فکرانگیز اور سنہری تحریریں Telegram channel photo

فکرانگیز اور سنہری تحریریں

@sunehritehrirenPublic Channel

اس چینل میں مستند اصلاحی علمی وفکری تحریریں اور بہت سی عمدہ چیزیں نشر کی جاتی ہیں۔

Web seriesاردوپاکستان

194

Last views

4.9k (4,871 subscribers)
اراکین
—
Rating
100
Total Posts
Oct 22, 2026, 5:41 AM
اپ ڈیٹ کیا گیا
Apr 5, 2026
Created
Stats

آپ اردو میں مواد دیکھ رہے ہیں۔ دوسری زبانوں میں مواد دیکھنے کے لیے سائٹ کی زبان تبدیل کریں۔

Channel Information

Channel Information
Channel Nameفکرانگیز اور سنہری تحریریں
Username@sunehritehriren
CategoryWeb series
Languageاردو
Countryپاکستان
اراکین4,871
Channel TypePublic Channel
Created5 اپریل، 2026
Last Updated22 اکتوبر، 2026 • 12 گھنٹے پہلے
StatusActive

درجہ بندی

عالمی درجہ بندی
#173856-9266
زبان کی درجہ بندی
#305-7
زمرہ کی درجہ بندی
#4834-260

سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ

کل: 4.9K30 Days growth: +40.1%
09/2309/2810/0310/0810/1310/1810/22
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - 30 Days
DateSubscribers
23:09:20264,867
24:09:20264,867
25:09:20264,867
26:09:20264,867
27:09:20264,867
28:09:20264,867
29:09:20264,867
30:09:20264,867
01:10:20264,867
02:10:20264,867
03:10:20264,867
04:10:20264,867
05:10:20264,867
06:10:20264,867
07:10:20264,867
08:10:20264,867
09:10:20264,867
10:10:20264,867
11:10:20264,867
12:10:20264,867
13:10:20264,867
14:10:20264,882
15:10:20264,882
16:10:20264,882
17:10:20264,882
18:10:20264,882
19:10:20264,882
20:10:20264,882
21:10:20264,882
22:10:20264,871
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Weekly
DateSubscribers
Week of 30:03:20264,985
Week of 06:04:20264,965
Week of 13:04:20264,965
Week of 20:04:20264,965
Week of 27:04:20264,922
Week of 04:05:20264,922
Week of 11:05:20264,914
Week of 18:05:20264,914
Week of 25:05:20264,914
Week of 01:06:20264,918
Week of 08:06:20264,918
Week of 15:06:20264,918
Week of 22:06:20264,918
Week of 29:06:20264,924
Week of 06:07:20264,924
Week of 13:07:20264,924
Week of 20:07:20264,869
Week of 27:07:20264,869
Week of 03:08:20264,850
Week of 10:08:20264,850
Week of 17:08:20264,864
Week of 24:08:20264,857
Week of 31:08:20264,857
Week of 07:09:20264,870
Week of 14:09:20264,867
Week of 21:09:20264,867
Week of 28:09:20264,867
Week of 05:10:20264,867
Week of 12:10:20264,882
Week of 19:10:20264,871
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Monthly
DateSubscribers
April 20264,922
May 20264,914
June 20264,924
July 20264,869
August 20264,857
September 20264,867
October 20264,871
سبسکرائبرز کی تعداد میں اضافہ - Yearly
DateSubscribers
20264,871

Top 10 posts

Most viewed posts from this channel

By views
  1. #1اگر آپ عورت ہیں تو اپنے اندر سے عورتوں والی بری عادتیں ۔۔۔ غیبت ، ناشک602
  2. #2خود اعتمادی اور تکبر میں بہت باریک فرق ہے۔ خود اعتمادی کی جڑیں اللہ پر579
  3. #3علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کے ذوق علم کا رنگ531
  4. #4استاذِ محترم حضرت مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب رحمه الله تعالی فرماتے ت517
  5. #5*💥 شائقینِ عربی زبان کے لیے خوشخبری*474
  6. #6حضرت الاستاذ مولانا محبوب فروغ صاحب (استاذ تفسیر و حدیث دارالعلوم دیوب473
  7. #7گزشتہ چھ سات دنوں سے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کا سفر466
  8. #8اپنے اسلاف پر قربان جاؤں ۔۔۔464
  9. #9طالب علم تین باتوں کی گارنٹی دے تو میں اسے گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ بڑا ع459
  10. #10دنیا کے اندھیرے میں صرف یہی ایک چراغ تھا،زمانہ کے خارستان میں اس کی ذا458

تازہ ترین پوسٹس

*💥 واٹس ایپ کی دنیا کے چند مفید چینلز

جوائن کریں، محفوظ کریں اور چاہیں تو شئیر بھی کریں۔

❶۔ ▫️✍🏻 𝑨𝒍-𝑲𝒊𝒕𝒂𝒃 _ مضامین و اقتباسات
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5b5cl6GcG6c2fvnP21

❷ ▫️ بچوں کی تربیت
https://whatsapp.com/channel/0029VbAjdw23QxS46hEAjP0p

❸ ▫️ ملفوظاتِ حکیم الامت
https://whatsapp.com/channel/0029Vb67vPpJf05hK5O6Dc09

❹ ▫️ کتاب دوستی اور ذوقِ مطالعہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vb64V3MGpLHWQBzht03G


❺ ▫️چند مشہور احادیث کی تحقیق
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5wkVV9xVJYct6At737

❻ ▫️ مختصر پر اثر
https://whatsapp.com/channel/0029VbDPFLzLdQeaXePkQ93w

❼ ▫️ معارفِ علماء دیوبند
https://whatsapp.com/channel/0029VbC9BVR5vKAFXSE2OH0k

❽ ▫️ درسِ قرآن
https://whatsapp.com/channel/0029VbDX9q372WTtruO0hE1K

❾ ▫️ درسِ حدیث (آج کی حدیث)
https://whatsapp.com/channel/0029VbDncpi545uvtZzO8Y3k

❿ ▫️ دار الافتاء علماء دیوبند
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6MhNj2P59ln35FxE3c

⓫ ▫️ سیرت النبی ﷺ
https://whatsapp.com/channel/0029VbAgOVsJJhzUXqrhcm3M

⓬ ▫️ العلم والعلماء
https://whatsapp.com/channel/0029VbE2YMnJENxuIxkDe116

⓭ ▫️شادی اور ازدواجی زندگی
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8ywpjFHWqASQaBNF1W

⓮ ▫️منشورات أدهم شرقاوي (عربی)
https://whatsapp.com/channel/0029VbENjOY2P59mPbA6Wc2D

⓯ درر و فوائد منتقاة (عربی)
https://whatsapp.com/channel/0029VbAx79w9cDDUObigz53t

⓰▫️ 𝑫𝒆𝒆𝒏𝒊 𝑹𝒂𝒉𝒏𝒖𝒎𝒂𝒚𝒊 (ہندی)
https://whatsapp.com/channel/0029VbBGnTULNSa0dndrKv3T

⓱ ▫️ 𝑫𝒆𝒆𝒏 & 𝑾𝒊𝒔𝒅𝒐𝒎 (انگلش)
https://whatsapp.com/channel/0029Vb9GjDzCHDyiGdK0U72u
194000
فقہی ضوابط منظوم (قسط نمبر: 1)

چار اصولِ فقہ: قرآں، سنت، اجماع و قیاس
ہے انھی چاروں پہ اسلامی شریعت کی اساس

سب سے پہلے اک مسلماں کے لیے قرآن ہے
پھر وضاحت کے لیے محبوب ﷺ کا فرمان ہے

جو نہ ہو قرآن و سنت میں صریحاً مسئلہ
اس میں پھر اجماعِ اہل علم ہی ہے رہنما

مسئلہ ان تین میں واضح نہ مل پاتا ہے جب
از روئے قرآن و سنت ہی قیاس آتا ہے تب

یوں بحمد اللہ ہم تک دین پہنچایا گیا
سب مسائل یوں مرتب ہو گئے باضابطہ

ان ضوابط کو اگر ہم یاد کر لیں دوستو!
سب مسائل دل میں ہم آباد کر لیں دوستو!

اصلِ اول ”انما الاعمال بالنیات“ ہے
یعنی نیت کے مطابق ہر عمل، ہر بات ہے

تاجروں کے قول میں الفاظ ہیں سب ثانوی
طے وہی پائے گا جو ہو مقصدی اور معنوی

جو یقینی ہو اسی میں اپنے دل کی تم سنو
جس میں شک ہو وہ نظر انداز کرنا مومنو!

شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری
t.me/SunehriTehriren
#فقہی
229002
کیا آپ اللہ تعالی کا قرآن میں 90 بار "واصبر" (اور صبر کرو) فرمانا... اور سورة المدثر کا اس سے آغاز کرنا محض ایک عام بات سمجھتے ہیں؟ آپ اسے ایک عام لفظ سمجھتے ہیں؟ یہ نجات کا مکمل منصوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دعوتِ دین کا آغاز "اقرأ" کے بعد ان سات احکامات…
270001
کیا آپ اللہ تعالی کا قرآن میں 90 بار "واصبر" (اور صبر کرو) فرمانا... اور سورة المدثر کا اس سے آغاز کرنا محض ایک عام بات سمجھتے ہیں؟ آپ اسے ایک عام لفظ سمجھتے ہیں؟ یہ نجات کا مکمل منصوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دعوتِ دین کا آغاز "اقرأ" کے بعد ان سات احکامات…
224000
📚 انگریزی زبان میں مستند اسلامی تعلیمات، علمی مضامین اور حکمت بھری باتیں پڑھنے کے لیے ہمارے چینل Deen & Wisdom کو فالو کریں۔

🌿 Deen & Wisdom 🌿

📖 A Journey of Faith, Knowledge & Wisdom

✨ Sharing beneficial Islamic reminders, inspiring quotes, authentic teachings, scholarly insights, and words of wisdom to enlighten hearts and strengthen faith.

🕌 Learn Islam, gain wisdom, and grow closer to Allah.

🤍 Knowledge that enlightens. Wisdom that transforms.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb9GjDzCHDyiGdK0U72u
274000
ادارے کے ساتھ وفاداری، خیرخواہی اور اخلاقی ذمہ داری

👈 جس ادارے سے آپ وابستہ ہوں، جہاں سے آپ کو کسی درجے میں علمی، فکری، معاشی یا پیشہ ورانہ فائدہ پہنچ رہا ہو، اس ادارے کے ساتھ خیرخواہی، اخلاص اور وفاداری محض اخلاقی تقاضا ہی نہیں، بلکہ ایک شرعی ذمہ داری بھی ہے۔
👈 ادارہ آپ کا محسن ہے؛ اس لیے اس کے لیے دل میں خیرخواہی رکھنا، اس کی بہتری کے لیے سوچنا اور اس کے جائز مفادات کا لحاظ کرنا اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ اسی طرح اس کے منتظمین کے بارے میں بلاوجہ بدگمانی، ان کی نیتوں پر بے دلیل حملے اور ہر معاملے کو منفی زاویے سے دیکھنا، پست ظرفی اور اخلاقی کم مائیگی کی علامت ہے۔
👈 اختلافِ رائے، اصلاحی تنقید اور جائز احتساب اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن خیرخواہی کے جذبے سے خالی تنقید، بدگمانی اور تخریب پسندی کسی بھی صاحبِ کردار انسان کا شیوہ نہیں ہو سکتیں۔
👈 یاد رکھیے! جس ادارے سے آپ نے فائدہ اٹھایا ہو، اس کے ساتھ وفاداری کا تقاضا یہ نہیں کہ آپ اس کی ہر بات کو درست سمجھیں، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں بھی آپ کا رویہ خیرخواہی، دیانت اور انصاف پر مبنی ہو۔ یہی اخلاقِ عالیہ ہیں اور یہی شکرِ احسان کا تقاضا ہے۔
بہ شکریہ مولانا ڈاکٹر نور الرحمٰن
tinyurl.com/Ifadate-Akabir
225000
بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے وعدے کیے ہیں۔ 1... اس نے ان سے نصرت و مدد کا وعدہ فرمایا، چنانچہ فرمایا: اللہ﴿وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ "اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم تھا۔" 2...اور ان سے اقتدار و تمکین کا وعدہ فرمایا، چنانچہ…
262000
بقدر ضرورت علمِ دین سیکھنے کے لیے ایک مطالعاتی نصاب کا خاکہ۔

تجویز کردہ : شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم

ماخوذ از : فتاوی عثمانی

★★★ مطالعاتی نصاب ★★★

محترم ممبران!
شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا طے کردہ‌ نصاب عنوان: بقدرِ ضرورت علمِ دین سیکھنے کےلئے ایک مطالعاتی نصاب کا خاکہ۔

✍ مطلوبہ کتاب کے تعارف کے لئے لنک پر جائیں اور کلک کریں۔صدقہ جاریہ کیلئے اسے دوسروں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔ جزاکم اللّٰہ خیرا۔

نوٹ: دو کتابوں ("بہشتی گوہر" اور "مسائل بہشتی زیور") کی PDF لنک بھی نیچے موجود ہے۔
ڈاؤن لوڈ کرکے مفت پڑھ سکتے ہیں
▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂_▂

❨پہلا حصہ ❩
❨ 01 ❩ حیات المسلمین
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/27418583654511002/919580635638
➖➖➖
❨ 02 ❩ فروع الایمان
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/29476290015288004/919580635638
➖➖➖
❨ 03 ❩‌ تعلیم الدین
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/28524641700509279/919580635638
➖➖➖
❨ 04 ❩ بہشتی گوہر (مردوں کے لئے)
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
۔PDF ڈاؤن لوڈ لنک👇🏻
etidaal.blogspot.com/2026/09/blog-post_28.html
➖➖➖
❨ 05 ❩‌ بہشتی زیور مکمل (عورتوں کے لئے)
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/28015094804839650/919580635638
➖➖➖
❨ 06 ❩ جزاء الاعمال
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/33082681278044285/919580635638
➖➖➖
❨ 07 ❩ سیرتِ خاتم الانبیاءﷺ
【مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ 】
wa.me/p/38907920885461569/919580635638
➖➖➖
❨ 08 ❩ حکایاتِ صحابہؓ
【شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ 】
wa.me/p/38837520762560259/919580635638
➖➖➖
❨ 09 ❩ تاریخِ اسلام
【حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ 】
wa.me/p/28994139216850616/919580635638
➖➖➖
❨ 10 ❩ اسوۂ رسولِ اکرم ﷺ
【حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب عارفیؒ 】
wa.me/p/28589549093984609/919580635638
➖➖➖

❨دوسرا حصہ ❩

❨ 01 ❩ تفسیر عثمانی
【علامہ شبیر احمد عثمانیؒ 】
wa.me/p/28725869177045857/919580635638
➖➖➖
❨ 02 ❩ معارف القرآن
【مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ 】
wa.me/p/28762125206755258/919580635638
➖➖➖
❨ 03 ❩ معارف الحديث
【حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ 】
wa.me/p/25931975026428892/919580635638
➖➖➖
❨ 04 ❩ مسائل بہشتی زیور
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
۔ PDF ڈاؤن لوڈ لنک👇🏻
etidaal.blogspot.com/2026/09/blog-post_720.html
➖➖➖
❨ 05 ❩ علم الفقہ
【حضرت مولانا عبد الشکور صاحب لکھنویؒ】
wa.me/p/27472388459103467/919580635638
➖➖➖
❨ 06 ❩ عقائد اسلام
【حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ】
wa.me/p/28415403124778544/919580635638
➖➖➖
❨ 07 ❩ شریعت و طریقت
【حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ】
wa.me/p/25586104431078191/919580635638
┈┈┈┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈┈┈┈
t.me/SunehriTehriren
tinyurl.com/KitabSeDosti
407000
یہ کہتے ہوئے ان کی خوشی ایسی تھی جیسے دنیا بھر کے خزانے ان کے سامنے رکھ دیے گئے ہوں!
اس لمحے میرے دل پر جو کچھ گزرا، اسے اب لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
اس بندۂ موحد کے یقین کی قوت پر حیران ہوؤں یا اس کی دعا قبول ہونے پر، جیسے حضرت ابراہیم خلیل کی اہلیہ کو تعجب ہوا تھا؟ یا اپنے ایمان اور یقین کی کم زوری پر روؤں؟
اس بندۂ موحد اور اس ایک واقعے نے مجھے وہ سبق دیے جو بعض اہلِ علم کی کتابوں سے اور بعض ان علما سے بھی نہ مل سکے جن کے علم سے میں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ اللّٰہ ان سب پر رحم فرمائے۔
میں پورے دل سے ان کی خوشی میں شریک ہو گیا۔ ان سے میری محبت ایسی ہی تھی جیسی ایک بیٹے کو اپنے باپ سے ہوتی ہے۔
اس کے بعد بھی عبادت اور طاعت میں ان کی محنت کا یہی حال رہا، یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملے۔
اللّٰہ اس عبادت گزار، سچے بزرگ، ابو عبداللّٰہ، عبدالرحمن بن جمیعان بن ضاوی الشتیلی المطیری پر رحم فرمائے، اور اپنی رحمت سے مجھے، انھیں اور آپ سب کو فردوسِ اعلیٰ میں جمع فرمائے۔
اور اللّٰہ اس بندے پر بھی رحم فرمائے جو کہے: آمین!
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]
280000
قرآن ہی تو میری زندگی ہے!... ایک سچا واقعہ

ڈاکٹر عمر عبداللّٰہ المقبل
یہ کوئی خیالی یا تراشیدہ کہانی نہیں کہ اس کی سندیں کتبِ رجال میں تلاش کی جائیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو میرا آںکھوں دیکھا ہے۔
یہ ایک نیک، عبادت گزار بزرگ کا قصہ ہے۔ روضۃ الحسو میں، جہاں میں تقریباً ۱۴۱۲ھ سے ۱۴۲۲ھ تک خطبۂ جمعہ دیا کرتا تھا، ان سے قریب دس برس تعلق رہا۔ اس تحریر سے پانچ برس پہلے ان کا انتقال ہوا؛ عمر نوے برس سے متجاوز تھی۔ اپنے قبیلے میں وجاہت کے اعتبار سے بھی سربرآوردہ تھے اور دین داری کے اعتبار سے بھی۔ میں انھیں ایسا ہی سمجھتا ہوں؛ اللّٰہ کے حضور کسی کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا۔
ایسے بزرگ کم ہی ملتے ہیں۔ اپنے قبیلے میں تو وہ ایک نادر وجود تھے۔ ان عبادت گزاروں کی یادگار، جن کے احوال ہم سنا کرتے تھے اور گذشتہ صدی کے لوگوں میں سے جن کی کچھ مثالیں ہمیں دیکھنے کو بھی ملی تھیں۔
میں نے بہت کم لوگوں کو ان کی طرح کثرت سے قرآن پڑھتے دیکھا ہے۔ باقاعدہ طالبِ علم نہ تھے، البتہ علم اور اہلِ صلاح سے محبت رکھتے تھے۔ اپنے عمل میں اہلِ علم کے احوال سے بڑی مناسبت رکھتے تھے۔ ہر تین دن میں قرآن مجید ختم کرتے۔ بلند آواز سے تلاوت ان کا معمول تھا۔ پڑھتے تو آواز کی گونج ایسی ہوتی کہ کبھی مسجد کے احاطے میں داخل ہونے والا بھی سن لیتا۔
قسم کھا کر کہتے، اور میرے گمان میں سچ ہی کہتے تھے، کہ ان کی محبوب ترین مجلس وہ ہوتی ہے جس میں داعیان دین یا طلبۂ علم ان کے پاس آ بیٹھیں۔ وہ مجلس ان کے لیے گویا شادی کی خوشی ہوتی۔ جو بھی انھیں دیکھتا، ان کے چہرے سے یہ کیفیت پہچان لیتا۔ مسرت چہرے پر جھلکتی اور بشاشت ان کے پورے سراپے سے پھوٹی پڑتی۔
آنکھیں بہت جلد بھر آتیں۔ انھیں رلانا ہو تو کسی نیک بندے کا حال سنا دیجیے، جنت کی نعمتوں کا ذکر چھیڑ دیجیے، دوزخ کے عذاب کی بات کر دیجیے یا ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام کی سیرت سنانے لگ جائیے۔
زندگی کے آخری حصے میں کئی آزمایشوں سے گزرے۔ اہلیہ تقریباً پچیس برس پہلے وفات پا چکی تھیں۔ وفات سے چند برس پہلے ایسے درد لاحق ہو گئے تھے جو انھیں زیادہ دیر سونے نہ دیتے۔ مگر سب سے کڑی مصیبت یہ تھی کہ آنکھوں میں موتیا اتر آیا۔ رفتہ رفتہ اس نے ایسا پردہ ڈال دیا کہ کتابِ الٰہی پڑھنا دشوار ہو گیا۔
اسی حالت میں ایک روز ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ رو پڑے؛ ایسا روئے کہ مجھے بھی رلا دیا۔
میں نے پوچھا: “ابو عبداللّٰہ! کیا ہوا؟”
بولے: “آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے۔ اب قرآن نہیں پڑھ سکتا!”
اپنی عام بول چال میں کہے ہوئے ان لفظوں میں کیسی تڑپ تھی، کیسا دکھ تھا! پھر کہنے لگے:
“اللّٰہ کی قسم، ابو عبداللّٰہ! اس دنیا میں اس قرآن کے سوا میرے پاس ہے ہی کیا جو میرا دل بہلائے! اب اگر میری نظر ہی جاتی رہی تو میں اس دنیا میں کیا کروں گا؟”
کہتے جاتے تھے اور آنسو داڑھی پر ٹپکتے جاتے تھے۔
میں نے عرض کیا: “ابو عبداللّٰہ! خوش ہو جائیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: ‘بندہ جب بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو تو اس کے لیے وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ صحت اور اقامت کی حالت میں کیا کرتا تھا۔’ یہ حدیث حضرت ابو موسیٰؓ سے صحیح بخاری میں مروی ہے۔ آنکھوں کے اس عارضے نے آپ کو تلاوت سے روک دیا ہے لیکن ان شاء اللّٰہ اس کا اجر آپ کو ملتا رہے گا۔ رسول اللّٰہ ﷺ کے وعدے پر بھروسا رکھیے!”
انھوں نے میری بات کاٹ دی۔ آواز رندھی ہوئی تھی اور سچے دل سے نکلے ہوئے لفظ گرم آنسوؤں میں بھیگ رہے تھے:
“مگر مجھے تو چند ہی پارے یاد ہیں، جو بہت پہلے شیخ ابن سالم رحمہ اللّٰہ کے پاس یاد کیے تھے۔ میں تو قرآن ختم کرنا چاہتا ہوں۔ کیا معلوم کب مر جاؤں!”
میں نے کہا: “ابو عبداللّٰہ! اللّٰہ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کی بینائی بحال فرما دے؛ اچھی امید رکھیے”
قارئین! آپ سے سچ کہتا ہوں، یہ بات کہتے ہوئے میرے دل میں پختہ یقین نہ تھا۔ مجھے اللّٰہ کی قدرت میں شک نہ تھا، حاشا! اس لمحے میرے اپنے ایمان اور یقین کی کم زوری تھی۔ عام تجربہ یہی تھا کہ آنکھوں پر ایسا پردہ پڑ جائے تو بینائی کی واپسی مشکل ہوتی ہے۔
میں ان کے پاس سے اٹھ آیا۔ وہ آہستہ آہستہ یہ کلمات دہرا رہے تھے:
“إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔”
کچھ مدت گزری، ایک مہینا تھا یا اس سے زیادہ، اب یاد نہیں۔ حسبِ معمول جمعے کے خطبے کے بعد ان کے پاس گیا تو دیکھا کہ چہرہ خوشی سے دمک رہا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی بےتابی سے خوش خبری سنانے لگے:
“ابو عبداللّٰہ! خوش خبری سنو، خوش خبری! میری آنکھوں کی دھند چھٹ گئی۔ اللّٰہ نے میری دعا قبول کر لی!”
tinyurl.com/Ifadate-Akabir
290002
عربی زبان کے شائقین کے لیے ایک عمدہ واٹس ایپ چینل

🌿 نبذة عن القناة 🌿
نشارك في هذه القناة مختاراتٍ جميلة من الاقتباسات العربية، والفوائد العلمية، والكتابات الإصلاحية، والمنشورات النافعة، كما ننشر مختاراتٍ من كتابات العلماء والأدباء والمفكّرين من العرب وغيرهم، وذلك من حينٍ لآخر حسبما يتيسّر.

📚 كلماتٌ نافعة، وفوائدُ علمية، وخواطرُ جميلة، لكلِّ محبٍّ للعلم والأدب.
https://whatsapp.com/channel/0029VbAx79w9cDDUObigz53t
398000
اختتامی لمحات اور خوشگوار فضا:
تمام سیشنز مکمل ہونے کے بعد دونوں علماء نے انتہائی محبت اور وقار کا مظاہرہ کیا۔ دونوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ چار گھنٹے پر محیط یہ مکالمہ بغیر کسی گالی گلوچ، طنز یا بدتہذیبی کے مکمل سنجیدگی اور علمی ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ دونوں علماء نے تسلیم کیا کہ دونوں اطراف وزنی دلائل موجود ہیں اور کسی نے بھی اپنی مرضی سے یہ موقف نہیں اپنایا ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب نے مولانا صدیق رضا صاحب کو جامعۃ الرشید آنے کی دعوت دی اور باہمی دوستی و رابطے کی تجدید کے ساتھ اس تاریخی علمی مجلس کا اختتام ہوا۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5b5cl6GcG6c2fvnP21
422000
اسی دوران مفتی صاحب نے کوفہ کے ایک شیخ کے حوالے سے امام اعمش کی ایک روایت سنن بیہقی سے پیش کی تھی جس پر مولانا صدیق رضا نے اعتراض کیا کہ اس کا راوی مجہول و مستور ہے۔ مفتی طارق مسعود صاحب نے اس اعتراض کو تسلیم کیا اور اس روایت کو اپنے دلائل کی فہرست سے خارج کر دیا۔

حدیثِ رکانہ اور محمد بن اسحاق پر علمی جرح:
مولانا صدیق رضا صاحب نے الاحادیث المختارہ اور مسند احمد سے حضرت رکانہ بن عبد یزید کی صریح مرفوع حدیث پیش کی کہ انہوں نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں اور سخت غمگین ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیسے دی تھیں، انہوں نے عرض کیا کہ ایک مجلس میں تین دی تھیں، آپ نے صراحت سے فرمایا کہ وہ ایک ہی ہے اور چاہو تو رجوع کر لو۔
اس کے جواب میں مفتی طارق مسعود صاحب نے اس سند کے مرکزی راوی محمد بن اسحاق پر امام احمد بن حنبل اور دیگر ائمہ کی جرح پیش کی کہ وہ جب احکام میں متفرد ہوں تو ان کی روایت حجت نہیں رہتی۔ نیز سند میں داؤد بن الحسین کے عکرمہ سے تفرد کو منکر قرار دیا اور کتاب الام کے طریق میں طلاقِ بتہ کے اضطراب کا حوالہ دیا۔
مولانا صدیق رضا صاحب نے اس کا دفاع کرتے ہوئے حنفی و غیر حنفی ائمہ جیسے علامہ زیلعی، ملا علی قاری، علامہ نیموی اور امین اوکاڑوی کے حوالے دیے کہ محمد بن اسحاق صحیح مسلم کے راوی ہیں اور احکام میں حسن درجے کے ہیں، نیز شعبہ نے انہیں امیر المومنین فی الحدیث کہا ہے۔
مفتی طارق مسعود نے واضح کیا کہ شعبہ نے ان کے حافظے کی بنا پر انہیں امیر المومنین فی الحدیث کہا تھا اور امام احمد نے ان کی جس روایت کو قبول کیا وہ شواہد کی بنیاد پر تھی، خود حدیثِ رکانہ کو کسی امام نے صحیح قرار نہیں دیا۔

صحیح مسلم کی روایتِ ابن عباس اور مرفوع بمقابلہ موقوف:
مولانا صدیق رضا صاحب نے صحیح مسلم کی مشہور حدیث پیش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں، حضرت ابوبکر صدیق کے دور میں اور حضرت عمر کے ابتدائی دور تک تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، بعد میں حضرت عمر نے لوگوں کی جلد بازی دیکھ کر اسے بطورِ سیاست و تعزیر تین نافذ کیا۔ انہوں نے شاہ ولی اللہ دہلوی اور مولانا سرفراز خان صفدر کے اصول پیش کیے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح مرفوع حدیث موجود ہو تو کسی صحابی یا امتی کا موقوف فتویٰ اس کے مقابلے میں حجت نہیں بن سکتا۔
انہوں نے مزید اعتراض اٹھایا کہ احناف حضرت عبداللہ بن عباس کے چار فتاویٰ (نکاح سے قبل طلاق معلق کرنا، بیوی کو حرام کہنا، خلع کی عدت ایک حیض ہونا وغیرہ) پر عمل نہیں کرتے تو پھر طلاق کے معاملے میں ان کے فتاویٰ کو کیونکر حجت بناتے ہیں۔
مفتی طارق مسعود صاحب نے جواب دیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس کا خود فتویٰ یہ ہے کہ تین طلاقوں سے بیوی حرام ہو جاتی ہے اور اگر وہ خود نبی کے دور میں تین کو ایک سمجھتے تو اس کے خلاف فتویٰ کیوں دیتے۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ کی صحیح مسلم والی روایت کی نظیر دی کہ صحابہ کہتے تھے ہم نبی اور ابوبکر کے دور میں متعہ کرتے تھے اور حضرت عمر نے روکا، حالانکہ متعہ کا حکم پہلے ہی منسوخ ہو چکا تھا، اسی طرح تین طلاقوں کا سابقہ حکم بھی منسوخ ہوا۔
مفتی صاحب نے اہل حدیث موقف پر چار بنیادی سوالات داغے کہ اگر مسلم کی حدیث کے مطابق ایک مجلس کی تین ایک ہوتی ہیں تو اہل حدیث کے فتوے میں حالتِ حیض یا طہرِ مجامعت کی تین طلاقیں صفر کیوں ہو جاتی ہیں، اور اگر کوئی شخص رجوع کیے بغیر مختلف مجلسوں میں تین طلاقیں دے تو وہ تین کیوں شمار نہیں ہوتیں۔

پانچ اور تین منٹ کے اختتامی سیشنز:
پانچ منٹ کے سیشن میں مفتی طارق مسعود صاحب نے ائمہ اہل بیت بشمول امام جعفر صادق کے فتاویٰ اور ابن المنذر، ابن قدامہ اور ابوبکر ابن العربی کے اجماعات پیش کیے کہ قرونِ اولیٰ کے سلف اور پوری امت کا اجماع رہا ہے کہ تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں اور اسے ایک قرار دینا بعد کے ادوار اور رافضیوں کا موقف تھا۔
مولانا صدیق رضا صاحب نے اس کے جواب میں سنن ابی داؤد سے عبداللہ بن عمر کی حدیث پیش کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ حیض کی طلاق کو رد فرما دیا تھا اور اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ نبی کریم کی عدالت سپریم کورٹ ہے اور اس کے فیصلے کے بعد کسی امتی کی رائے کی گنجائش نہیں رہتی۔
مفتی طارق مسعود صاحب نے آخری تین منٹ میں وضاحت کی کہ امام ابو داؤد نے خود ابو زبیر کی اس روایت کو منکر قرار دیا ہے اور صحیح بخاری و مسلم میں صراحت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کی حالتِ حیض کی طلاق کو نبی کے عہد میں باقاعدہ شمار کیا گیا تھا۔ انہوں نے پھر سوال دہرایا کہ قرآن و سنت سے کوئی ایک صریح دلیل دکھائی جائے جس میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیا گیا ہو۔
مولانا صدیق رضا صاحب نے اپنے آخری سیشن میں ابو زبیر کی توثیق بیان کی اور کہا کہ ہم نبی کے فیصلے کی پیروی کرتے ہیں جس میں غیر شرعی طلاق کو رد کیا گیا تھا۔
306001
طلاق ثلاثہ پر مفتی طارق مسعود صاحب اور مولانا صدیق رضا صاحب کے مابین مباحثہ:

مقدمہ اور بنیادی ضوابط:
اس علمی مکالمے کا باقاعدہ آغاز ناظمِ مجلس کی جانب سے طے شدہ ضوابط پڑھ کر سنانے سے ہوا۔ مباحثے کا بنیادی عنوان یہ طے پایا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں یا صرف ایک طلاق شمار ہوتی ہے۔ مجلس کو باوقار اور منظم رکھنے کے لیے گیارہ ضوابط مقرر کیے گئے۔

ابتدائی دور اور مفتی طارق مسعود صاحب کا استدلال:
مفتی طارق مسعود صاحب نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سورۃ البقرہ کی آیت الطلاق مرتان اور اس کے بعد کی نصوص سے استدلال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دو طلاقوں کے بعد معروف طریقے سے رکھنے یا چھوڑنے کا حق دیا ہے اور تیسری طلاق کے بعد عورت دوسرے شوہر سے نکاح اور ہمبستری کے بغیر پہلے کے لیے حلال نہیں رہتی۔ ان کا موقف تھا کہ قرآن نے اکٹھی تین یا الگ الگ مجلسوں کی طلاق میں کوئی تفریق نہیں کی ہے۔
اس کے بعد انہوں نے سورۃ الطلاق کی پہلی آیت پیش کی اور کہا کہ شرعی طریقہ یہ ہے کہ طلاق عدت کے اوقات میں دی جائے۔ انہوں نے آیت و من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا کے تحت حضرت عبداللہ بن عباس کا فتویٰ پیش کیا کہ جو شخص اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کی خلاف ورزی کر کے اکٹھی تین طلاقیں دیتا ہے، وہ تقویٰ سے ہٹ جاتا ہے اور اس کے لیے رجوع کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور بیوی جدا ہو جاتی ہے۔
انہوں نے صحیح بخاری و مسلم سے حضرت عویمر عجلانی کے لعان کا واقعہ پیش کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تفریق کرنے سے قبل ہی اکٹھی تین طلاقیں دے کر اپنی بیوی کو چھوڑ دیا اور ائمہ حدیث بشمول امام نسائی اور امام بیہقی نے اس پر تین طلاقوں کے وقوع کا باب باندھا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت قاسم بن محمد عن عائشہ کی روایت پیش کی کہ تین طلاقوں والی عورت دوسرے شوہر کی ہمبستری کے بغیر پہلے کے لیے حلال نہیں ہوتی۔

مولانا صدیق رضا صاحب کا افتتاحی موقف اور جوابی دلائل:
مولانا صدیق رضا صاحب نے اپنی باری میں سورۃ البقرہ کی آیت الطلاق مرتان کی شانِ نزول سنن ترمذی سے بیان کی کہ جاہلیت میں طلاق اور رجوع کی کوئی حد نہ تھی اور لوگ سو بار بھی طلاق دے کر رجوع کر لیتے تھے، جس پر اللہ نے حد بندی فرمائی کہ طلاق دو بار ہے اور اس کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے فقہ حنفی کی کتاب الہدایہ سے حوالہ دیا کہ طلاق کا مستحب و مسنون طریقہ یہ ہے کہ طہر میں ایک طلاق دی جائے اور صحابہ ایک سے زائد طلاق دینے کو ناپسند فرماتے تھے۔
اس کے بعد انہوں نے سنن نسائی سے محمود بن لبید کی حدیث پیش کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا جس نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں تو آپ غضبناک ہو کر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ کیا میرے ہوتے ہوئے اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔
مولانا صدیق رضا نے علامہ سندھی کی شرح نسائی اور اشرف علی تھانوی کی بہشتی زیور کے حوالے پیش کیے کہ غیر مدخولہ کو تین بار طلاق کہنے سے بھی ایک ہی طلاق بائنہ پڑتی ہے۔ انہوں نے موبائل کی مثال دی کہ ایک ہی موبائل کو ہاتھ میں رکھ کر تین موبائل کہنا اسے حقیقت میں تین نہیں بناتا، اسی طرح ایک کلمے یا مجلس میں تین طلاقیں کہنا حقیقت میں ایک ہی رہتا ہے۔
انہوں نے حدیثِ عویمر عجلانی پر حنفی موقف کے خلاف جرح کی کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اکٹھی تین طلاقیں دی گئی تھیں اور آپ نے خاموشی اختیار فرمائی تو پھر فقہ حنفی میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو بدعت، ناجائز اور حرام کیوں قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ نبی کے سامنے ہونے والا عمل تقریری سنت بنتا ہے نہ کہ بدعت۔
tinyurl.com/Ifadate-Akabir

درمیانی ادوار کی بحث اور آثارِ صحابہ کا تبادلہ:
مفتی طارق مسعود صاحب نے جواب دیا کہ لعان میں چونکہ شوہر بیوی پر زنا کی تہمت لگاتا ہے اور رجوع کا امکان پہلے ہی ختم ہو چکا ہوتا ہے، اس لیے وہاں تین طلاقیں دینا خلافِ شرع نہیں رہا تھا۔
اس کے بعد انہوں نے آثارِ صحابہ کا تفصیلی سلسلہ شروع کیا۔ انہوں نے مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق سے حضرت عمر بن خطاب کا عمل پیش کیا کہ جو شخص ایک مجلس میں تین طلاقیں دیتا آپ اسے سزا دیتے اور میاں بیوی کے درمیان جدائی کر دیتے تھے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کے متعدد فتاویٰ پیش کیے کہ جب کسی نے سو طلاقیں یا ستاروں کی مانند طلاقیں دیں تو انہوں نے فرمایا کہ تین طلاقوں نے بیوی کو حرام کر دیا اور باقی گناہ و ظلم ہے۔ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان، عمران بن حصین، ابو موسیٰ اشعری اور مغیرہ بن شعبہ کے فتاویٰ بھی پیش کیے کہ تین طلاقیں نافذ ہو جاتی ہیں۔
248001
شریعت کا توازن اور ہمارا طرزِ عمل

شریعت کی یہ بڑی خوبی اور کمال ہے کہ اس نے تمام احکام کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا، بلکہ فرض، واجب، سنت، مستحب، مباح، حرام، مکروہ اور خلافِ اولیٰ کے مختلف درجات مقرر کیے ہیں. اس درجہ بندی میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں؛ اس سے احکام کی اہمیت، تاکید اور ترجیحات کا شعور پیدا ہوتا ہے اور امت کے لیے دین پر عمل کی راہ میں سہولت اور وسعت پیدا ہوتی ہے.

افسوس یہ ہے کہ بسا اوقات ہم شریعت کے اسی حسین توازن کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور غلط رویوں کا شکار ہو جاتے ہیں. ہم ہر مسئلے کو ایک ہی میزان میں تولنے لگتے ہیں؛ کسی مستحب کو فرض کے برابر اور کسی مکروہ کو حرام کے برابر سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ شریعت نے جس چیز کے لیے جو درجہ مقرر کیا ہے، اسے اسی درجے میں رکھنا چاہیے، یہی بصیرت ہے اور دینی اعتدال کا تقاضا بھی.

کئی بار دیکھنے میں آتا ہے کہ تسبیح و اذکار کے پابند بعض افراد کے یہاں ایسی شدت پائی جاتی ہے کہ کسی مخصوص وقت کا ذکر چھوٹ جانے پر وہ ایسا تاثر دیتے ہیں گویا آدمی نے کوئی لازمی شرعی حکم چھوڑ دیا ہو. اسی طرح بعض لوگ کھانے، لباس، مسجد یا روزمرہ زندگی کے کسی مستحب ادب کو ترک کرنے والے کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے اس نے کوئی فرض ترک کر دیا ہو. یہ رویہ درست نہیں، بلکہ فقہی بصیرت اور احکام کے درجات کو سمجھنے میں کمی کا غماز ہے.

احکام کے درجات کو بھلا دینے کا نتیجہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ فروعی مسائل اور ثانوی چیزوں میں غیر معمولی شدت پیدا ہو جاتی ہے، جب کہ فرائض اور حقوق العباد جیسے بنیادی امور پس منظر میں چلے جاتے ہیں. اس کی بہت واضح مثال نماز سے جڑے بعض فروعی و اختلافی مسائل ہیں. آمین بالجہر، رفع یدین، ایک یا دو سلام کے ساتھ وتر کی ادائیگی، اور اس نوع کے دسیوں مسائل فقہی اختلاف کے دائرے میں آتے ہیں، جب کہ نفسِ نماز کی پابندی اور اس کا اہتمام فرض ہے. مگر ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو تارکِ نماز کی غفلت کو تو برداشت کر لیتی ہے، لیکن ان فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے کو قطعاً برداشت نہیں کرتی؛ اسے گمراہ، بدعتی اور نہ جانے کیا کچھ کہہ دیتی ہے.

یہی وہ موڑ ہے جہاں سے امت میں تفریق، باہمی بدگمانی اور انتشار کا باب کھلتا ہے. جب فروعی جزئیات پر شدت اور اخلاقی و واجب امور میں غفلت بڑھتی ہے، تو عام ذہن اور بالخصوص نئی نسل دین کو لچک دار اور متوازن سمجھنے کے بجائے سخت اور مشکل تصور کرنے لگتی ہے. صحابہ کرام کے طرزِ عمل پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ احکام کے ان درجات سے خوب واقف تھے. کتبِ حدیث میں یہ واقعہ تفصیل سے درج ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب ایک شخص کو رات بھر نوافل و تہجد میں مشغول رہنے کے بعد فجر کی باجماعت نماز سے غائب پایا، تو سخت ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ رات بھر نفل پڑھنے سے زیادہ مجھے یہ محبوب ہے کہ میں فجر کی نماز باجماعت میں حاضر ہوں.

اسی طرح یہ بھی کثرت سے دیکھنے میں آتا ہے کہ ملاقات کے وقت اگر کوئی شخص سلام نہ کرے تو اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے. سلام نہ کرنے والے کے اس عمل کو بے عزتی، بے احترامی اور غیر اسلامی طرزِ عمل قرار دیا جاتا ہے. سلام کرنا بلاشبہ ایک اہم سنتِ نبوی ہے اور ایک مسلمان کے دل میں ہر سنت سے رغبت اور محبت ہونی چاہیے، لیکن سلام پر شدت کے ساتھ زور دینے والوں میں ایک تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے واجب حقوق تک ادا نہیں کرتے. استطاعت اور وسائل رکھنے کے باوجود وہ ان کے کسی کام نہیں آتے، خونی رشتہ داروں کو مصیبت کے وقت تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی تکلیف سے بے نیاز رہتے ہیں. یہ انتہائی افسوس ناک طرزِ عمل ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے دین کے ظاہری اور جزوی پہلوؤں کو اس کے بنیادی تقاضوں پر مقدم کر دیا ہے.

یہ دراصل احکام کی ترجیحات اور درجات کو سمجھنے میں ایک بنیادی غلطی ہے. جس مسئلے میں شریعت نے وسعت رکھی ہو، وہاں وسعت کے بجائے شدت اختیار کرنا، اور جس فرض کے بارے میں سخت تاکید ہے، وہاں غفلت برتنا—دونوں ہی دینی مزاج کے توازن کے خلاف ہیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تھا، تو دعوت و احکام کی اسی ترتیب اور ترجیح کی تعلیم دی تھی کہ پہلے توحید و ایمان، پھر نماز اور اس کے بعد زکوٰۃ و دیگر احکام، ترتیب وار سب کی تعلیم دینی ہے.


اسی تناظر میں ایک اور مثال پیش کرنا ضروری ہے، جس کا تعلق خاص طور پر علما و اساتذہ سے ہے. اس طبقے کے بعض افراد میں یہ چیز پائی جاتی ہے کہ وہ درس و تدریس، مطالعہ اور علمی مشاغل میں اس قدر منہمک ہو جاتے ہیں اور اپنی تدریسی ذمہ داری کو اس قدر خود پر مسلط کر لیتے ہیں کہ اہل و عیال کے واجب حقوق اور ضروریات تک سے غافل ہو جاتے ہیں.
199001
Photo
اکابر کی سوانح و ملفوظات؛ اصول و احتیاط اکابر کی سوانح، واقعات اور ملفوظات جمع کرنا، انہیں محفوظ کرنا اور ان کی نشر و اشاعت کا کام انجام دینا ایک قابلِ قدر اور ضروری کام ہے. بڑوں کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں، ان کے فرمودات مثلِ لعل و جواہر ہوتے ہیں. ان کے کردار…
174000
استاذِ محترم حضرت مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب رحمه الله تعالی فرماتے تھے کہ میں نے اپنے جلیل القدر استاذ حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی قدس سرہ کو صحیح بخاری شریف کے درس میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:

"اچھا مولوی صاحب! اب تو لغات ہی بدل گئی ہیں۔ ہمارے بڑے جب ہمیں کہتے تھے کہ میاں مستقبل کی فکر کرو تو اس کا مطلب آخرت کی فکر کرنا ہوتا تھا، اور اب جب لوگ کہتے ہیں کہ میاں مستقبل (Future) کا خیال کرو تو اس سے مراد پیسہ اور دولت کی فکر ہوتی ہے۔ اچھا صاحب! لغت ہی بدل گئی۔"

بہ شکریہ مفتی عبد الله ولى
http://tinyurl.com/Ulamae-Deoband
517001
Photo
سنو! سنو! ہوا کی پیمائش سے اعمال کے وزن تک (ناصرالدین مظاہری) پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے 👇 etidaal.blogspot.com/2026/09/blog-post.html
313000
سنو! سنو! ہوا کی پیمائش سے اعمال کے وزن تک (ناصرالدین مظاہری) پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے 👇 etidaal.blogspot.com/2026/09/blog-post.html
302000
سنو! سنو! ہوا کی پیمائش سے اعمال کے وزن تک (ناصرالدین مظاہری) پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے 👇 etidaal.blogspot.com/2026/09/blog-post.html
240000
ایک روز امام شعبی رحمہ اللہ نے اپنے گھر والوں کے ساتھ مزاح کیا۔ تو اُن سے کہا گیا: آپ بھی مزاح کرتے ہیں؟! فرمایا : ”ہم باہر بھی علم کی رعایت کریں، ہم اندر بھی علم کی رعایت کریں، تو کیا ہم غم سے مر جائیں؟!“

(حلية الأولياء لأبي نعيم : ٣٢٤/٤)
بہ شکریہ عبد العزیز ناصر
237001

Showing 30 of 100 posts

درجہ بندی

لاگ ان درکار ہے

Frequently Asked Questions

فکرانگیز اور سنہری تحریریں ٹیلیگرام چینل کس بارے میں ہے؟+

فکرانگیز اور سنہری تحریریں (@sunehritehriren) tgdio پر Web series زمرے میں درج ایک ٹیلیگرام چینل ہے۔ اس پروفائل پر رینکنگ، ریٹنگ، ریویوز اور حالیہ پوسٹس دیکھ کر سبسکرائب کرنے سے پہلے فیصلہ کریں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 4,871 سبسکرائبرز ہیں۔

میں فکرانگیز اور سنہری تحریریں (@sunehritehriren) کو ٹیلیگرام پر کیسے جوائن کروں؟+

tgdio پر چینل پروفائل کھولیں، پھر Join / Open in Telegram سے @sunehritehriren پر مفت سبسکرائب کریں۔

کیا فکرانگیز اور سنہری تحریریں اچھا Web series چینل ہے؟+

tgdio پر جوائن سے پہلے فکرانگیز اور سنہری تحریریں کی ریٹنگ، ریویوز، رینکنگ اور پوسٹس دیکھیں۔ اس وقت tgdio پر تقریباً 4,871 سبسکرائبرز ہیں۔ اسی Web series کے دیگر چینلز سے موازنہ کریں۔

فکرانگیز اور سنہری تحریریں کے سٹیٹس اور پوسٹس کہاں دیکھوں؟+

tgdio پر @sunehritehriren صفحہ کھولیں — سبسکرائبرز، رینکنگ، ریٹنگ اور پوسٹس۔ Stats لنک سے گروتھ چارٹ دیکھیں۔