فکرانگیز اور سنہری تحریریں Telegram channel photo

فکرانگیز اور سنہری تحریریں

@sunehritehrirenPublic Channel

اس چینل میں مستند اصلاحی علمی وفکری تحریریں اور بہت سی عمدہ چیزیں نشر کی جاتی ہیں۔

Web seriesاردوپاکستان

84

Last views

4.9k (4,871 subscribers)
اراکین
—
Rating
114
Total Posts
Oct 22, 2026, 5:41 AM
اپ ڈیٹ کیا گیا
Apr 5, 2026
Created
Stats

آپ اردو میں مواد دیکھ رہے ہیں۔ دوسری زبانوں میں مواد دیکھنے کے لیے سائٹ کی زبان تبدیل کریں۔

Channel Information

Channel Information
Channel Nameفکرانگیز اور سنہری تحریریں
Username@sunehritehriren
CategoryWeb series
Languageاردو
Countryپاکستان
اراکین4,871
Channel TypePublic Channel
Created5 اپریل، 2026
Last Updated22 اکتوبر، 2026 • گزشتہ کل
StatusActive

درجہ بندی

عالمی درجہ بندی
#173583+273
زبان کی درجہ بندی
#303+2
زمرہ کی درجہ بندی
#4809+25

سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ

کل: 4.9K30 Days growth: +40.1%
09/2309/2810/0310/0810/1310/1810/22
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - 30 Days
DateSubscribers
23:09:20264,867
24:09:20264,867
25:09:20264,867
26:09:20264,867
27:09:20264,867
28:09:20264,867
29:09:20264,867
30:09:20264,867
01:10:20264,867
02:10:20264,867
03:10:20264,867
04:10:20264,867
05:10:20264,867
06:10:20264,867
07:10:20264,867
08:10:20264,867
09:10:20264,867
10:10:20264,867
11:10:20264,867
12:10:20264,867
13:10:20264,867
14:10:20264,882
15:10:20264,882
16:10:20264,882
17:10:20264,882
18:10:20264,882
19:10:20264,882
20:10:20264,882
21:10:20264,882
22:10:20264,871
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Weekly
DateSubscribers
Week of 30:03:20264,985
Week of 06:04:20264,965
Week of 13:04:20264,965
Week of 20:04:20264,965
Week of 27:04:20264,922
Week of 04:05:20264,922
Week of 11:05:20264,914
Week of 18:05:20264,914
Week of 25:05:20264,914
Week of 01:06:20264,918
Week of 08:06:20264,918
Week of 15:06:20264,918
Week of 22:06:20264,918
Week of 29:06:20264,924
Week of 06:07:20264,924
Week of 13:07:20264,924
Week of 20:07:20264,869
Week of 27:07:20264,869
Week of 03:08:20264,850
Week of 10:08:20264,850
Week of 17:08:20264,864
Week of 24:08:20264,857
Week of 31:08:20264,857
Week of 07:09:20264,870
Week of 14:09:20264,867
Week of 21:09:20264,867
Week of 28:09:20264,867
Week of 05:10:20264,867
Week of 12:10:20264,882
Week of 19:10:20264,871
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Monthly
DateSubscribers
April 20264,922
May 20264,914
June 20264,924
July 20264,869
August 20264,857
September 20264,867
October 20264,871
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Yearly
DateSubscribers
20264,871

Top 10 posts

Most viewed posts from this channel

By views
  1. #1اگر آپ عورت ہیں تو اپنے اندر سے عورتوں والی بری عادتیں ۔۔۔ غیبت ، ناشک602
  2. #2خود اعتمادی اور تکبر میں بہت باریک فرق ہے۔ خود اعتمادی کی جڑیں اللہ پر579
  3. #3علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کے ذوق علم کا رنگ531
  4. #4استاذِ محترم حضرت مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب رحمه الله تعالی فرماتے ت517
  5. #5*💥 شائقینِ عربی زبان کے لیے خوشخبری*474
  6. #6حضرت الاستاذ مولانا محبوب فروغ صاحب (استاذ تفسیر و حدیث دارالعلوم دیوب473
  7. #7گزشتہ چھ سات دنوں سے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کا سفر466
  8. #8اپنے اسلاف پر قربان جاؤں ۔۔۔464
  9. #9طالب علم تین باتوں کی گارنٹی دے تو میں اسے گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ بڑا ع459
  10. #10دنیا کے اندھیرے میں صرف یہی ایک چراغ تھا،زمانہ کے خارستان میں اس کی ذا458

تازہ ترین پوسٹس

جب میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا ﴿أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا﴾ "یا اسی طرح اس شخص کو دیکھا جو ایک ایسی بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی،…
279001
جب میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا ﴿أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا﴾ "یا اسی طرح اس شخص کو دیکھا جو ایک ایسی بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی،…
235000
دل اور آنکھ کی صحبت ! سورۃ الکہف کی اس آیت مبارکہ نے مجھے نہ صرف اس بات سے متاثر کیا جو یہ "صحبت" کے بارے میں کہتی ہے، بلکہ اس میں موجود الٰہی کلام کی بے مثال باریکی اور حکمت نے بھی متوجہ کیا۔ آیت مبارکہ "وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ…
241000
دل اور آنکھ کی صحبت ! سورۃ الکہف کی اس آیت مبارکہ نے مجھے نہ صرف اس بات سے متاثر کیا جو یہ "صحبت" کے بارے میں کہتی ہے، بلکہ اس میں موجود الٰہی کلام کی بے مثال باریکی اور حکمت نے بھی متوجہ کیا۔ آیت مبارکہ "وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ…
225000
حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ "ہمارا کام آسان ہے، ہم آسان لفظوں میں بات سمجھا دیتے ہیں"
یہی بات حضرت مولانا محمد فاروق مکاتی دامت برکاتہم نے نقل کی ہے کہ "بات کو آسان انداز میں سمجھاؤ، الفاظ میں نہ الجھاؤ۔"
یہ ان اکابر کی سادگی تھی، مگر یہ سادگی نہ علم کی کمی کا نتیجہ تھی اور نہ حالات سے بے خبری کا، وہ زمانے کی نبض پہچانتے تھے، فتنوں کی نوعیت سے آگاہ تھے، اور جانتے تھے کہ اصل کام دلوں میں دین کی فکر اتارنا ہے، اسی لئے ان کی گفتگو کا مقصد الفاظ کی نمائش نہیں تھا، بلکہ بات کو اس طرح پہنچانا تھا کہ سننے والا اسے سمجھے، دل سے قبول کرے، اور اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کرے، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ نے اسی سادگی کے ساتھ اس کام کو شروع کیا، آج یہ کام پوری دنیا میں پھیلا، آپ فرماتے تھے کہ "اس کام کی حفاظت سادگی سے ہی ہے، لوگ اس کام کی سادگی کی وجہ سے کام کو سمجھ نہیں پاتے مگر امت میں اسی سادگی سے دین پھیلے گا۔"
آپ فرماتے تھے کہ "دوستو ! ابھی کام کا وقت باقی ہے، عنقریب دین کے لئے دو زبردست خطرے پیش آئیں گے، ایک تحریک شدھی کی طرح کفر کی تبلیغی کوشش، جو جاہل عوام میں ہوگی اور دوسرا خطرہ ہے الحاد و دہریت کا جو مغربی حکومت و سیاست کے ساتھ ساتھ آرہا ہے، یہ دونوں گمراہیاں سیلاب کی طرح آئیں گی، جو کچھ کرنا ہے، ان کے آنے سے پہلے پہلے کرلو۔"
آپ رحمہ اللہ دین کے محض بعض شعبوں کو دین پر لانا نہیں چاہتے تھے بلکہ آپ کے سامنے پورے دین کو پوری دنیا میں پھیلانا مقصود تھا، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگی کا پورا نقشہ سامنے لانا چاہتے تھے، سو ایک مجلس میں ارشاد فرمایا: "ہماری اس تحریک کا اصل مقصد ہے مسلمانوں کو جمیع ما جاء به النبی صلی اللہ علیه وسلم سکھانا (یعنی اسلام کے پورے عملی و علمی نظام کو وابستہ کرنا) یہ تو ہے ہمارا اصل مقصد، رہی قافلوں کی چلت پھرت اور تبلیغی گشت، سو یہ اس مقصد کے لئے ابتدائی ذریعہ ہے، اور کلمہ و نماز کی تلقین و تعلیم گویا ہمارے پورے نصاب کی "الف، ب، ت" ہے۔"
(مستفاد : حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ اور ان کی دینی دعوت، ملفوظات مولانا محمد الیاس کاندھلوی، اسلام کا تبلیغی و اصلاحی نظام)

نوٹ: بعض انگریزی تاریخ کو کنورٹر کے ذریعہ نکالا گیا ہے، مختلف تقویم میں ایک دو دن کا آگے پیچھے فرق ہوسکتا ہے۔

✍️ مفتی سفیان بلند
رئیس دارالریان اکادمی آن لائن
🗓️ 19 اکتوبر 2026ء | الإثنين

🌧️ شعارنا : کُن مِفتاحاً للخَیرِ
183000
رحمہ اللہ کی اجازت سے عارضی طور پر یہاں منتقل ہوئے، پھر بعد میں یہیں کے ہوگئے، بستی نظام الدین کے مجاہدے آپ کی سوانح میں دیکھے جاسکتے ہیں، یہاں اللہ تعالی نے آپ سے وہ کام لینا تھا جو ساری دنیا کو سیراب کردے، سو آپ نے مختلف حالات و واقعات دیکھے تھے، آپ کے آس پاس میوات کے لوگ تھے، آپ ان کی اصلاح کی تدبیر یہ سمجھتے تھے کہ "ان میں دین کا علم پھیلایا جائے، شریعت کے احکام و مسائل سے واقفیت پیدا کی جائے اور جہالت و وحشت دور ہو، آپ کے والد اور سب سے بڑے بھائی نے یہی طریقہ علاج اختیار کیا تھا، سو کام کی ابتدائی شکل یہ تھی کہ میوات میں دینی مکاتب اور مدارس قائم ہوں اور میوات کی (کم از کم) نئی نسل دین سے واقف ہو، سو آپ نے اہلِ میوات سے مکاتب بنانے کا وعدہ لیا، اس طرح کئی مکاتب قائم ہوئے، آپ کے نزدیک دین کی خدمت "قومی کام" کی طرح نہ تھا جس کا بار اور ذمہ داری قوم پر ہو بلکہ اپنا سمجھ کر شروع کیا جس میں اپنا لگانے سے بھی دریغ نہیں تھا، آپ کے نزدیک کام کی حقیقت یہ تھی کہ آدمی بالکل اپنے ذاتی کام کی طرح اس میں اپنا "عزیز وقت" اور "محبوب مال" خرچ کرے، وہ اس تقسیم کے قائل نہ تھے کہ یہ اپنا ہے اور یہ قومی !
بس یہی بات تھی کہ سب سے پہلے اپنا سرمایہ لگایا جو آبائی جائیداد اور ہدایا کی صورت میں آیا تھا، پھر لوگوں کی امداد کو قبول کیا۔
مکاتب میں آپ نے کام شروع کیا مگر بے قرار طبیعت نے قرار نہ پایا کہ جب تک اصل منزل نہ مل جائے، مکاتب سے "معمولی انفرادی اصلاح اور تعلیم" ہورہی تھی مگر آپ مکمل مطمئن نہ تھے، اس کی تین وجوہات تھیں :
➊ طلبہ کی پوری اصلاح اور دینی تربیت نہیں ہونے پاتی۔
➋ جو تربیت پاکر نکلتے، وہ بھی آس پاس کی بے دینی، جہالت سے متاثر ہوتے کہ پھر ان کا پتہ نہ چلتا۔
➌ یہ انتظامات تو ان کے لئے تھے جو غیر مکلف اور نابالغ بچے ہیں، عاقل، بالغ اور احکام الٰہی کے مکلف طبقہ کی دینی لا علمی اور بے عملی کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ تھا۔
آپ مختلف تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ "جب تک عام آدمیوں کی زندگی میں دین نہ آئے تو کچھ نہیں ہوسکتا"
اگرچہ اس دوران ایک بڑا طبقہ آپ سے روحانی فیض پارہا تھا، لوگ بکثرت سلسلہ سے منسلک ہورہے تھے، اسی دوران شوال 1344ء/ اپریل 1926ء کو اپنے شیخ و مرشد حضرت سہارنپوری رحمہ اللہ کی معیت میں دوسری بار سفر حج کی سعادت نصیب ہوئی، یہیں سے اس کام کے نکتہ آغاز کا سفر بھی شروع ہوا، رفقائے سفر کا کہنا ہے کہ آپ پر بہت بے چینی سوار تھی، مدینہ پہنچے تو یہاں سے جدا ہونے کو تیار نہ تھے، شیخ سے کہا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان سے چلنے کو اصرار نہ کرو، ان پر ایک حالت طاری ہے، یا تم انتظار کرو کہ از خود تمہارے ساتھ چلے جائیں یا تم خود چلے جاؤ، یہ بعد میں آجائیں گے، چنانچہ رفقاء ٹھہر گئے۔
حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ نے حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاً میں تقریباً پانچ ماہ (ذی قعدہ، ذی الحج، محرم، صفر، ربیع الاول) گزارے اور مدینہ منورہ کے قیام کے دوران آپ کو اس کام کے لئے اشارہ ہوا کہ "ہم تم سے کام لیں گے"
اس بشارت کے بعد کچھ دن دل بے چین رہا کہ میں ناتواں کیا کرسکوں گا، کسی عارف سے اپنی کیفیت بیان کی تو انہوں نے نہایت پیارا جواب دیا کہ "پریشانی کی کیا بات ہے، یہ تو نہیں کہا گیا کہ تم کام کرو، یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم تم سے کام لیں گے، پس جو کام لینے والا ہے وہی کام لے گا۔"
یہ سن کر دل کو ایسی تسکین ملی کہ سارا بوجھ اتر گیا۔
پھر 13 ربیع الثانی 1345ھ، بمطابق 20 اکتوبر 1926 بروز بدھ حرمین شریفین سے واپسی ہوئی، یہاں آکر آپ نے پہلا تبلیغی گشت کیا، آپ عوام کے درمیان نکلے، دین کے اولین ارکان و اصول کی دعوت دی، اور یوں ایک ایسی محنت آگے بڑھی جس کا مرکز عام مسلمانوں کو دین کی بنیادی باتوں کی طرف متوجہ کرنا اور ان کے دلوں میں دین کے لئے وقت لگانے کی تڑپ پیدا کرنا تھا، اور آج اسی سفر کو سو سال مکمل ہونے کو ہیں۔
سو سال! جی ہاں ! ایک صدی بیت گئی، زمانے بدل گئے، وسائل بدل گئے، مگر اس محنت کی تہہ میں جو فکر دھڑکتی تھی، اس کی ضرورت آج بھی اسی شدت سے باقی ہے، حضرت مولانا رحمہ اللہ کو اپنی ناتوانی کا پورا احساس تھا، مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کام لئے جانے کی بشارت پر اس سے بڑھ کر یقین تھا، یہی اس راہ کا سبق ہے کہ بندہ اپنی کمزوریاں گنتا ہوا بیٹھ نہیں جاتا، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق قدم اٹھاتا ہے اور نتیجہ اس ذات کے سپرد کر دیتا ہے جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔
اکابرِ تبلیغ نے کام یہ مزاج بنایا ہے کہ دین کی بڑی سے بڑی بات کو بھی عام آدمی کے لئے آسان اور قابلِ فہم بنا کر پیش کیا جائے۔
173000
➊ مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ
آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے والد ہیں جن کی ولادت محرم 1288ھ بمطابق 23 مارچ 1871ء ہفتہ کو ہوئی، آپ نے 7 سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا، آپ نے اپنے والد ماجد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، دورہ حدیث کی کتب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ سے پڑھیں، آپ نے اپنے استاذ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی تقاریر کو دوران درس ضبط تحریر میں لائے، چنانچہ ترمذی شریف کی شرح "الکوکب الدری" اور بخاری شریف کی شرح "لامع الدراری" آپ ہی کی ضبط کردہ ہیں۔
آپ کا وصال 10 ذی قعدہ 1334ھ بمطابق 7 ستمبر 1916ء کو ہوا۔
آپ کے بیٹے کے ذریعہ اللہ تعالی نے علوم نبوت (قرآن و حدیث) کو ساری دنیا میں عام کیا، نیز تصوف و سلوک، تزکیہ و احسان کا سلسلہ بھی خوب پھیلا !
➋ مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ
آپ کی ولادت 1303ھ / 1885ء میں قصبہ کاندھلہ ضلع مظفرنگر، اتر پردیش (یو پی) میں ہوئی، بچپن اپنے ننھیال "کاندھلہ" میں اور اپنے والد ماجد کے پاس گذرا جہاں دینداری کا ماحول تھا، ہر طرف علم و معرفت کی قندیل روشن تھی، ایمان و اعمال کا گہوارہ تھا، حفظ قرآن اور فارسی و عربی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد ماجد سے پڑھیں، 4 شوال 1315ھ بمطابق 26 فروری 1898ء کو آپ کے والد ماجد مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کی رحلت ہوئی، اس وقت آپ کی عمر تقریبا 13 سال تھی، خیر ! آپ کے منجھلے بھائی مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ کے ساتھ شوال 1311ھ (اپریل 1894ء) میں والد صاحب کی اجازت سے آپ کو گنگوہ لے گئے جہاں آپ آٹھ نو برس رہے، تعلیم حاصل کی، اس دوران آپ کی بہترین اخلاقی تربیت اور دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا، دورانِ تعلیم کبھی والد ماجد کے پاس نظام الدین دہلی جاتے اور کبھی ننھیال کاندھلہ جاتے، تعلیمی سلسلہ گنگوہ میں رہا، اس وقت عمر دس گیارہ سال تھی، جب حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کا وصال 1323ھ بمطابق 1905ء میں ہوا تو اس وقت آپ کی عمر 20 سال تھی، آپ فرماتے تھے کہ کہ "دو ہی غم میری زندگی میں سب سے بڑھ کر ہوئے، ایک والد کا انتقال، ایک حضرت (گنگوہی) کی وفات" .... اور فرمایا : "حضرت ! ہم تو ساری عمر کا رونا اسی روز رولئے جس روز حضرت دنیا سے رخصت ہوئے۔"
پھر 1326ھ (1908ء) میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ کے درس میں شرکت کے لئے دارالعلوم دیوبند پہنچے، صحیح بخاری و سنن ترمذی کی سماعت کی، اس وقت آپ کی عمر 23 سال کی تھی (یہ آپ کا سنہ فراغت ہے) اس کے بعد مزید کئی سال اپنے بھائی مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ سے پھر حدیث پڑھی، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ سے آپ کو بیعت کا شرف حاصل ہے، ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا خلیل احمد سہانپوری رحمہ اللہ سے سلوک کی تکیل کی اور "مُجاز بیعت" قرار پائے۔
25 سال کی عمر میں مظاہر العلوم سہارنپور میں بطور مدرس شوال 1328ھ بمطابق اکتوبر 1910ء میں تقرر ہوا، وہ کتب بھی پڑھائیں جو اس سے پہلے زمانہ طالبعلمی میں بھی نہ پڑھی تھی مگر ممتاز مدرس بنے، مطالعہ کا خوب اہتمام تھا، چنانچہ کنز الدقائق کے لئے البحر الرائق، شامی، ہدایہ دیکھتے تھے، نور الانوار کے لئے حسامی کی شروح اور توضیح تک مطالعہ میں رہتی تھی، دوران تدریس ہی 6 ذی قعدہ 1330ھ بمطابق 7 اکتوبر 1912ء کو حقیقی ماموں مولوی رؤف الحسن رحمہ اللہ کی صاحبزادی سے نکاح ہوا، یہ نکاح بڑے بھائی مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ (جو مولانا اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کی پہلی بیوی سے تھے) نے پڑھایا، مجلس نکاح میں حضرت سہارنپوری، حضرت تھانوی اور بڑے حضرت رائے پوری رحمہم اللہ تینوں موجود تھے۔
آپ پہلا حج 1333ھ/ 1915ء کو اپنے شیخ حضرت سہارنپوری اور حضرت شیخ الہند دیوبندی رحمہم اللہ کی معیت میں کیا، حج کے دوسرے سال 10 ذی قعدہ 1334ھ بمطابق 7 ستمبر 1916ء مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ داغ مفارقت دے گئے، یہ آپ پر بڑا صبر آزما مرحلہ تھا، بڑے بھائی کی تربیت کا آپ کی شخصیت میں بڑا گہرا اثر تھا، اس لئے صدمہ ہونا بھی ظاہر ہے، ان کے دو سال بعد سب سے بڑے بھائی مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ بھی 25 ربیع الثانی 1336ھ بمطابق 7 فروری 1918ء کو داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے عالم فانی سے عالم باقی کوچ کرگئے۔
مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ اپنے والد ماجد مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کے بعد نظام الدین کی بنگلہ والی مسجد میں قیام رکھتے تھے، اپنے والد صاحب کے مدرسہ کا کام جاری رکھا تھا جس میں میوات کے بچے پڑھتے تھے، آپ متقی صفت، پاکباز، نیک سیرت، پاکیزہ صورت، صوم و صلوة کے پابند، اکابر کا نمونہ تھے، انتقال سے 16 سال پہلے تک کبھی تہجد فوت نہ ہوئی، آخر وقت تک نماز جماعت سے پڑھی اور عشاء کی نماز کے بعد وتر کے سجدے میں انتقال ہوا (اللهم ارزقنا مثله) آپ کے وصال کے بعد متعلقین و معتقدین کا اصرار ہوا کہ مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ یہیں قیام فرمائیں، حضرت سہارنپوری
138000
🎯 تبلیغی جدوجہد کے سو سال
(20 اکتوبر 1926ء ـــ 20 اکتوبر 2026ء)
tinyurl.com/KitabSeDosti

ایک صدی کی دعوت، فکرِ امت اور اخلاص کی محنت

3 مارچ 1924ء کو خلافتِ عثمانیہ کا چراغ بجھ گیا، وہ خلافت جو صدیوں تک امتِ مسلمہ کے اجتماعی نظم اور باہمی ربط کی ظاہری علامت رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی امت ایک ایسے دور میں داخل ہوئی جہاں سہارے کم تھے اور سوالات زیادہ۔
اس خلافت کے بچاؤ کے لئے اکابرِ امت و مسلمانانِ ملت نے مختلف تحریکات و خدمات سر انجام دیں جو تاریخ کے صفحات میں مرقوم ہیں، سو امت مسلمہ کو "کلمہ طیبہ کی لڑی" سے جوڑنے والی خلافت کے خاتمہ کے بعد اکابرین امت فکر مند ہوئے کہ کیسے اس "عروة الوثقی" سے رابطہ رہے، اگرچہ سرکار نہ رہی مگر دعوتِ دین اور علومِ نبوت کا فروغ تو اس کے بغیر بھی ممکن ہے، سو دارالعلوم دیوبند کے اکابرین نے بھی عوام الناس کی اصلاح و تربیت کے لئے "شعبہ دعوت و تبلیغ" قائم کیا جس کے تحت مختلف علمائے کرام کی مختلف شہروں میں تشکیل جاتی تھی جیسا کہ مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے، دوسری طرف تھانہ بھون میں حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے بھی "صيانة المسلمین" کے نام سے عوام الناس میں دینی آگہی کا سلسلہ شروع کیا، انہی ایام میں مختلف اہل اللہ و اہل قلب نے امت کی تربیتِ افکار و اصلاحِ احوال کے لئے سوچ و بچار کیا، انہی بکھرتے ہوئے حالات میں ایک درویش صفت داعی کے دل میں امت کی فکر نے کروٹ لی، وہ بے چین و بے قرار ہوئے اور انہوں نے تھوڑے عرصہ میں پورے برصغیر کی کایا پلٹ دی، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ (جس کو دنیا نے مجدد التبلیغ کا لقب بھی دیا) نے مسلمانوں کی دینی حالت پر تڑپتے ہوئے ایک ایسی محنت کی بنیاد رکھی جس کی اساس کلمہ طیبہ، اصلاحِ ایمان، نماز کی پابندی اور دین کے بنیادی اعمال کی فکر تھی، مقصد یہ تھا کہ عام مسلمان دین سے جڑے، اپنی اصلاح کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرے اور پھر خود دوسروں کی دینی فکر کرنے والا بن جائے، آپ فرماتے تھے کہ "ہماری محنت کا ابتدائی عنوان کلمہ و نماز ہے مگر اس کے ذریعہ پورے دین کا احیاء مقصود ہے۔" .... آپ فرماتے تھے کہ "رسول اللہ ﷺ امت کو دین کی جس سطح پر چھوڑ گئے، اس پر پھر سے امت کو لانا ہے۔"
آپ کا یہ ارشاد معروف ہے کہ "ہماری اس جدوجہد کا مقصد احیاء بجمیع ماجاء به النبی ﷺ ہے۔"
آپ کی پیدائش 1303ھ (1885ء) میں حضرت مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ کے گھر ہوئی، آپ کی والدہ "صفیہ" خاتون ایک دیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، انہوں نے شادی کے بعد اپنے بڑے بیٹے حضرت مولانا محمد یحیی کاندھلوی رحمہ اللہ کی شیر خوارگی کے زمانے میں حفظ قرآن کیا اور ایسا اچھا یاد کیا کہ معمولی حافظ ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا، آپ کی نانی "أمة الرحمن" خاتون جو حضرت مولانا مظفر حسین صاحب رحمہ اللہ (جو حضرت مفتی الہی بخش رحمہ اللہ ـــ تلمیذ حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمہ اللہ ـــ کے بھتیجے ہیں اور حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں، ان) کی صاحبزادی تھیں اور خاندان میں "امی بی" کے نام سے معروف تھیں، رابعہ سیرت خاتون تھیں، ان کی نماز حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ (ولادت : 10 مئی 1829ء ــــ وفات : 11 اگست 1905ء) کی نماز کا نمونہ تھی، وہ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے طبقہ میں ممتاز شمار ہوتی تھیں، مرشدی عارف باللہ حضرت واصف منظور صاحب رحمہ اللہ سے یہ قصہ سنا ہے کہ انگریزی تہذیب کے اثرات اور ہندوانہ رسموں کے شیوع کے سبب مسلمانانِ ہند بہت فکر مند تھے، چنانچہ ایک جگہ تقریب تھی تو وہاں خواتین میں یہ بات چلی کہ کیسے ان اثرات کا ازالہ ہو، مختلف باتیں سامنے آئیں، ایک رائے یہ آئی کہ کوئی اپنی بیٹی کا کسی نیک صالح عالم سے رشتہ کروائے اور وہ جوڑا امت کی اصلاح کے لئے فکر کرے، چنانچہ امی بی نے اسی تقریب میں مردوں کے ہاں پیغام بھیجا کہ کوئی صالح و عالم مرد ہو تو اس سے میری بیٹی کا رشتہ کروایا جائے، اور وہیں پر مولانا محمد اسماعیل کاندھلوی رحمہ اللہ سے صفیہ بی بی کا رشتہ ہوا (آپ کی پہلی بیوی کا وصال ہوچکا تھا جس سے ایک بیٹا مولانا محمد کاندھلوی رحمہ اللہ تھے، یہ آپ کا عقد ثانی تھا جو [24 یا 26] جمادی الأخرى 1285ھ بمطابق 13 اکتوبر 1868ء میں ہوا، ابھی دارالعلوم دیوبند کو قائم ہوئے تقریبا دو ڈھائی سال ہی ہوئے تھے) خیر ! اس رشتہ کی برکت سے یہ نسل چلی جس نے پورے برصغیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا (یہ قصہ مختصر لکھا ہے، تفصیل دوسری جگہ مراجعت کی جائے) چنانچہ اس رشتہ کے بعد ان کے دو بیٹے ہوئے :
135000
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی اس ضمن میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی رفاقت میں محبت، وفاداری، اعتماد اور ایثار کی ایسی مثال قائم کی جو اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تسلی دی، حوصلہ بڑھایا اور آپ کی صفاتِ حمیدہ کی گواہی دی۔ ان کی رفاقت ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کے مشکل ترین لمحات میں کسی کا اعتماد اور حوصلہ افزائی کس قدر قیمتی سرمایہ ثابت ہوسکتی ہے۔

مصنف ازدواجی زندگی میں مال و دولت کے حوالے سے بھی ایک قابلِ غور نکتہ پیش کرتے ہیں۔ وہ عورت کے مالی حق کا انکار نہیں کرتے، بلکہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اگر گھر میں ہر چیز کو ’’میرا‘‘ اور ’’تمہارا‘‘ کی مستقل کشمکش میں تقسیم کردیا جائے تو رفاقت کی روح متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ خیال اپنی جگہ غور طلب ہے، بشرطیکہ اسے عورت کے جائز مالی حقوق سے دست برداری کا مطالبہ نہ سمجھا جائے۔ حقوق کی حفاظت اور باہمی ایثار ایک دوسرے کی ضد نہیں؛ ایک صحت مند ازدواجی زندگی میں دونوں کے لیے جگہ ہوتی ہے۔ محبت کا حسن یہ نہیں کہ کسی کا حق چھین لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ حق محفوظ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے دل میں وسعت پیدا کی جائے۔

زیرِ نظر کتاب کی ایک اہم خصوصیت اس کا ادبی، مکالماتی اور جذباتی اسلوب ہے۔ مصنف خشک علمی اصطلاحات اور طویل استدلال کے بجائے مختصر جملوں، مؤثر استعاروں اور براہِ راست خطاب کے ذریعے اپنی بات قاری تک پہنچاتے ہیں۔ کہیں عورت کو اس کی عظمت یاد دلاتے ہیں، کہیں اس کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں، کہیں ماں کے کردار کو اجاگر کرتے ہیں اور کہیں ازدواجی زندگی کے نازک پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس اسلوب کی خوبی یہ ہے کہ قاری کو محض معلومات نہیں ملتیں، بلکہ وہ خود کو گفتگو کا حصہ محسوس کرتا ہے۔

عربی سے اردو ترجمہ محض الفاظ کے متبادل تلاش کرنے کا نام نہیں؛ دونوں زبانوں کے مزاج، محاورے، اسلوب اور ادبی روایت سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ عربی عبارت میں اختصار، زورِ بیان، صوتی آہنگ اور استعاراتی تہہ داری ہوتی ہے۔ اگر مترجم ان خصوصیات کو سمجھے بغیر صرف لفظی ترجمہ کرے تو عبارت کا مفہوم تو منتقل ہوسکتا ہے، لیکن اس کی روح اور تاثیر کم ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اصل عبارت کے مفہوم، اسلوب اور جذباتی کیفیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے رواں اردو اختیار کرے تو ترجمہ اصل کا محض سایہ نہیں رہتا، بلکہ اردو قاری کے لیے ایک مستقل ادبی تجربہ بن جاتا ہے۔

بہرحال "أَنْتِ أَيْضًا صَحَابِيَّةٌ" عورت کی شخصیت، اس کے خاندانی کردار، اس کی تربیتی قوت اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں پر غور و فکر کی دعوت دینے والی کتاب ہے۔ اس کی قدر و قیمت صرف اس میں نہیں کہ یہ صحابیات کے اسوہ کی طرف متوجہ کرتی ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ ان عظیم خواتین کی زندگیوں کو عصرِ حاضر کی مسلمان عورت کے لیے قابلِ عمل رہنمائی کا ذریعہ بنانا چاہتی ہے۔

کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عظمت ہمیشہ بلند منصبوں، نمایاں کارناموں اور دنیا کی نگاہوں میں آنے والی کامیابیوں ہی کا نام نہیں۔ بعض عظیم ترین خدمات وہ ہوتی ہیں جو گھروں کی چار دیواری میں انجام پاتی ہیں، جن کی شہرت کے لیے کوئی منبر نہیں ہوتا، جن کے اعتراف کے لیے کوئی تمغہ نہیں ملتا، لیکن جن کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ محبت، تربیت، وفاداری، ایثار اور کردار سازی کی یہی خاموش محنت انسانی معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے۔

میرا مشورہ:

ذمہ داران جامعات بنات کو چاہیے کہ وہ یہ کتاب خاص طور پر اپنے نصاب میں شامل کریں۔یہ ایک کتاب بچیوں کو عربی زبان و ادب سے بھی مانوس کرسکتی ہے، اردو اسلوب اور الفاظ کا ذخیرہ بھی دے سکتی ہے۔ بچیوں کو اپنے مستقبل کے سلسلہ میں مطلوب "فکر " سے بھی نواز سکتی ہے۔
انتہی
———————————
کتاب کے آرڈر کے لیے واٹس ایپ نمبر
9580635638
انت ایضاً صحابیہ #انت
176000
مہکتی کتابیں:

تحریر: مفتی ناصرالدین مظاہری
مظاہرعلوم وقف سہارنپور
(سات جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کتاب "أَنْتِ أَيْضًا صَحَابِيَّةٌ" کا عنوان مختصر، اسلوب دل کش اور پیغام وسیع ہے۔ یہ کتاب عورت کے مقام و مرتبے، اس کی شخصیت، اس کے احساسات، اس کی ذمہ داریوں اور خاندان و معاشرے کی تعمیر میں اس کے کردار پر ایک ادبی و فکری مکالمہ ہے۔

اس کتاب کے مصنف معروف معاصر عرب ادیب أدهم شرقاوي ہیں۔ ان کی تحریروں کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ بڑی بات کو نسبتاً سادہ زبان، دل نشیں پیرایے اور مؤثر جملوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے یہاں مکالمے کی روانی، جذبات کی ترجمانی، ادبی استعاروں کا استعمال اور قاری کو براہِ راست مخاطب کرنے کا انداز ملتا ہے۔ان کو ایجابی اور خطابی دونوں اسالیب پر لکھنے میں کامل مہارت حاصل ہے۔

زیرِ نظر کتاب میں بھی خطابی اور تعمیری اسلوب نمایاں ہے۔ مصنف عورت سے محض ایک موضوع کی حیثیت سے گفتگو نہیں کرتے، بلکہ اسے مخاطب کرکے اس کی عظمت، اس کی قوت اور اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں۔

کتاب کا عنوان "أَنْتِ أَيْضًا صَحَابِيَّةٌ"، یعنی ’’تم بھی ایک صحابیہ ہو!‘‘، اپنے اندر ایک دل نشیں دعوت رکھتا ہے۔ یہ دعوت ماضی کی عظیم خواتین کی سیرت کو محض تاریخی واقعات سمجھ کر پڑھنے کی نہیں، بلکہ ان کے ایمان، اخلاص، صبر، وفا، ایثار اور قربانی کو اپنی زندگی میں اتارنے کی ہے۔ یہاں "صحابیہ" کا لفظ اصطلاحی معنی میں نہیں، بلکہ صحابیات کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے اوصاف سے اپنے کردار کو سنوارنے کی ترغیب کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ گویا عنوان کے پردے میں عصرِ حاضر کی مسلمان عورت سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ اگر صحابیات نے اپنے ایمان و کردار سے تاریخ بنائی تھی تو آج کی عورت اپنی زندگی کو ان کے اسوہ کی روشنی میں کیوں نہ سنوارے؟
مصنف عورت کے وجود اور اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"أَنْتِ الْحِضْنُ الْحَنُونُ الَّذِي نَأْوِي إِلَيْهِ، هَارِبِينَ مِنْ مَشَقَّةِ الْحَيَاةِ'۔

’’تم وہ شفیق آغوش ہو جس کی طرف ہم زندگی کی مشقتوں سے بھاگ کر پناہ لیتے ہیں۔‘‘

یہ جملہ عورت کی شخصیت کے ایک لطیف اور بنیادی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ زندگی کی سختیاں، زمانے کی بے اعتنائیاں، حالات کی تلخیاں اور ذمہ داریوں کا بوجھ جب انسان کو تھکا دیتا ہے تو اسے کسی ایسی پناہ کی ضرورت ہوتی ہے جہاں اسے ملامت کے بجائے محبت، بے اعتنائی کے بجائے توجہ اور اضطراب کے بجائے سکون میسر آئے۔ مصنف عورت کی اسی مشفقانہ قوت کو ایک مختصر مگر پُراثر جملے میں سمیٹ دیتے ہیں۔ یہاں آغوش محض جسمانی قربت کا استعارہ نہیں، بلکہ محبت، اعتماد، سکون اور جذباتی تحفظ کی علامت ہے۔

اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں:

"وَأَنْتِ مَصْنَعُ الرِّجَالِ وَمَهْدُ الْأَبْطَالِ!"

’’اور تم مردوں کی تیاری کا کارخانہ اور بہادروں کی آماج گاہ ہو!‘‘

یہاں لفظوں کا انتخاب بھی قابلِ توجہ ہے۔ مَصْنَعُ الرِّجَالِ اور مَهْدُ الْأَبْطَالِ دو الگ تصویریں پیش کرتے ہیں، لیکن دونوں کا مرکز عورت کی تربیتی قوت ہے۔ ایک طرف مردوں کی شخصیت سازی کا تصور ہے اور دوسری طرف بہادروں کی پرورش کا۔ مصنف یاد دلاتے ہیں کہ جن شخصیات کو دنیا ان کی عظمت، علم، قیادت اور کارناموں کے سبب پہچانتی ہے، ان کی تشکیل میں کسی ماں کی تربیت، کسی عورت کی قربانی اور کسی گھر کی خاموش محنت کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔ ماں کی گود میں پرورش پانے والا بچہ صرف ایک فرد نہیں ہوتا؛ وہ اپنے ساتھ ایک آنے والے عہد کے امکانات بھی لے کر آتا ہے۔

اس اعتبار سے عورت کی عظمت کو صرف اس کی ذاتی کامیابیوں، ظاہری حسن یا معاشرتی مرتبے میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا ایک بڑا وصف یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کی زندگیوں کو سنوارنے، کردار کی تعمیر کرنے اور نسلوں کی تربیت میں حصہ لیتی ہے۔ تاہم اس کردار کی معنویت اسی وقت پوری طرح نمایاں ہوتی ہے جب عورت کو محض دوسروں کی ضرورتیں پوری کرنے والی ہستی نہیں، بلکہ ایک مستقل شخصیت، اپنے حقوق اور اپنی صلاحیتوں کی حامل انسان کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے۔
کتاب میں ازدواجی زندگی کے مسائل اور میاں بیوی کے تعلقات پر بھی گفتگو ملتی ہے۔ مصنف حضرت سارہ علیہا السلام اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مثالوں کے ذریعے حسن، دولت، وفا اور رفاقت کے بعض پہلو نمایاں کرتے ہیں۔ ان مثالوں میں ان کا مقصود یہ دکھانا ہے کہ ازدواجی زندگی کی اصل خوب صورتی محض ظاہری امتیازات یا مالی حیثیت میں نہیں، بلکہ باہمی اعتماد، محبت، احترام اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے میں ہے۔
207000
*💥 واٹس ایپ کی دنیا کے چند مفید چینلز

جوائن کریں، محفوظ کریں اور چاہیں تو شئیر بھی کریں۔

❶۔ ▫️✍🏻 𝑨𝒍-𝑲𝒊𝒕𝒂𝒃 _ مضامین و اقتباسات
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5b5cl6GcG6c2fvnP21

❷ ▫️ بچوں کی تربیت
https://whatsapp.com/channel/0029VbAjdw23QxS46hEAjP0p

❸ ▫️ ملفوظاتِ حکیم الامت
https://whatsapp.com/channel/0029Vb67vPpJf05hK5O6Dc09

❹ ▫️ کتاب دوستی اور ذوقِ مطالعہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb64V3MGpLHWQBzht03G


❺ ▫️چند مشہور احادیث کی تحقیق
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5wkVV9xVJYct6At737

❻ ▫️ مختصر پر اثر
https://whatsapp.com/channel/0029VbDPFLzLdQeaXePkQ93w

❼ ▫️ معارفِ علماء دیوبند
https://whatsapp.com/channel/0029VbC9BVR5vKAFXSE2OH0k

❽ ▫️ درسِ قرآن
https://whatsapp.com/channel/0029VbDX9q372WTtruO0hE1K

❾ ▫️ درسِ حدیث (آج کی حدیث)
https://whatsapp.com/channel/0029VbDncpi545uvtZzO8Y3k

❿ ▫️ دار الافتاء علماء دیوبند
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6MhNj2P59ln35FxE3c

⓫ ▫️ سیرت النبی ﷺ
https://whatsapp.com/channel/0029VbAgOVsJJhzUXqrhcm3M

⓬ ▫️ العلم والعلماء
https://whatsapp.com/channel/0029VbE2YMnJENxuIxkDe116

⓭ ▫️شادی اور ازدواجی زندگی
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8ywpjFHWqASQaBNF1W

⓮ ▫️منشورات أدهم شرقاوي (عربی)
https://whatsapp.com/channel/0029VbENjOY2P59mPbA6Wc2D

⓯ درر و فوائد منتقاة (عربی)
https://whatsapp.com/channel/0029VbAx79w9cDDUObigz53t

⓰▫️ 𝑫𝒆𝒆𝒏𝒊 𝑹𝒂𝒉𝒏𝒖𝒎𝒂𝒚𝒊 (ہندی)
https://whatsapp.com/channel/0029VbBGnTULNSa0dndrKv3T

⓱ ▫️ 𝑫𝒆𝒆𝒏 & 𝑾𝒊𝒔𝒅𝒐𝒎 (انگلش)
https://whatsapp.com/channel/0029Vb9GjDzCHDyiGdK0U72u
194000
فقہی ضوابط منظوم (قسط نمبر: 1)

چار اصولِ فقہ: قرآں، سنت، اجماع و قیاس
ہے انھی چاروں پہ اسلامی شریعت کی اساس

سب سے پہلے اک مسلماں کے لیے قرآن ہے
پھر وضاحت کے لیے محبوب ﷺ کا فرمان ہے

جو نہ ہو قرآن و سنت میں صریحاً مسئلہ
اس میں پھر اجماعِ اہل علم ہی ہے رہنما

مسئلہ ان تین میں واضح نہ مل پاتا ہے جب
از روئے قرآن و سنت ہی قیاس آتا ہے تب

یوں بحمد اللہ ہم تک دین پہنچایا گیا
سب مسائل یوں مرتب ہو گئے باضابطہ

ان ضوابط کو اگر ہم یاد کر لیں دوستو!
سب مسائل دل میں ہم آباد کر لیں دوستو!

اصلِ اول ”انما الاعمال بالنیات“ ہے
یعنی نیت کے مطابق ہر عمل، ہر بات ہے

تاجروں کے قول میں الفاظ ہیں سب ثانوی
طے وہی پائے گا جو ہو مقصدی اور معنوی

جو یقینی ہو اسی میں اپنے دل کی تم سنو
جس میں شک ہو وہ نظر انداز کرنا مومنو!

شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
t.me/SunehriTehriren
#فقہی
229002
کیا آپ اللہ تعالی کا قرآن میں 90 بار "واصبر" (اور صبر کرو) فرمانا... اور سورة المدثر کا اس سے آغاز کرنا محض ایک عام بات سمجھتے ہیں؟ آپ اسے ایک عام لفظ سمجھتے ہیں؟ یہ نجات کا مکمل منصوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دعوتِ دین کا آغاز "اقرأ" کے بعد ان سات احکامات…
270001
کیا آپ اللہ تعالی کا قرآن میں 90 بار "واصبر" (اور صبر کرو) فرمانا... اور سورة المدثر کا اس سے آغاز کرنا محض ایک عام بات سمجھتے ہیں؟ آپ اسے ایک عام لفظ سمجھتے ہیں؟ یہ نجات کا مکمل منصوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دعوتِ دین کا آغاز "اقرأ" کے بعد ان سات احکامات…
224000
📚 انگریزی زبان میں مستند اسلامی تعلیمات، علمی مضامین اور حکمت بھری باتیں پڑھنے کے لیے ہمارے چینل Deen & Wisdom کو فالو کریں۔

🌿 Deen & Wisdom 🌿

📖 A Journey of Faith, Knowledge & Wisdom

✨ Sharing beneficial Islamic reminders, inspiring quotes, authentic teachings, scholarly insights, and words of wisdom to enlighten hearts and strengthen faith.

🕌 Learn Islam, gain wisdom, and grow closer to Allah.

🤍 Knowledge that enlightens. Wisdom that transforms.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb9GjDzCHDyiGdK0U72u
274000
ادارے کے ساتھ وفاداری، خیرخواہی اور اخلاقی ذمہ داری

👈 جس ادارے سے آپ وابستہ ہوں، جہاں سے آپ کو کسی درجے میں علمی، فکری، معاشی یا پیشہ ورانہ فائدہ پہنچ رہا ہو، اس ادارے کے ساتھ خیرخواہی، اخلاص اور وفاداری محض اخلاقی تقاضا ہی نہیں، بلکہ ایک شرعی ذمہ داری بھی ہے۔
👈 ادارہ آپ کا محسن ہے؛ اس لیے اس کے لیے دل میں خیرخواہی رکھنا، اس کی بہتری کے لیے سوچنا اور اس کے جائز مفادات کا لحاظ کرنا اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ اسی طرح اس کے منتظمین کے بارے میں بلاوجہ بدگمانی، ان کی نیتوں پر بے دلیل حملے اور ہر معاملے کو منفی زاویے سے دیکھنا، پست ظرفی اور اخلاقی کم مائیگی کی علامت ہے۔
👈 اختلافِ رائے، اصلاحی تنقید اور جائز احتساب اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن خیرخواہی کے جذبے سے خالی تنقید، بدگمانی اور تخریب پسندی کسی بھی صاحبِ کردار انسان کا شیوہ نہیں ہو سکتیں۔
👈 یاد رکھیے! جس ادارے سے آپ نے فائدہ اٹھایا ہو، اس کے ساتھ وفاداری کا تقاضا یہ نہیں کہ آپ اس کی ہر بات کو درست سمجھیں، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں بھی آپ کا رویہ خیرخواہی، دیانت اور انصاف پر مبنی ہو۔ یہی اخلاقِ عالیہ ہیں اور یہی شکرِ احسان کا تقاضا ہے۔
بہ شکریہ مولانا ڈاکٹر نور الرحمٰن
tinyurl.com/Ifadate-Akabir
225000
بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے وعدے کیے ہیں۔ 1... اس نے ان سے نصرت و مدد کا وعدہ فرمایا، چنانچہ فرمایا: اللہ﴿وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ "اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم تھا۔" 2...اور ان سے اقتدار و تمکین کا وعدہ فرمایا، چنانچہ…
262000
بقدر ضرورت علمِ دین سیکھنے کے لیے ایک مطالعاتی نصاب کا خاکہ۔

تجویز کردہ : شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم

ماخوذ از : فتاوی عثمانی

★★★ مطالعاتی نصاب ★★★

محترم ممبران!
شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا طے کردہ‌ نصاب عنوان: بقدرِ ضرورت علمِ دین سیکھنے کےلئے ایک مطالعاتی نصاب کا خاکہ۔

✍ مطلوبہ کتاب کے تعارف کے لئے لنک پر جائیں اور کلک کریں۔صدقہ جاریہ کیلئے اسے دوسروں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔ جزاکم اللّٰہ خیرا۔

نوٹ: دو کتابوں ("بہشتی گوہر" اور "مسائل بہشتی زیور") کی PDF لنک بھی نیچے موجود ہے۔
ڈاؤن لوڈ کرکے مفت پڑھ سکتے ہیں
▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂

❨پہلا حصہ ❩
❨ 01 ❩ حیات المسلمین
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/27418583654511002/919580635638
➖➖➖
❨ 02 ❩ فروع الایمان
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/29476290015288004/919580635638
➖➖➖
❨ 03 ❩‌ تعلیم الدین
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/28524641700509279/919580635638
➖➖➖
❨ 04 ❩ بہشتی گوہر (مردوں کے لئے)
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
۔PDF ڈاؤن لوڈ لنک👇🏻
etidaal.blogspot.com/2026/09/blog-post_28.html
➖➖➖
❨ 05 ❩‌ بہشتی زیور مکمل (عورتوں کے لئے)
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/28015094804839650/919580635638
➖➖➖
❨ 06 ❩ جزاء الاعمال
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/33082681278044285/919580635638
➖➖➖
❨ 07 ❩ سیرتِ خاتم الانبیاءﷺ
【مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ 】
wa.me/p/38907920885461569/919580635638
➖➖➖
❨ 08 ❩ حکایاتِ صحابہؓ
【شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ 】
wa.me/p/38837520762560259/919580635638
➖➖➖
❨ 09 ❩ تاریخِ اسلام
【حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ 】
wa.me/p/28994139216850616/919580635638
➖➖➖
❨ 10 ❩ اسوۂ رسولِ اکرم ﷺ
【حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب عارفیؒ 】
wa.me/p/28589549093984609/919580635638
➖➖➖

❨دوسرا حصہ ❩

❨ 01 ❩ تفسیر عثمانی
【علامہ شبیر احمد عثمانیؒ 】
wa.me/p/28725869177045857/919580635638
➖➖➖
❨ 02 ❩ معارف القرآن
【مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ 】
wa.me/p/28762125206755258/919580635638
➖➖➖
❨ 03 ❩ معارف الحديث
【حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ 】
wa.me/p/25931975026428892/919580635638
➖➖➖
❨ 04 ❩ مسائل بہشتی زیور
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
۔ PDF ڈاؤن لوڈ لنک👇🏻
etidaal.blogspot.com/2026/09/blog-post_720.html
➖➖➖
❨ 05 ❩ علم الفقہ
【حضرت مولانا عبد الشکور صاحب لکھنویؒ】
wa.me/p/27472388459103467/919580635638
➖➖➖
❨ 06 ❩ عقائد اسلام
【حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ】
wa.me/p/28415403124778544/919580635638
➖➖➖
❨ 07 ❩ شریعت و طریقت
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/25586104431078191/919580635638
┈┈┈┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈┈┈┈
t.me/SunehriTehriren
tinyurl.com/KitabSeDosti
407000
یہ کہتے ہوئے ان کی خوشی ایسی تھی جیسے دنیا بھر کے خزانے ان کے سامنے رکھ دیے گئے ہوں!
اس لمحے میرے دل پر جو کچھ گزرا، اسے اب لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
اس بندۂ موحد کے یقین کی قوت پر حیران ہوؤں یا اس کی دعا قبول ہونے پر، جیسے حضرت ابراہیم خلیل کی اہلیہ کو تعجب ہوا تھا؟ یا اپنے ایمان اور یقین کی کم زوری پر روؤں؟
اس بندۂ موحد اور اس ایک واقعے نے مجھے وہ سبق دیے جو بعض اہلِ علم کی کتابوں سے اور بعض ان علما سے بھی نہ مل سکے جن کے علم سے میں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ اللّٰہ ان سب پر رحم فرمائے۔
میں پورے دل سے ان کی خوشی میں شریک ہو گیا۔ ان سے میری محبت ایسی ہی تھی جیسی ایک بیٹے کو اپنے باپ سے ہوتی ہے۔
اس کے بعد بھی عبادت اور طاعت میں ان کی محنت کا یہی حال رہا، یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملے۔
اللّٰہ اس عبادت گزار، سچے بزرگ، ابو عبداللّٰہ، عبدالرحمن بن جمیعان بن ضاوی الشتیلی المطیری پر رحم فرمائے، اور اپنی رحمت سے مجھے، انھیں اور آپ سب کو فردوسِ اعلیٰ میں جمع فرمائے۔
اور اللّٰہ اس بندے پر بھی رحم فرمائے جو کہے: آمین!
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]
280000
قرآن ہی تو میری زندگی ہے!... ایک سچا واقعہ

ڈاکٹر عمر عبداللّٰہ المقبل
یہ کوئی خیالی یا تراشیدہ کہانی نہیں کہ اس کی سندیں کتبِ رجال میں تلاش کی جائیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو میرا آںکھوں دیکھا ہے۔
یہ ایک نیک، عبادت گزار بزرگ کا قصہ ہے۔ روضۃ الحسو میں، جہاں میں تقریباً ۱۴۱۲ھ سے ۱۴۲۲ھ تک خطبۂ جمعہ دیا کرتا تھا، ان سے قریب دس برس تعلق رہا۔ اس تحریر سے پانچ برس پہلے ان کا انتقال ہوا؛ عمر نوے برس سے متجاوز تھی۔ اپنے قبیلے میں وجاہت کے اعتبار سے بھی سربرآوردہ تھے اور دین داری کے اعتبار سے بھی۔ میں انھیں ایسا ہی سمجھتا ہوں؛ اللّٰہ کے حضور کسی کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا۔
ایسے بزرگ کم ہی ملتے ہیں۔ اپنے قبیلے میں تو وہ ایک نادر وجود تھے۔ ان عبادت گزاروں کی یادگار، جن کے احوال ہم سنا کرتے تھے اور گذشتہ صدی کے لوگوں میں سے جن کی کچھ مثالیں ہمیں دیکھنے کو بھی ملی تھیں۔
میں نے بہت کم لوگوں کو ان کی طرح کثرت سے قرآن پڑھتے دیکھا ہے۔ باقاعدہ طالبِ علم نہ تھے، البتہ علم اور اہلِ صلاح سے محبت رکھتے تھے۔ اپنے عمل میں اہلِ علم کے احوال سے بڑی مناسبت رکھتے تھے۔ ہر تین دن میں قرآن مجید ختم کرتے۔ بلند آواز سے تلاوت ان کا معمول تھا۔ پڑھتے تو آواز کی گونج ایسی ہوتی کہ کبھی مسجد کے احاطے میں داخل ہونے والا بھی سن لیتا۔
قسم کھا کر کہتے، اور میرے گمان میں سچ ہی کہتے تھے، کہ ان کی محبوب ترین مجلس وہ ہوتی ہے جس میں داعیان دین یا طلبۂ علم ان کے پاس آ بیٹھیں۔ وہ مجلس ان کے لیے گویا شادی کی خوشی ہوتی۔ جو بھی انھیں دیکھتا، ان کے چہرے سے یہ کیفیت پہچان لیتا۔ مسرت چہرے پر جھلکتی اور بشاشت ان کے پورے سراپے سے پھوٹی پڑتی۔
آنکھیں بہت جلد بھر آتیں۔ انھیں رلانا ہو تو کسی نیک بندے کا حال سنا دیجیے، جنت کی نعمتوں کا ذکر چھیڑ دیجیے، دوزخ کے عذاب کی بات کر دیجیے یا ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام کی سیرت سنانے لگ جائیے۔
زندگی کے آخری حصے میں کئی آزمایشوں سے گزرے۔ اہلیہ تقریباً پچیس برس پہلے وفات پا چکی تھیں۔ وفات سے چند برس پہلے ایسے درد لاحق ہو گئے تھے جو انھیں زیادہ دیر سونے نہ دیتے۔ مگر سب سے کڑی مصیبت یہ تھی کہ آنکھوں میں موتیا اتر آیا۔ رفتہ رفتہ اس نے ایسا پردہ ڈال دیا کہ کتابِ الٰہی پڑھنا دشوار ہو گیا۔
اسی حالت میں ایک روز ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ رو پڑے؛ ایسا روئے کہ مجھے بھی رلا دیا۔
میں نے پوچھا: “ابو عبداللّٰہ! کیا ہوا؟”
بولے: “آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے۔ اب قرآن نہیں پڑھ سکتا!”
اپنی عام بول چال میں کہے ہوئے ان لفظوں میں کیسی تڑپ تھی، کیسا دکھ تھا! پھر کہنے لگے:
“اللّٰہ کی قسم، ابو عبداللّٰہ! اس دنیا میں اس قرآن کے سوا میرے پاس ہے ہی کیا جو میرا دل بہلائے! اب اگر میری نظر ہی جاتی رہی تو میں اس دنیا میں کیا کروں گا؟”
کہتے جاتے تھے اور آنسو داڑھی پر ٹپکتے جاتے تھے۔
میں نے عرض کیا: “ابو عبداللّٰہ! خوش ہو جائیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: ‘بندہ جب بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو تو اس کے لیے وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ صحت اور اقامت کی حالت میں کیا کرتا تھا۔’ یہ حدیث حضرت ابو موسیٰؓ سے صحیح بخاری میں مروی ہے۔ آنکھوں کے اس عارضے نے آپ کو تلاوت سے روک دیا ہے لیکن ان شاء اللّٰہ اس کا اجر آپ کو ملتا رہے گا۔ رسول اللّٰہ ﷺ کے وعدے پر بھروسا رکھیے!”
انھوں نے میری بات کاٹ دی۔ آواز رندھی ہوئی تھی اور سچے دل سے نکلے ہوئے لفظ گرم آنسوؤں میں بھیگ رہے تھے:
“مگر مجھے تو چند ہی پارے یاد ہیں، جو بہت پہلے شیخ ابن سالم رحمہ اللّٰہ کے پاس یاد کیے تھے۔ میں تو قرآن ختم کرنا چاہتا ہوں۔ کیا معلوم کب مر جاؤں!”
میں نے کہا: “ابو عبداللّٰہ! اللّٰہ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کی بینائی بحال فرما دے؛ اچھی امید رکھیے”
قارئین! آپ سے سچ کہتا ہوں، یہ بات کہتے ہوئے میرے دل میں پختہ یقین نہ تھا۔ مجھے اللّٰہ کی قدرت میں شک نہ تھا، حاشا! اس لمحے میرے اپنے ایمان اور یقین کی کم زوری تھی۔ عام تجربہ یہی تھا کہ آنکھوں پر ایسا پردہ پڑ جائے تو بینائی کی واپسی مشکل ہوتی ہے۔
میں ان کے پاس سے اٹھ آیا۔ وہ آہستہ آہستہ یہ کلمات دہرا رہے تھے:
“إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔”
کچھ مدت گزری، ایک مہینا تھا یا اس سے زیادہ، اب یاد نہیں۔ حسبِ معمول جمعے کے خطبے کے بعد ان کے پاس گیا تو دیکھا کہ چہرہ خوشی سے دمک رہا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی بےتابی سے خوش خبری سنانے لگے:
“ابو عبداللّٰہ! خوش خبری سنو، خوش خبری! میری آنکھوں کی دھند چھٹ گئی۔ اللّٰہ نے میری دعا قبول کر لی!”
tinyurl.com/Ifadate-Akabir
290002
عربی زبان کے شائقین کے لیے ایک عمدہ واٹس ایپ چینل

🌿 نبذة عن القناة 🌿
نشارك في هذه القناة مختاراتٍ جميلة من الاقتباسات العربية، والفوائد العلمية، والكتابات الإصلاحية، والمنشورات النافعة، كما ننشر مختاراتٍ من كتابات العلماء والأدباء والمفكّرين من العرب وغيرهم، وذلك من حينٍ لآخر حسبما يتيسّر.

📚 كلماتٌ نافعة، وفوائدُ علمية، وخواطرُ جميلة، لكلِّ محبٍّ للعلم والأدب.
https://whatsapp.com/channel/0029VbAx79w9cDDUObigz53t
398000

Showing 30 of 114 posts

درجہ بندی

لاگ ان درکار ہے

Frequently Asked Questions

فکرانگیز اور سنہری تحریریں ٹیلیگرام چینل کس بارے میں ہے؟+

فکرانگیز اور سنہری تحریریں (@sunehritehriren) tgdio پر Web series زمرے میں درج ایک ٹیلیگرام چینل ہے۔ اس پروفائل پر رینکنگ، ریٹنگ، ریویوز اور حالیہ پوسٹس دیکھ کر سبسکرائب کرنے سے پہلے فیصلہ کریں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 4,871 سبسکرائبرز ہیں۔

میں فکرانگیز اور سنہری تحریریں (@sunehritehriren) کو ٹیلیگرام پر کیسے جوائن کروں؟+

tgdio پر چینل پروفائل کھولیں، پھر Join / Open in Telegram سے @sunehritehriren پر مفت سبسکرائب کریں۔

کیا فکرانگیز اور سنہری تحریریں اچھا Web series چینل ہے؟+

tgdio پر جوائن سے پہلے فکرانگیز اور سنہری تحریریں کی ریٹنگ، ریویوز، رینکنگ اور پوسٹس دیکھیں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 4,871 سبسکرائبرز ہیں۔ اسی Web series کے دیگر چینلز سے موازنہ کریں۔

فکرانگیز اور سنہری تحریریں کے سٹیٹس اور پوسٹس کہاں دیکھوں؟+

tgdio پر @sunehritehriren صفحہ کھولیں — سبسکرائبرز، رینکنگ، ریٹنگ اور پوسٹس۔ Stats لنک سے گروتھ چارٹ دیکھیں۔