زرمبش اردو | 🎙ZBC Telegram channel photo

زرمبش اردو | 🎙ZBC

@rzurduPublic Channel

🧾زرمبش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے تحت ریڈیو زرمبش کی اردو سروس۔ یہاں اردو زبان میں ریڈیو بلیٹن اور پروگرامات کے علاوہ تحریری صورت میں بھی خبریں ، رپورٹس اور مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔🎙

286

Last views

2.2k (2,173 subscribers)
اراکین
—
Rating
43
Total Posts
Oct 16, 2026, 9:04 AM
اپ ڈیٹ کیا گیا
Apr 14, 2026
Created
Stats

آپ اردو میں مواد دیکھ رہے ہیں۔ دوسری زبانوں میں مواد دیکھنے کے لیے سائٹ کی زبان تبدیل کریں۔

Channel Information

Channel Information
Channel Nameزرمبش اردو | 🎙ZBC
Username@rzurdu
CategoryNews Update & Newspapers
Languageاردو
Countryپاکستان
اراکین2,173
Channel TypePublic Channel
Created14 اپریل، 2026
Last Updated16 اکتوبر، 2026 • 5 دنوں پہلے
StatusActive

درجہ بندی

عالمی درجہ بندی
#341353-884
زبان کی درجہ بندی
#690-4
زمرہ کی درجہ بندی
#4564-11

سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ

کل: 2.2K30 Days growth: -391.8%
09/1709/2209/2710/0210/0710/1210/16
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - 30 Days
DateSubscribers
17:09:20262,212
18:09:20262,212
19:09:20262,197
20:09:20262,197
21:09:20262,197
22:09:20262,197
23:09:20262,197
24:09:20262,197
25:09:20262,197
26:09:20262,197
27:09:20262,197
28:09:20262,197
29:09:20262,197
30:09:20262,197
01:10:20262,197
02:10:20262,197
03:10:20262,197
04:10:20262,197
05:10:20262,197
06:10:20262,197
07:10:20262,197
08:10:20262,197
09:10:20262,197
10:10:20262,197
11:10:20262,197
12:10:20262,197
13:10:20262,197
14:10:20262,197
15:10:20262,197
16:10:20262,173
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Weekly
DateSubscribers
Week of 13:04:20262,527
Week of 20:04:20262,527
Week of 27:04:20262,477
Week of 04:05:20262,477
Week of 11:05:20262,477
Week of 18:05:20262,477
Week of 25:05:20262,477
Week of 01:06:20262,477
Week of 08:06:20262,477
Week of 15:06:20262,477
Week of 22:06:20262,477
Week of 29:06:20262,323
Week of 06:07:20262,323
Week of 13:07:20262,323
Week of 20:07:20262,323
Week of 27:07:20262,323
Week of 03:08:20262,323
Week of 10:08:20262,323
Week of 17:08:20262,231
Week of 24:08:20262,231
Week of 31:08:20262,221
Week of 07:09:20262,212
Week of 14:09:20262,197
Week of 21:09:20262,197
Week of 28:09:20262,197
Week of 05:10:20262,197
Week of 12:10:20262,173
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Monthly
DateSubscribers
April 20262,527
May 20262,477
June 20262,477
July 20262,323
August 20262,221
September 20262,197
October 20262,173
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Yearly
DateSubscribers
20262,173

Top 10 posts

Most viewed posts from this channel

By views
  1. #1بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر حملوں اور جھڑپوں کی اطل1.4K
  2. #2بلوچ مسلح جدوجہد میں خواتین یونٹ کی پہلی عسکری کاروائی، تفصیلات و امکا1.1K
  3. #3Post #22660998
  4. #4پنجگور اور تربت میں دو افراد کی لاشیں برآمد938
  5. #5Post #22658846
  6. #6مستونگ: کھڈکوچہ میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کی 806
  7. #7واجہ لعل بخش بلوچ — ایک بزرگ، ایک باپ، ایک Son of Soil اور چٹان جیسی ک793
  8. #8جھاؤ میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں میں متعدد اہلک677
  9. #9Post #22656601
  10. #10خضدار: سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ کوٹ مینگل پر مسلح حملہ، گاڑیوں کو600

تازہ ترین پوسٹس

زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

18 ستمبر، 2026، 13:08

واجہ لعل بخش بلوچ — ایک بزرگ، ایک باپ، ایک Son of Soil اور چٹان جیسی کمٹمنٹ

تحریر : فہیم بلوچ، خارجہ سیکریٹری بی این ایم
آواز : سمیع اللہ

#ZrumbeshTV #BreakingNews #MiddleEast #BalochistanCrisis
#Baloch #Balochistan #ZBC #BalochMedia #Zrumbesh

https://youtu.be/acYlm1vh5qw?si=qBq3HR_ZyrG5H9gi
Video Thumbnail
793000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

06 ستمبر، 2026، 01:42

خاران اور پنجگور سے دو افراد کی لاشیں برآمد


https://urdu.zrumbesh.com/26511/

خاران/پنجگور: بلوچستان کے اضلاع خاران اور پنجگور سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق خاران میں گزشتہ روز اغوا کیے گئے نوجوان یاسر ولد فیض اللہ کی لاش اتوار کے روز برآمد ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یاسر، جو ڈی آئی جی پولیس خاران کے باورچی تھے، کو جمعہ کی شام باب خاران کے علاقے سے نامعلوم موٹرسائیکل سوار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ بعد ازاں ان کی لاش ملی، جس پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ضلع پنجگور کے علاقے جعفر اسکیم، گریڈ اسٹیشن کے قریب سے ایک مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی، جس کی شناخت نجام ولد عبدالرحیم، سکنہ وشبود، کے نام سے کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق لاش کو شناخت اور قانونی کارروائی کے لیے ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
330000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

06 ستمبر، 2026، 01:42

سبی: کورٹ باروزئی سے 4 افراد کی لاشیں برآمد


https://urdu.zrumbesh.com/26505/

سبی کے نواحی علاقے کورٹ باروزئی سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر فوری طور پر سول ہسپتال سبی منتقل کر دیا۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق چار لاشوں میں سے تین افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ جاں بحق افراد میں گلزار خان ولد بالاچ خان، عبدالوحید ولد عتبار خان شامل ہیں، جن کا تعلق سنی، ضلع کچھی سے بتایا جاتا ہے، جبکہ تیسری لاش کی شناخت اسد اللہ ولد نامعلوم کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق چوتھے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جس کی لاش سول ہسپتال سبی کے سردخانے میں رکھی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی اہلکار موقع پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق نامعلوم شخص کی شناخت کے لیے مقامی افراد سے رابطہ کیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش جاری ہے۔
376000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

06 ستمبر، 2026، 01:42

چاغی میں مسلح افراد کی کارروائیاں، سرکاری تنصیبات اور تھانے کو نذرِ آتش


https://urdu.zrumbesh.com/26476/

چاغی: بلوچستان کے ضلع چاغی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بڑی تعداد میں مسلح افراد نے شہر میں داخل ہو کر مختلف سرکاری تنصیبات، پولیس اسٹیشنوں، لیویز چوکیوں اور بینکوں پر کارروائیاں کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی، جس کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی۔ اطلاعات ہیں کہ بعض پولیس اسٹیشنوں اور لیویز چوکیوں پر قبضے کے بعد وہاں موجود سرکاری اسلحہ اور سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا گیا، جبکہ بعد ازاں متعدد سرکاری عمارتوں اور تنصیبات کو آگ لگا دی گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی دیکھی گئی، جبکہ سرکاری دفاتر، بینکوں اور دیگر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

چاغی، جہاں ریکوڈک کا عالمی شہرت یافتہ تانبے اور سونے کا منصوبہ واقع ہے، حالیہ برسوں میں بھی سکیورٹی سے متعلق واقعات کا مرکز رہا ہے۔ نومبر 2025 میں نوکنڈی میں ہونے والے ایک مربوط حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کی تھی۔

تاحال حکام کی جانب سے موجودہ صورتحال پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ کسی بھی تنظیم نے ان حالیہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
467000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

17 جولائی، 2026، 17:58

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات


https://urdu.zrumbesh.com/26542/

بلوچستان کے مختلف اضلاع سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں، قافلوں اور تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ضلع سوراب کے علاقے دمب میں گزشتہ روز مسلح افراد کی بڑی تعداد نے ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے کے دوران شدید جھڑپ ہوئی، جبکہ ایک افسر سمیت متعدد اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں بھی گزشتہ روز ناکہ بندی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران ایک فوجی میجر کی بلٹ پروف گاڑی ڈرائیور سمیت لے جایا گیا۔

اسی اور الحسن ہوٹل اور ماشاء اللہ ہوٹل کے قریب کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر بھی فوجی قافلوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق متعدد فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

دریں اثنا، ہوشاپ میں قائم ایک مرکزی سیکیورٹی چوکی اور زیرو پوائنٹ پر واقع پولیس چوکی پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملوں میں نگرانی کے لیے نصب کیمرے تباہ کیے گئے۔

ادھر ضلع قلات کے علاقے بدرنگ میں بھی ایک فوجی کیمپ پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے دوران شدید فائرنگ اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی تصدیق جاری نہیں کی گئی۔

زرمبش اردو - Truth, Resistance, & Freedom

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات

بلوچستان کے مختلف اضلاع سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں، قافلوں اور تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

1,450000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

16 جولائی، 2026، 16:34

پنجگور اور تربت میں دو افراد کی لاشیں برآمد

پبلوچستان کے اضلاع پنجگور اور کیچ (تربت) سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجگور میں عبدالرحمٰن پارومی کے بیٹے فیصل کی لاش برآمد ہوئی، جبکہ ضلع کیچ کے علاقے تربت کے ناصرآباد سے غنی کے بیٹے زبیر کی لاش ملی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں افراد کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں افراد حکومتی یافتہ مسلح گروہ جنہیں عام طور پر “ڈیتھ اسکواڈز” کہا جاتا ہے، سے وابستہ تھے۔

تاہم کسی بھی تنظیم نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
938000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

16 جولائی، 2026، 16:33

مستونگ: کھڈکوچہ میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات، کوئٹہ-کراچی شاہراہ بند

مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں جمعرات 16 جولائی کو پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، مرکزی کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر گرو کے مقام پر پاکستانی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قافلے میں شامل بسوں میں چھٹی پر جانے والے فوجی اہلکار سوار تھے۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں متعدد بسیں اور دیگر گاڑیاں، جن میں بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں، متاثر ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق قافلے میں شامل دس بسوں میں سے متعدد کو نقصان پہنچا، جبکہ چار بسوں اور دیگر گاڑیوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

مقامی ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ حملے میں بڑی تعداد میں اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں کی گئی، اور آزاد ذرائع سے بھی ان کی توثیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

ذرائع کے مطابق، قافلے کی مدد کے لیے آنے والی پاکستانی فورسز کی اضافی نفری کو بھی مرکزی شاہراہ پر مدینہ ہوٹل کے قریب نشانہ بنایا گیا، جہاں دو گاڑیوں پر حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ پاکستانی فورسز کی اضافی نقل و حرکت اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

واقعے کے بعد نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ ہسپتال اور اس کے اطراف سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

تاحال پاکستانی حکام یا فوج کی جانب سے واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
806000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

16 جولائی، 2026، 16:26

جھاؤ میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں میں متعدد اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات

جھاؤ: بلوچستان کے ضلع جھاؤ کے علاقے گجرو کئور میں پاکستانی فورسز اور بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

علاقائی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز فوجی آپریشن کے سلسلے میں پہاڑی علاقوں میں داخل ہوئیں، جہاں انہیں مسلح افراد کی جانب سے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صبح سے دونوں جانب کے درمیان وقفے وقفے سے شدید فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

دوسری جانب مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آبادی پر شدید فائرنگ اور مارٹر گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

علاقائی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جھڑپوں میں پاکستانی فورسز کو بھی جانی نقصان پہنچا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
677000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

15 جولائی، 2026، 19:30

بلوچستان میں جبر، بیانیہ اور قومی مزاحمت


https://urdu.zrumbesh.com/26534/

تحریر: ناصر بلوچ، فنانس سیکریٹری، بلوچ نیشنل موومنٹ ا

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات میں تسلسل سے جاری ہیں، اور اب یہ حالت ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ پاکستانی فوج و فوج سے منسلک ادارے بے لگام ہوکر جس کو چاہے اٹھالیتے ہیں، غائب کرتے ہیں، خفیہ زندانوں میں اذیت رسانی سے قتل کرکے لاش پھینک دیتے ہیں اور ایک بڑی تعداد لاپتہ ہی رکھاجاتا ہے، گزشتہ چھبیس برسوں میں جبری گمشدگیوں کا دائرہ سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں افراد تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی فوج اور بلوچستان کی کٹھ پتلی اسمبلی کے "فوجی” نمائندے ان واقعات کو إقرار و انکار کے درمیان رکھ کر إقرار بھی کر رہے ہیں کہ فوج لوگوں کو اٹھا رہی ہے، جبری لاپتہ کر رہی ہے لیکن قومی تحریک کوشش کے باوجود یہ عالمی سطح پر بڑی خبر بننے سے اب تک کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی محکوم یا مقبوضہ قوم نے اپنے قومی و سیاسی مستقبل کے تعین اور آزادی کا مطالبہ کیا تو قابض قوتوں نے اس مطالبے کو کمزور کرنے کے لیے مختلف بیانیے اختیار کیے۔ ایسی تحریکوں کو کبھی بیرونی طاقتوں کا آلہ کار کہا گیا، کبھی پراکسی جنگ قرار دیا گیا اور کبھی انہیں دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرزِ عمل کا مقصد اکثر ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اصل سیاسی مطالبات سے توجہ ہٹا کر محکوموں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز ثابت کیا جا سکے۔

بلوچستان میں بھی اسی نوعیت کا بیانیہ اختیار کیا جا چکا ہے۔ پاکستان، بلوچ سرزمین، بلوچ وسائل اور بلوچ ساحل پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے بلوچ قومی جدوجہد کو مختلف بیرونی قوتوں سے منسوب کرتا ہے۔ اپنی قومی شناخت، سرزمین اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے اور بہت سے افراد جبری گمشدگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی قوم کی سیاسی مطالبات اور مستقبل کا فیصلہ آخر کن بنیادوں پر فوجی ادارے یا وہ سیاسی نمائندے کر سکتے ہیں جن کی نمائندگی خود متنازع ہے یا وہ محض فوجی و عسکری مہرے ہوں۔

پاکستانی ریاست نے مختلف ادوار میں ان عوامی حمایت رکھنے والے بلوچ سیاسی رہنماؤں کو غداری کے الزامات، فوجی مقدمات اور ریاستی دباؤ کا شکار بنایا جبکہ ایسے عناصر کو آگے لایا گیا جو ریاستی و عسکری اداروں کی زبان بولتے ہوں۔ موجودہ بلوچستان کے کٹھ پتلی اسمبلی اور اس کے وزرا اسی عسکری حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔ اسی لیے آج بلوچستان کے حقیقی سیاسی نمائندے ریاستی اسمبلیوں کے بجائے تحریک آزادی کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

بلوچ قوم گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ 1948 کے بعد پاکستان کے ساتھ رہنے کا تجربہ ان کے بنیادی قومی اور سیاسی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوا۔ بلوچ سیاست کے مختلف ادوار میں میر غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل، نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری، بالاچ مری اسمبلیوں کے حصے بنے، لیکن بلآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ قومی سوال کا حل بلوچ عوام کے پاس ہے نہ کہ پاکستان کے اسمبلیوں میں، یہ سیاسی موقف کہ موجودہ ریاستی ڈھانچے کے اندر بلوچ قومی مسئلے کا مؤثر حل ممکن نہیں، آج بلوچ قوم میں مقبول نظریہ بن چکا ہے۔

آج بلوچ قوم اپنے مستقبل کے تعین کا حق حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں، آج بلوچ قوم اس فیصلے کا اختیار حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے کہ پاکستان سے آزادی ہی بلوچ قومی مسئلے کا حل ہے جبکہ اس کے برعکس دیگر تمام راستے بلوچ قومی شناخت، تشخص اور سیاسی وجود کے خاتمے کی طرف لے جاتے ہیں، یہ اس جدید دور میں بلوچ قوم کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

زرمبش اردو - Truth, Resistance, & Freedom

بلوچستان میں جبر، بیانیہ اور قومی مزاحمت

تحریر: ناصر بلوچ، فنانس سیکریٹری، بلوچ نیشنل موومنٹ ا

560000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

15 جولائی، 2026، 00:36

ریلی سے متعلق مقدمات کی سماعتیں مجھے آگاہ کیے بغیر کی گئیں، نصراللہ بلوچ


https://urdu.zrumbesh.com/26526/

کوئٹہ: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ 11 جولائی 2024 کو جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نکالی گئی پرامن ریلی کے سلسلے میں ان کے خلاف درج مقدمات میں 12 سے زائد سماعتیں ان کی لاعلمی میں ہو چکی ہیں، جبکہ انہیں کسی بھی سماعت کے حوالے سے نہ تو سمن جاری کیا گیا اور نہ ہی قانونی طور پر آگاہ کیا گیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے بعد ان مقدمات سمیت دو ایف آئی آرز واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کے بقول مقدمات تاحال برقرار ہیں اور ان پر عدالتی کارروائی بھی جاری ہے، جو باعثِ تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کبھی روپوش یا مفرور نہیں رہے بلکہ مسلسل عوامی سرگرمیوں میں شریک رہے ہیں اور روزانہ وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس کے باوجود ان کی غیر موجودگی میں مقدمات کی سماعت جاری رکھنا شفاف قانونی عمل اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ مقدمات کی موجودہ قانونی حیثیت واضح کی جائے، قانونی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کے آئینی حقِ احتجاج، آزادیِ اظہار اور منصفانہ سماعت کے حق کا احترام کیا جائے۔

زرمبش اردو - Truth, Resistance, & Freedom

ریلی سے متعلق مقدمات کی سماعتیں مجھے آگاہ کیے بغیر کی گئیں، نصراللہ بلوچ

کوئٹہ: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ 11 جولائی 2024 کو جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نکالی گئی پرامن ریلی کے سلسلے میں ان کے خلاف درج مقدمات میں 12 سے زائد سماعتیں ان کی لاعلمی میں ہو چکی ہیں، جبکہ انہیں…

448000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

15 جولائی، 2026، 00:32

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا زبیر شاہ آغا، سید بی بی بلوچ اور احمد فرہاد کی فوری رہائی کا مطالبہ


https://urdu.zrumbesh.com/26523/

اسلام آباد: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا ریجن نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی کور کمیٹی کے رکن زبیر شاہ آغا، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما سید بی بی بلوچ اور صحافی احمد فرہاد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام انتظامی حراست کے قوانین کو پُرامن اختلافِ رائے دبانے کے لیے استعمال کرنا بند کریں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جاری کردہ بیان کے مطابق زبیر شاہ آغا کو 28 جون کو کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی سزا کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں شرکت کے بعد حراست میں لیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ زبیر شاہ آغا کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری پاکستان میں کارکنان، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف انتظامی حراست کے اختیارات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی تازہ مثال ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق سید بی بی بلوچ کو بھی یکم جولائی کو تربت میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی سزا کے خلاف اعلان کردہ پُرامن احتجاج سے قبل ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 20 جون کو صحافی احمد فرہاد کو بھی پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے علاقے باغ میں ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا، جہاں وہ تاحال زیرِ حراست ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکام زبیر شاہ آغا، سید بی بی بلوچ اور احمد فرہاد کو فوری طور پر رہا کریں، انتظامی حراست کے قوانین کے مبینہ غلط استعمال کا خاتمہ کریں اور آزادیِ اظہار، پُرامن اجتماع اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنائیں۔

زرمبش اردو - Truth, Resistance, & Freedom

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا زبیر شاہ آغا، سید بی بی بلوچ اور احمد فرہاد کی فوری رہائی کا مطالبہ

اسلام آباد: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا ریجن نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی کور کمیٹی کے رکن زبیر شاہ آغا، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما سید بی بی بلوچ اور صحافی احمد فرہاد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام انتظامی…

415000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

15 جولائی، 2026، 00:28

زیارت واقعہ: کوہلہ پھاٹک پر احتجاجی دھرنا چھٹے روز میں داخل، مذاکرات بے نتیجہ


https://urdu.zrumbesh.com/26520/

کوہلہ پھاٹک: زیارت میں قتل ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین، آل پارٹیز دھرنا کمیٹی اور بلوچستان حکومت کے درمیان جاری مذاکرات ایک بار پھر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے باعث فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد دھرنا کمیٹی اور مقتولین کے لواحقین نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا بدستور جاری رکھا جائے گا۔

کوہلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنا اب چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے، جہاں مقتول پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں، وکلا، قبائلی عمائدین، سماجی تنظیموں اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔

دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مختلف امور پر بات چیت ہوئی، تاہم مطالبات پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے۔

دھرنا کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

زرمبش اردو - Truth, Resistance, & Freedom

زیارت واقعہ: کوہلہ پھاٹک پر احتجاجی دھرنا چھٹے روز میں داخل، مذاکرات بے نتیجہ

357000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

15 جولائی، 2026، 00:24

نصیر آباد میں قابض پاکستانی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی


https://urdu.zrumbesh.com/26517/

بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز سرمچاروں نے بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے میر حسن پولیس تھانے کے حدود حاجی محمد کھوسہ کے مقام پر قابض فورسز کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں قابض دشمن کا متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے جبکہ گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

ترجمان نے کہا کہ اس حملے کی زمہ داری ہماری تنظیم بی آر جی قبول کرتی ہے اور اس طرح کی کارروائیاں بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

زرمبش اردو - Truth, Resistance, & Freedom

نصیر آباد میں قابض پاکستانی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی

بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز سرمچاروں نے بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے میر حسن پولیس تھانے کے حدود حاجی محمد کھوسہ کے مقام پر قابض فورسز کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں…

422000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

15 جولائی، 2026، 00:20

تربت: بالگتر میں تیز رفتار پراڈو کی ٹکر سے 11 سالہ بچہ ہلاک، ڈرائیور گرفتار


https://urdu.zrumbesh.com/26514/

تفصیلات کے مطابق، ہلاک ہونے والے بچے کی شناخت صدھیر ولد سلیم سکنہ بالگتر کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حادثہ گاڑی کی تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں کمسن بچہ شدید زخمی ہوا اور موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

علاقہ مکینوں نے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تیز رفتاری کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔
407000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

13 جولائی، 2026، 12:09

خضدار: سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ کوٹ مینگل پر مسلح حملہ، گاڑیوں کو نقصان، جانی نقصان نہیں

خضدار کی تحصیل وڈھ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی رہائش گاہ “کوٹ مینگل” پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ذرائع کے مطابق ہفتہ کی شام مسلح افراد نے کوٹ مینگل پر دور سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ بی این پی کے مرکزی رہنما آغا حسن بلوچ کے مطابق رہائش گاہ کے محافظوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔

حملے کے نتیجے میں کوٹ مینگل کے احاطے میں کھڑی متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، تاہم کسی شخص کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

واقعے کے بعد وڈھ، خضدار، سارونہ اور گردونواح سے بڑی تعداد میں مینگل قبیلے کے افراد کوٹ مینگل پہنچنا شروع ہوگئے۔ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وڈھ بازار اور مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

تاحال حملے کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت سامنے نہیں آسکی۔
600000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

13 جولائی، 2026، 12:08

واشک کے علاقے ماشکیل میں فائرنگ، 5 غیر مقامی افراد ہلاک

بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے پانچوں افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا اور وہ مقامی دکانوں پر مزدوری کر رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے دکانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔

واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد مقتولین کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کی جا رہی ہیں۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
456000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

29 اپریل، 2026، 02:30

نوآبادیاتی عدل کا استعماری فریب!

تحریر۔ رامین بلوچ

https://urdu.zrumbesh.com/26164/
تاریخ کے اوراق جب بھی الٹے جائیں، ایک تلخ مگر واضح حقیقت بار بار ابھر کر سامنے آتی ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں اپنی فطرت میں انصاف کے ادارے نہیں ہوتیں بلکہ وہ قبضہ کے اس جال کا مرکزی گرہ ہوتی ہیں جس کے ذریعے قبضہ، تسلط اور استحصال کو قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ عدالتیں بظاہر قانون کی حکمرانی، غیرجانبداری اور عدل کے اعلیٰ اصولوں کی نمائندہ نظر آتی ہیں، مگر درحقیقت ان کی بنیاد ایک ایسے استعماری ڈھانچے پر استوار ہوتی ہے جن کا مقصد مقبوضہ اقوام کو قابو میں رکھنا اور ان کے زمین اور وسائل پر گرفت مضبوط کرنا ہوتا ہے۔نوآبادیاتی نظام میں “قانون” ایک غیر جانبدار انصاف نہیں بلکہ قبضہ کا ایک آلہ ہوتا ہے۔ جہان قانون خود ایک استعماری بیانیہ (narrative) ہوتاہے جسے ایمپائر قوتیں تشکیل دیتی ہیں تاکہ اپنے جبری قبضہ کو فطری، جائز اور ناگزیر ثابت کیا جا سکے۔ جہاں عدالتیں محض فیصلے سنانے کی جگہ نہیں بلکہ استعماری مشینری بن جاتے ہین جہاں “جرم” اور “انصاف” کی تعریفیں بھی استعمار اور اشرافیہ طے کرتی ہیں۔

نوآبادیاتی عدالتوں کی سب سے بڑی مکروہ خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ نوآبادی کو مجرم اور مزاحمت کو دہشت بنا کر پیش کرتی ہیں۔ جو آوازیں جو تحریکیں ، آزادی، انسانی وقار اور خودمختاری کی باتیں کرتے ہیں، انہیں نام نہاد قانون کی زبان میں فتنہ “فساد”، “غداری” یا “دہشت” کے خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح عدالتین انصاف فراہم کرنے کے بجائے ایک ایسا اخلاقی الٹ پھیر (moral inversion) پیدا کرتی ہے جس میں جبر و جارحیت کو قانون و ریاستی اختیار اور مزاحمت کو جرم قرار دیا جاتا ہے۔ بظاہران عدالتوں کے دروازوں پر آویزاں ترازو، اور غیرجانبداری کا دعویٰ سب محض نمائشی ہوتے ہیں، فیصلوں کے پیچھے کارفرما قوت قانون نہیں بلکہ استعمار ہوتا ہے۔ جہان طاقت خود کو قانون کے پردے میں چھپا لیتی ہے، اور جبر کو ایک “قانونی عمل” کا نام دے دیا جاتا ہے۔

نوآبادیاتی عدالتوں کی ماہیت کو اگر واقعی سمجھنا ہو تو اسے محض قانونی ڈھانچے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر استعمار بیانیے کے حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ مشعل فوکالٹ کا تصورِ طاقت و علم یہاں بنیادی اہمیت اختیار کرتا ہے، وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ نوآبادیاتی قانون کسی غیر جانب دار سچائی کا مظہر نہیں بلکہ ایک ایسا آلہ ہے جو استعماری بیانیہ کو “ کوٹا سچ” بناکر پیش کرتاہے۔جہان قانون محض ضابطہ نہیں بلکہ طاقت کے اظہار کا ایک مہذب طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں نوآبادی کو “مہذب” بنانے کے نام پر ایک ایسا قانونی فریم مسلط کرتی ہیں جو دراصل ان کی اپنی تہذیبی برتری کو جائز ٹھہراتا ہے۔

۔نوآبادیاتی سیاق میں یہ عمل اور بھی گہرا اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہاں قانون ایک ایسے “مہذب کرنے والے منصوبے” (civilizing mission) کا حصہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے نوآبادی کی قانون روایات ادب تاریخ کلچر ، اور خودمختاری کو غیر معیاری اور پسماندہ قرار دیا جاتا ہے۔ فرانز فینن نے اسی پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتاہے کہ نوآبادیاتی نظام محض زمینی یا جسمانی قبضہ نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی تسلط بھی قائم کرتا ہےاور ان کی عدالتیں اس تسلط کی ایک نہایت مؤثر شکلیں ہیں۔ یہ عدالتیں بظاہر غیر جانبداری، ضابطے اور شفافیت کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، مگر درحقیقت یہ طاقت کے اس ڈھانچے کو برقرار رکھتی ہیں جو نوآبادکار کے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ قانون کی زبان، اس کی اصطلاحات، اور اس کے طریقۂ کارسب ایسے وضع کیے جاتے ہیں کہ نوآبادی خود کو اس نظام میں اجنبی محسوس کرے۔ یوں یہ عدالتیں انصاف دینے کے بجائے ایک ایسی “معنوی سرحد” قائم کرتی ہے جہاں قابض اور مقبوض کے درمیان خلیج مزید پختہ ہو جاتا ہے۔

چنانچہ یہ کہنا زیادہ قرینِ حقیقت ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں انصاف کی غیر جانب دار فراہمی کے بجائے نام نہاد“نظم و ضبط” (discipline) کے قیام کا آلہ کار ہوتی ہیں۔ یہاں قانون محض قواعد و ضوابط کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ طاقت کے ایک منظم اور مہذب اظہار میں ڈھل جاتا ہے۔اسی تناظر میں نوآبادیاتی عدالتیں جرم کی تعریف بھی خود متعین کرتی ہیں اور سزا کے معیارات بھی خود وضع کرتی ہیں۔یوں ایک ایسا دائرہ (cycle) قائم ہو جاتا ہے جس میں نوآبادی باشندہ پہلے سے ہی ایک “ممکنہ مجرم” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کی حرکات، اس کی شناخت، حتیٰ کہ اس کی خاموشی تک کو شک کی نگاہ سے پرکھا جاتا ہے۔ نتیجتاً جرم کوئی معروضی حقیقت نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا بیانیہ بن جاتا ہے جسے استعماری طاقت اپنی ضرورت کے مطابق تشکیل دیتی ہے۔
104000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

29 اپریل، 2026، 02:30

یہی وہ مقام ہے جہاں قانون ایک مقدس لبادہ اوڑھ کر استعماری ڈھانچے کی توسیع کرتا ہے۔ جو بظاہر عدل، توازن اور اخلاقی برتری کی نمائندگی کرتا ہے۔ مگر اس تقدس کی حقیقت اس وقت منکشف ہوتی ہے جب اس کے پسِ پردہ کارفرما منطق کو سمجھا جائے: وہ منطق جو انصاف نہیں بلکہ قبضہ، اور تسلط کو یقینی بناتی ہے۔ فرانز فینن کے بقول ، نوآبادیاتی نظام اپنی بقا کے لیے قانون کو ایک ایسے ہتھیار میں بدل دیتا ہے جو محکوم کو نہ صرف قابو میں رکھتا ہے بلکہ اس کی مزاحمت کو بھی جرم میں تبدیل کر دیتا ہے۔

نوآبادیاتی نظام میں عدالت طاقت کے ایک منظم آلے کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہاں قانون کی تشکیل، اس کی تعبیر، اور اس کا نفاذ کچھ ایک ایسے استعمار کے تابع ہوتا ہے جو خود کو “مہذب” اور نوآبادی کو “غیر مہذب” ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے جو فرد اپنے حقِ آزادی، خودمختاری یا اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اسے قانون کی نظر میں باغی، شرپسند یا مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس مین کوئی دورائے نہیں کہ عدالت میں کھڑا نوآبادی فرد در اصل ملزم نہیں ہوتا بلکہ اصل مین انصاف کی کرسی پر بھیٹے نوآبادیاتی آلہ کار (جج)مجرم ہوتاہے لیکن استعماری بیانیے میں نوآبادی کو جو اپنے حق آزادی اور وطن کی دفاع کے لے لڑ رہا ہوتا ہے اس کو مشکوک اور مجرم قرار دیا جاتاہے۔ یہاں اصل سوال جرم کا نہیں بلکہ “جرم کی تعریف” کا ہوتا ہے۔ کون طے کرتا ہے کہ کیا جرم ہے؟ اور کس بنیاد پر؟ نوآبادیاتی طاقت اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کو جرم اور غلامی کو قانون پسندی قرار دیتی ہے۔ اس طرح عدالت ایک ایسا اسٹیج بن جاتی ہے جہاں انصاف کا ڈرامہ تو کھیلا جاتا ہے، مگر اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔تاریخ میں ہمیں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں، جہاں آزادی کے متوالوں کو عدالتوں میں مجرم بنا کر پیش کیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی لوگ ہیرو اور مزاحمت کی علامت بن گئے۔

اسی طرح ایڈورڈ سعید کے نظریۂ استشراق کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں بھی ایک بیانیاتی آلہ ہیں جو “ نوآبادی ” کو ایک غیر مہذب، غیر عقلی اور نظم کے محتاج وجود کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ عدالت کے فیصلے، قوانین کی زبان، اور شواہد کی تعبیرسب مل کر ایک ایسا ڈسکورس تخلیق کرتے ہیں جو استعماری اقتدار کو فطری اور ناگزیر بنا کر پیش کرتا ہے۔
یہ عدالتیں انصاف کے بجائے “قانونی جواز” پیدا کرتی ہیں۔ یہاں انصاف کا تصور خود استعماری مفادات کے تابع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جبری قبضہ ، وسائل کی لوٹ مار، اور سیاسی و اصو لی مزاحمت کی سرکوبیان سب کو قانونی رنگ دینے کے لیے عدالتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس طرح قانون ایک ایسا پردہ بن جاتا ہے جو ظلم کو نظم اور استحصال کو انصاف کے نام پر چھپا دیتا ہے۔

نوآبادیاتی عدالتوں کا ڈھانچہ ہی اس انداز سے ترتیب دیا جاتا ہے کہ نوآبادی ثقافت، ادب، روایات، زبان، تہذیب اور قانونی شعور کو شعوری طور پر حاشیے پر دھکیل دیا جائے۔ ایک اجنبی زبان، پیچیدہ قانونی اصطلاحات، اور غیر مانوس طریقۂ کار مل کر ایک ایسی علامتی و عملی دیوار تعمیر کرتے ہیں جو انصاف تک رسائی کو نہایت محدود بلکہ ناممکن بنا دیتی ہے۔ یوں قانون، جو بظاہر غیر جانبدار اور آفاقی دکھائی دیتا ہے، دراصل استعمار کے مخصوص مفادات کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں نوآبادیاتی عدالتوں کو محض عدالتی ادارے نہیں بلکہ ایک “ تھیٹر” قرار دینا زیادہ مناسب ہے، جہاں انصاف کی ادائیگی نہیں بلکہ اس کی نمائشی تشکیل ہوتی ہے۔ اسٹیج پر قانون کی بالادستی، شواہد کی جانچ اور عدل کی علامتی زبان دکھائی جاتی ہے، مگر پسِ پردہ فیصلے استعماری ضرورتوں، مقاصد اور طاقت کے توازن کے مطابق طے ہوتے ہیں۔یہ عدالتیں استعماری نظام کو برقرار رکھنے کا نہ صرف ذریعہ اور سٹپنی ہوتے ہیں بلکہ انھیں اخلاقی جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔ وہ ظلم کو قانون کا لبادہ پہناتی ہیں اور مزاحمت کو جرم میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ اس طرح نوآبادیاتی عدالت ایک ایسے بیانیے کی تشکیل کرتی ہے جس میں قابض قوت “منصف” اور محکوم “ملزم” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

تاریخ کا مستند سچ یہی ہے کہ جو استعماری ادارے “جرم” کی تعریف متعین کرتے ہیں، وہ خود سب سے بڑے تاریخی جرائم کے معمار نکلتے ہیں۔ نوآبادیاتی عدالتیں اس حقیقت کی زندہ علامت ہے یہ بظاہر یہ ادارے عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے دعوے کے ساتھ قائم کیے جاتے ہیں، مگر درحقیقت ان کی بنیاد ایک ایسے نظام پر ہوتی ہے جو خود جبر، استحصال اور غیر مساوی طاقت کے رشتوں پر قائم ہوتا ہے۔ یہاں قانون ایک اخلاقی اصول نہیں بلکہ ایک سیاسی ہتھکنڈہ بن جاتا ہےایک ایسا نقاب جو سامراج کے چہرے کو مہذب بنا کر پیش کرتا ہے۔
121000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

29 اپریل، 2026، 02:30

سرخ لکیر عبور

عزیز سنگھور

https://urdu.zrumbesh.com/26161/

خواتین کی جبری گمشدگیاں صرف افسوسناک نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومتی نظام کے لیے ایک شرمناک حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکنے کے بجائے مزید پھیلتا جا رہا ہے، اور اب اس کی زد میں وہ خواتین اور طالبات بھی آ چکی ہیں جنہیں کسی بھی مہذب معاشرے میں سب سے زیادہ تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ طاقت کے استعمال، قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنے اور احتجاج کرنے والے خاندانوں کو مجرم بنانے کا رجحان اس بات کا ثبوت بنتا جا رہا ہے کہ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے دبانے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریوں کو اسی طرح نظرانداز کرتے رہے تو یہ نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہوگا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے باقی ماندہ رشتے کو بھی مکمل طور پر ختم کر دے گا۔
21 اپریل 2026 کو داد شاہ بلوچ کو دوسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان کی گمشدگی کے بعد ان کے اہلِ خانہ شدید اذیت اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں، کیونکہ انہیں اب تک ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ہفتے کے روز کراچی پریس کلب کے باہر ان کے خاندان کے افراد نے پرامن طور پر احتجاج کیا۔ ان کا مقصد صرف اتنا تھا کہ عوام کو داد شاہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے، کیونکہ انہیں باقاعدہ پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
لیکن اس پرامن احتجاج کو سننے یا اس پر توجہ دینے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ آرم باغ تھانے کی پولیس نے احتجاج کرنے والے افراد کو حراست میں لے کر اجتماع کو منتشر کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی داد شاہ بلوچ کی ہمشیرہ، کامریڈ فوزیہ بلوچ، ان کی والدہ اور دیگر اہلِ خانہ کے خلاف ایک ناجائز ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی ادارے نہ صرف جبری گمشدگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کی آواز کو دبانے کے لیے قانونی ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی ایک اور تشویشناک مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خدیجہ بلوچ، جن کا پورا نام خدیجہ پیر جان ہے، ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کی رہائشی اور کوئٹہ میں زیرِ تعلیم تھیں۔ انہیں 21 اپریل کی رات بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل سے انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
خدیجہ بلوچ کی حراست کے خلاف بولان میڈیکل کالج کے باہر کئی روز سے دھرنا جاری ہے۔ طالبات، اہلِ خانہ اور سماجی کارکن مسلسل احتجاج کر رہے ہیں، لیکن اب تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نام پر انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، مظاہرین کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور پولیس اہلکار ان کی تصاویر لے رہے ہیں، جس سے خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
اسی دوران خدیجہ بلوچ کے اہلِ خانہ اور ساتھی طالبات نے کوئٹہ میں ایک پرامن احتجاجی ریلی بھی نکالی، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے خدیجہ کی فوری بازیابی، خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور حکومتی اداروں کی شفافیت کے مطالبات کیے۔ ان مطالبات میں صرف ایک فرد کی رہائی نہیں بلکہ ایک وسیع تر اصول کی بحالی کی خواہش شامل ہے۔ وہ اصول جس کے تحت کسی بھی شہری کو بغیر قانونی جواز کے حراست میں نہیں لیا جا سکتا۔
بلوچستان میں خواتین کی مبینہ جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ رجحان نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ سماجی سطح پر خوف اور عدم تحفظ میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ معاشرتی روایات میں ایک انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ روایتی طور پر خواتین کو تنازعات سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس روایت کا ٹوٹنا معاشرتی توازن کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
بلوچ وومن فورم (BWF) نے خدیجہ پیر جان کی جبری گمشدگی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ کے بارے میں فوری اور واضح معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ فورم نے اس عمل کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اس طرح نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ فورم نے بی ایم سی کے باہر جاری طلبہ کے دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس پرامن احتجاج کا حصہ بنیں، کیونکہ خاموشی ناانصافی کو مزید تقویت دیتی ہے۔
184000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

29 اپریل، 2026، 02:30

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بھی اس حوالے سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر دھرنے کے کسی بھی شریک کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری براہِ راست کوئٹہ پولیس پر عائد ہوگی۔ تنظیم کے مطابق پولیس نے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹ کر عوام کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔
کراچی پریس کلب کے سابق صدر سعید سربازی نے پریس کلب کی ناکہ بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کراچی پریس کلب کے موجودہ صدر فاضل جمیلی، سینئر ممبر کلب عارف بلوچ، سعید جان بلوچ، اختر سومرو، اکرم بلوچ، محمد حفیظ، ابوبکر صدیق اور دیگر کلب کے دوستوں سے رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسئلے کے حل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لیے پریس کلب کے دوستوں کا ایک مشاورتی اجلاس بھی طلب کیا جا رہا ہے۔
ادھر بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی خواتین کی جبری گمشدگیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ نال استخلی میں اورناچ کے رہائشی ثمینہ بنت دوست محمد اور ان کے کزن قمبر ولد عبداللطیف کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد میں 14 اپریل کو بائیس سالہ گل بانک بنت تاج محمد کو ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جو تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔ اہلِ خانہ شدید بے چینی اور خوف میں مبتلا ہیں اور ان کی زندگی کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
رواں ماہ بلوچستان سے پانچ بلوچ خواتین کے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں مختلف علاقوں سے تقریباً پندرہ خواتین لاپتہ ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
یہ صورتحال سندھ اور بلوچستان میں قائم حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر خواتین کی جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ نہ رکا تو اس کے اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے سندھ کے سماجی اور سیاسی استحکام پر مرتب ہوں گے۔
154000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

29 اپریل، 2026، 02:30

خاران، تربت: فوجی آپریشن میں مارٹر گولہ گرنے سے 4 افراد زخمی، جوسک میں پولیس فائرنگ سے خاتون زخمی

https://urdu.zrumbesh.com/26158/
بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں جاری فوجی آپریشن کے دوران مارٹر گولہ گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق شوآپ کے مقام پر ایک گھر پر مارٹر گولہ لگنے کے نتیجے میں بی بی ذاکرہ، بی بی شفیقہ، حافظ طاہر اور ایک سالہ بچی نادیہ زخمی ہوگئے جبکہ گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جس کے باعث زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جبکہ کواڈ کاپٹر اور ڈرون طیاروں کی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں اور مختلف اطراف سے مارٹر گولے فائر کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تربت جوسک میں پولیس کارروائی کے دوران فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہوگئی۔

پولیس کے مطابق ناکہ بندی کے دوران ایک مشتبہ گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم نہ رکنے پر تعاقب کیا گیا، جس کے بعد سلالہ بازار میں فائرنگ کے ذریعے گاڑی کے ٹائر برسٹ کیے گئے۔ اس دوران گاڑی میں سوار خاتون گل جان زوجہ حاجی عبدالواحد (ساکن پنجگور) گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کے بازو پر گولی لگی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
181000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

29 اپریل، 2026، 02:30

کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن فوزیہ بلوچ کو پولیس نے والدہ اور دیگر افراد سمیت حراست میں لے لیا ہے۔

https://urdu.zrumbesh.com/26155/
ذرائع کے مطابق فوزیہ بلوچ کو کراچی پریس کلب کے باہر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنے بھائی داد شاشانی کی دوسری بار جبری گمشدگی کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔

پولیس کارروائی کے دوران ان کے ہمراہ موجود دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
161000
زرمبش اردو | 🎙ZBC logo
زرمبش اردو | 🎙ZBC

29 اپریل، 2026، 02:30

خاران: پاکستانی فوج کا آپریشن، علاقے میں پیش قدمی جاری

https://urdu.zrumbesh.com/26152/

بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں پاکستانی فوج کی جانب سے آپریشن کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق آج صبح فورسز نے متعدد گاڑیوں اور پیدل علاقے میں پیش قدمی کا آغاز کیا، جبکہ بڑی تعداد میں اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات ہوتے دیکھا گیا ہے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ڈرون طیاروں کی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں، جس سے علاقے میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

حکام کی جانب سے تاحال اس آپریشن سے متعلق کوئی باضابطہ تفصیلات یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
178000

Showing 30 of 43 posts

درجہ بندی

لاگ ان درکار ہے

Frequently Asked Questions

زرمبش اردو | 🎙ZBC ٹیلیگرام چینل کس بارے میں ہے؟+

زرمبش اردو | 🎙ZBC (@rzurdu) tgdio پر News Update & Newspapers زمرے میں درج ایک ٹیلیگرام چینل ہے۔ اس پروفائل پر رینکنگ، ریٹنگ، ریویوز اور حالیہ پوسٹس دیکھ کر سبسکرائب کرنے سے پہلے فیصلہ کریں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 2,173 سبسکرائبرز ہیں۔

میں زرمبش اردو | 🎙ZBC (@rzurdu) کو ٹیلیگرام پر کیسے جوائن کروں؟+

tgdio پر چینل پروفائل کھولیں، پھر Join / Open in Telegram سے @rzurdu پر مفت سبسکرائب کریں۔

کیا زرمبش اردو | 🎙ZBC اچھا News Update & Newspapers چینل ہے؟+

tgdio پر جوائن سے پہلے زرمبش اردو | 🎙ZBC کی ریٹنگ، ریویوز، رینکنگ اور پوسٹس دیکھیں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 2,173 سبسکرائبرز ہیں۔ اسی News Update & Newspapers کے دیگر چینلز سے موازنہ کریں۔

زرمبش اردو | 🎙ZBC کے سٹیٹس اور پوسٹس کہاں دیکھوں؟+

tgdio پر @rzurdu صفحہ کھولیں — سبسکرائبرز، رینکنگ، ریٹنگ اور پوسٹس۔ Stats لنک سے گروتھ چارٹ دیکھیں۔