ابتدائی ایام میں یک بارگی توبہ ہی باعث سکینت بن جاتی ہے۔ تائب اِدھر آنسو بہاتا ہے اُدھر معافی کا پروانہ تھما دیا جاتا ہے ۔مگر بعد میں پہروں رونا بھی کفایت نہیں کرتا ، غفلت کے اوقات میں کی گئی ریاضت بھی کم پڑ جاتی ہے۔ ابتدائی ایام میں آدمی شُتر بےمہار ہوتا ہے ، بعد میں سخت گرفت ہوتی ہے ۔ابتدائی ایام میں دل کے معاملات میں برتا گیا جہل کچھ نہیں کہتا ، بعد میں آدمی دل تھام کر رسوائی کے مزے لیتا ہے۔ ابتدا میں راہ خداوندی سھل معلوم ہوتی ہے جوش و خروش عروج پرہوتا ہے مگر بعد میں آدمی انگاروں پر لوٹ پوٹ ہوتا ہے۔ ابتدا میں جہل میں غوطہ خور ہوتا ہے اور بعد میں پاس سے گزرنے پر بھی ایمان کے ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔یہ اہل دل کا عذاب ہے کس نے کہہ دیا ہر کوئی سینے میں دل لیے پھرتا ہے ؟جس قدر شخصیت سنورتی ہے اس قدر ہی دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے اعلی ظرفی وراثت میں نہیں ملتی ، کمانی پڑتی ہے۔ کوئی بھی پیدائش کے ساتھ ہی ذی شعور نہیں ہوتا، یہ دل کا روگ ہی ہے جس سے آدمی میں شعور درآتا ہے ، دل اللہ کے لیے ہے، کوئی اسے کسی اور کے حوالے کرے گا تو ذلت اسکے ماتھے کا جھومر بن جائے گی ۔
علینہ کوثر ✒️









