لیکن وہ کسی کام کا نہیں ہوتا۔


رقمہ: محمد طلحہ بلال احمد منیار
285002
حضرت حکیم الامت مجدد الملۃ حضرت اقدس مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب ’’نشر الطیب‘‘ کی اس آٹھویں فصل میں یہ پہلی روایت ذکر فرمائی ہے کہ: ’’آپ ﷺ کا گہوارہ (یعنی جھولا) فرشتوں کی جنبش دینے سے ہِلا کرتا تھا۔‘‘ اس روایت کے بارے میں چند باتیں سمجھ لیجیے:
1️⃣ یہ روایت حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ نے امام احمد قسطلانی رحمہ اللہ کی ’’المواہب اللدنیۃ‘‘ پر اعتماد کرتے ہوئے وہیں سے نقل فرمائی ہے، اور ’’المواہب اللدنیۃ‘‘ میں یہ روایت ابن سبع رحمہ اللہ کی ’’خصائص‘‘ سے نقل کی گئی ہے:
وذكر ابن سبع فى الخصائص: أن مهده كان يتحرك بتحريك الملائكة.
2️⃣ ’’نشر الطیب‘‘ میں ہے کہ: ’’ابن شیخ نے خصائص میں ذکر کیا ہے کہ۔۔۔‘‘ حالانکہ ’’المواہب‘‘ میں یہ نام ’’ابن سبع‘‘ مذکور ہے، نہ کہ ’’ابن شیخ‘‘، اور ’’المواہب‘‘ کی شرح ’’شرح الزرقانی‘‘ میں ’’ابن سبع‘‘ کا ضبط بھی ’’المواہب‘‘ کے موافق لکھا ہے:
(وذكر ابن سبع) بإسكان الموحدة وقد تضم، كما في التبصير.
3️⃣ مذکورہ روایت حضرات متأخرین کی متعدد کتبِ سیرت میں تو مل جاتی ہے لیکن نہ تو اس کی کوئی سند ملتی ہے اور نہ ہی سیرت وحدیث کے اصل مصادر ومآخذ میں اس کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ اس لیے اس کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

✍️ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
http://tinyurl.com/TehqeeqeHadees
#نشر
374002
Photo
حضرت حکیم الامت مجدد الملۃ حضرت اقدس مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب ’’نشر الطیب‘‘ کی اس آٹھویں فصل میں یہ چھٹی روایت ذکر فرمائی ہے، اس روایت کے بارے میں چند باتیں سمجھ لیجیے: 1️⃣ یہ روایت حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ نے "علم الصیغہ" کے جلیل…
351000
روایت نمبر 152
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہشتم) ’’آپ ﷺ کا
ارشاد ہے: جس نے کسی اجنبی (غیر محرم) عورت کی طرف دیکھا تو قیامت کے دن اس
کی آنکھ میں انگارے ڈالے جائیں گے، اور ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ اس کی آنکھ میں
قیامت کے دن فرشتے لوہے کی سلاخیں ڈالیں گے‘‘۔ روایت کا مصدر

زیر بحث روایت علامہ سبط ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ نے ’’إيثار الإنصاف‘‘[1] میں بلا سند ان الفاظ سے نقل کی ہے:

’’وروي: أنه صلى الله عليه وسلم قال: من نظر إلى امرأة أجنبية حراما ملأ الله تعالى عينه يوم القيامة نارا‘‘. روایت کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی اجنبی عورت کی طرف حرام نگاہ ڈالے گا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی آنکھ کو آگ سے بھر دیں گے۔

روایت کا حکم

تلاش بسیار کے باوجودمذکورہ روایات سند اًتاحال ہمیں کہیں نہیں مل سکیں، اور جب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے ،کیونکہ آپﷺ کی جانب صرف ایساکلام اور واقعہ ہی منسوب کیا جاسکتا ہے جومعتبر سند سے ثابت ہو،واللہ اعلم ۔

اہم نوٹ:

واضح رہے کہ بد نظری پر روزِ قیامت انگارے یا سلاخیں ڈالے جانے سے متعلق روایت، نیز بد نظری پر اللہ تعالی کے دیدار سے محرومی پر مشتمل روایت ما قبل میں گزر چکی ہے۔

مزید بد نظری پر آنکھوں میں سیسہ ڈالنے سے متعلق روایت کتاب ’’غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ‘‘حصہ پنجم (ص:۲۷۸) کے تحت آچکی ہے۔




[1] إيثار الإنصاف في آثار الخلاف:ص:۲۴۹،ت:ناصر العلي الناصر الخليفي،دار السلام ـ القاهرة،الطبعة الأولى1408هـ .

کتاب : غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ ⇩
http://wa.me/p/27642267632133212/919580635638
http://tinyurl.com/TehqeeqeHadees
476002

Showing 30 of 40 posts

درجہ بندی

لاگ ان درکار ہے

Frequently Asked Questions

چند مشہور احادیث کی تحقیق ٹیلیگرام چینل کس بارے میں ہے؟+

چند مشہور احادیث کی تحقیق (@tehqeeqe_ahadees) tgdio پر Pinay Content زمرے میں درج ایک ٹیلیگرام چینل ہے۔ اس پروفائل پر رینکنگ، ریٹنگ، ریویوز اور حالیہ پوسٹس دیکھ کر سبسکرائب کرنے سے پہلے فیصلہ کریں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 845 سبسکرائبرز ہیں۔

میں چند مشہور احادیث کی تحقیق (@tehqeeqe_ahadees) کو ٹیلیگرام پر کیسے جوائن کروں؟+

tgdio پر چینل پروفائل کھولیں، پھر Join / Open in Telegram سے @tehqeeqe_ahadees پر مفت سبسکرائب کریں۔

کیا چند مشہور احادیث کی تحقیق اچھا Pinay Content چینل ہے؟+

tgdio پر جوائن سے پہلے چند مشہور احادیث کی تحقیق کی ریٹنگ، ریویوز، رینکنگ اور پوسٹس دیکھیں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 845 سبسکرائبرز ہیں۔ اسی Pinay Content کے دیگر چینلز سے موازنہ کریں۔

چند مشہور احادیث کی تحقیق کے سٹیٹس اور پوسٹس کہاں دیکھوں؟+

tgdio پر @tehqeeqe_ahadees صفحہ کھولیں — سبسکرائبرز، رینکنگ، ریٹنگ اور پوسٹس۔ Stats لنک سے گروتھ چارٹ دیکھیں۔